’’ رحیم یار خان کے ڈپٹی کمشنر اور ان کے مہمان چولستان میں 14 ہرن شکار کرنے کے بعد فرار ہوگئے ‘‘ محکمہ جنگلی حیات نے تہلکہ خیز دعویٰ کردیا

’’ رحیم یار خان کے ڈپٹی کمشنر اور ان کے مہمان چولستان میں 14 ہرن شکار کرنے کے ...
’’ رحیم یار خان کے ڈپٹی کمشنر اور ان کے مہمان چولستان میں 14 ہرن شکار کرنے کے بعد فرار ہوگئے ‘‘ محکمہ جنگلی حیات نے تہلکہ خیز دعویٰ کردیا

  

رحیم یارخان (ویب ڈیسک) رحیم یار خان کے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے بااثر کاروباری افراد اور 24 مہمانوں کے ساتھ مل کر چولستان میں شکار پر پابندی کی مبینہ خلاف ورزی سے تنازع کھڑا ہوگیا، محکمہ جنگلی حیات کے ضلعی افسر (ڈی ایل او) عاصم کامران نے کہا کہ مذکورہ ڈپٹی کمشنر اور ان کے مہمان اتوار کے روز چولستان میں 14 ہرن شکار کرنے کے بعد فرار ہوگئے۔

ڈان نیوز کے مطابق عاصم کامران نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’ڈپٹی کمشنر علی شہزاد نے ان سے درخواست کی کہ وہ ہفتے کی رات اپنے مہمانوں کے ساتھ ڈیزرٹ سفاری کے بعد عشائیہ کرنا چاہتے ہیں جس پر انہوں نے شکار نہ کرنے کی شرط پر انہیں اجازت دے دی،ڈپٹی کمشنر نے صحرا میں عشائیے کے لیے اسسٹنٹ ڈائریکٹر وائلڈ لائف بہاولپور علی عثمان بخاری سے بھی رابطہ کیا تھا۔

محکمہ جنگلی حیات کے ضلعی افسر کا کہنا تھا کہ ہفتے کی رات ابتدا میں بااثر کاروباری شخص احمد شاہ ہمدانی سرکاری گاڑیوں میں کچھ مہمانوں کے ہمراہ شوریاں کے نزدیک وائلڈ لائف چیک پوسٹ پر پہنچے اس کے کچھ دیر بعد ڈپٹی کمشنر کچھ مہمانوں کے ہمراہ پہنچے۔عاصم کامران کا کہنا تھا کہ کچھ گھنٹوں بعد ان کے ماتحت افراد نے بتایا کہ ڈپٹی کمشنر اور احمد شاہ ہمدانی کی تمام گاڑیاں اپنا راستہ تبدیل کرکے ٹوکن والا وائلڈ لائف چیک پوسٹ کے نزدیک خربارہ کے علاقے کی جانب جارہی ہیں جو چنکارہ ہرن کا علاقہ ہے جس کے بعد محکمہ جنگلی حیات کے عملے نے ان کا پیچھا کیا اور 11 بج کر 35 منٹ پر انہیں جا لیا اس سے پہلے وہ 12 سے 14 ہرن کا شکار کرچکے تھے۔

عاصم کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے فوری طور پر پولیس کو کال کر کے حکام کو اس معاملے سے آگاہ کیا، انہوں نے کہا کہ وہ غیر قانونی شکاریوں کے خلاف فرد جرم لگائیں گے۔

دوسری جانب ڈپٹی کمشنر کے ڈپٹی ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز نے ایک پریس ریلیز کے ذریعے کہا کہ وہ ٹڈی دل کے خاتمے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات یقینی بنانے کے لیے معمول کے دورے پر چولستان گئے تھے، انہوں نے اپنے دورے کے حوالے سے متعلقہ محکموں کو آگاہ کردیا تھا اور اپنے ساتھ افسران کے لیے رات کا کھانا لے کر گئے تھے۔انہوں نے چولستان میں غیر قانونی شکار کی تردید کی اور دعویٰ کیا کہ جب ایک گاڑی نے سنی پل پر ڈپٹی کمشنر اسکواڈ کی ایک گاڑی کو روکا تو ڈرائیور کو لگا کہ ڈاکوؤں کے گروہ نے انہیں روکا ہے۔

مزید :

ماحولیات -علاقائی -پنجاب -رحیم یارخان -