فیس بک فرینڈز اب اتنے برے بھی نہیں ۔۔۔

فیس بک فرینڈز اب اتنے برے بھی نہیں ۔۔۔
فیس بک فرینڈز اب اتنے برے بھی نہیں ۔۔۔

  



گذشتہ دنوں ایک صاحب سے بات ہوئی تو انھوں نے کہا کہ  انسان کو  ہمیشہ برا سوچنا چاہیے  تاکہ اگر کسی بھی صورتحال میں برے حالات کا سامنا کرنا پڑے تو دکھ نہ ہو کیونکہ پہلے سے ہی یہ سوچا ہوا تھا  کہ یہی ہونا ہے اور اگر اچھا ہو جائے تو پھر تو اور بھی خوشی کی بات ہے کہ غیر متوقع طور پر اطمینان حاصل ہو گیا ۔

مجھ سمیت ہم سب انسانوں کا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم ہر چیز کا مثبت پہلو تو دیکھتے ہی ہیں لیکن اس سے بھی پہلے اس کا منفی پہلو ہمیں خوفزدہ کر دینے کے لئے کافی ہوتا ہے ۔۔ حد سے زیادہ مثبت سوچنا بھی صحت کے لئے اچھا نہیں لیکن ابتدا ہی  منفی رویوں سے کرنا  بھی کہاں کی دانش مندی ہے ؟

یہی حال ہمارے سوشل میڈٰیا کا بھی ہے ، مان لیا کہ اسکے بہت سے نقصانات بھی ہیں  ، ہم وقت ضائع کر رہے ہیں  ، ایک دوسرے کی تحقیر بھی  کر رہے ہیں ،  سوشل میڈٰیا پر جھوٹ ، خود پسندی  اور مصنوعی پن کا ایک جال بھی بنے ہوئے ہیں لیکن اسکے کچھ ایسے فائدے بھی ہیں جو اب تک نظروں سے اوجھل بھی ہیں ۔

آپ نے اکثر سنا ہوگا  کہ احساسات اور اظہار کی دنیا لامحدود اور بہت وسیع ہے ۔ہم جن لوگوں کے ساتھ رہتے ہیں  انھیں بھی روز اپنی محبت کا احساس دلانا ضروری ہے  لیکن کئی دفعہ آپ کو یہ بھی سننا پڑ جاتا ہے  کہ روز روز یہ محبتوں کے ڈرامے کس لئے ،،  کیوں اتنے مکالمے بولے جا رہے ہیں ؟ خیر تو ہے کچھ چاہیے تونہیں؟ 

لیکن فیس بک اسکے برعکس ہے یہاں دنیا ہے الفاظ کی احساسات کی اور اظہار کی ۔۔ آپ کسی سے بھی چیٹ کریں ، آپ بات کریں آپ کے ذخیرہ الفاظ میں اضافہ ہو گا ۔ جبکہ حقیقی دوستوں سے تو اگر آپ کو آدھ گھنٹہ بھی آف موڈ میں بات کرنا پڑ جائے تو  بس لگ پتہ جاتا ہے ۔

اپنے حقیقی دوستوں کے ساتھ آپ ۲۴ گھنٹے  دستیاب نہیں رہ سکتے لیکن فیس بک پر ایسا نہیں ، لوگ علی الصبح بھی آُپ کو سننے کے لئے آن لائن  موجود  ہیں اور رات گئے بھی ۔

فیس بک کے دوست آپ کے لئے نصحیتوں کا پنڈورا باکس نہیں بنتے  ۔۔اگرچہ حقیقی دوستوں کی باتیں اور ہدایات اچھی ہوتی ہیں لیکن کسی وقت بالکل بھی بحث و تکرار کرنے  یا لیکچر سننے کا موڈ نہیں ہوتا ۔ یہ صورتحال  ایف بی فرینڈز پر نہیں  ،، جب دل نہ چاہے مہذب طریقے سے خدا حافظ کہیئے ۔

کسی بھی وقت ہمیں اپنے دوستوں سے ملنا ہو ہمیں ایک ہفتہ تو شیڈول طے کرنے میں ہی لگ جاتا ہے  کہاں ملیں گے  ؟ کب ملیں  گے  ؟ چھٹی کب ملے گی ؟  بیگم ناراض ہے  ۔۔باس خفا ہیں ۔ ابھی نہیں آسکتا لیکن یہاں ایسا نہیں ہوتا  جب چاہیں  ایف بی آن کریں اور گفتگو کا آغاز کر دیں ۔  

کوئی تیاری کی ٹینشن نہیں ۔۔ایف بی فرینڈز کیساتھ آپ کئی مرتبہ زندگی بہت اچھی گذارتے ہیں  کیونکہ عموما ان کو آپ کی ذاتی زندگی سے اتنی دلچسپی نہیں ہوتی  لیکن گپ شپ کر کےآُپ اپنا دل ضرور ہلکا کر لیتے ہیں جو کہ عام حالات میں آُپ نہیں کر سکتے ۔لباس کا انتخاب نہیں کرنا پڑتا ، روپے پیسے کی بچت اور نہ ہی کہیں جانے کی ٹینشن ،وائی فائی آن کریں اور بات شروع کر دیں ۔

سب سے اہم بات یہ کہ فیس بک دوستوں کے لئے آپ کے اندر کوئی جذباتی وابستگی نہیں ہوتی  ۔اتنی بہت سی دنیا ہے وہاں  ، جبکہ عام زندگی میں  کوئی بریک اپ بھی ہوتا ہےتو سال چھ ماہ آپ کو سنبھلنے میں ہی لگ جاتے ہیں ۔

اب اس سب سے آپ یہ مت سمجھ لیں  کہ میں  فیس بک فرینڈز بنانے کی حمایت کر رہی ہوں ، ہر گز نہیں ، آپ کے بہن بھائی ، والدین ، دوست احباب  کیساتھ آپ کے تعلقات  بہت اہم ہیں اور انکا نعم البدل کوئی نہیں   ، لیکن معلوماتی گفتگو کرنے  ، جذبات کو مثبت اظہار دینے میں فیس بک افراد کابھی ہاتھ ہے  ۔۔یہاں مختلف الاخیال افراد ہیں جو چاہتے نہ چاہتے ہوئے بھی آپکی سوچ کو متعین کرنے میں مدد دیتے ہیں ۔آپ یہاں اپنی عمر سے بڑے اور کم عمر لوگوں سے بھی بات کر سکتے ہیں لیکن حقیقی زندگی میں ایسا ممکن نہیں ۔ کیونکہ سب یہی کہتے ہیں کہ اپنے ہم عمر لوگوں سے ہی دوستی کرو ۔  

تاہم سوشل میڈٰیا پر دوست بناتے ہوئے بہت احتیاط کی ضرورت بھی ہے  ، کوشش کریں  کہ پہلے یہ دیکھئیے کہ لوگوں کا رحجان کس طرف ہےاسکے لئے ان کی پوسٹس ، پسند ناپسند  اور ترجیحات کا  جائزہ لیں   پھر ان باکس میں بات شروع کریں  ۔۔ اپنی پرسنل معلومات ایک حد تک شئیر کریں اور  دوسرے لوگوں کو بولنے کا زیادہ موقع دیں ۔

اور سب سے اہم بات جب آپ جان  لیں کہ کون آپ کا اچھا دوست ثابت نہیں ہو سکتا تو بلاک کے آپشن پر فورا سے پیشتر کلک کرنا مت بھولئیے ۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ