شاعر سر کشیدہ - حبیب جالب

شاعر سر کشیدہ - حبیب جالب
شاعر سر کشیدہ - حبیب جالب

  



تحریر: ڈاکٹر طارق عزیز

حبیب جالب ایک ایسا شاعر جو ظلم و جبر کو نہیں مانتا اور عوامی استحصال کے خلاف ہمیشہ ان قوتوں سے لڑتا رہا جنہوں نے  پاکستان کے نظریہ کے برعکس ملک میں اپنی راج دہانی قائم کی ،اور باآواز اور بےخوف و خطر قائد اور اس نعرہ کی عظمت کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔

پاکستان کا مطلب کیا 

لا الہ الا اللہ

گھر رہنے کو چھوٹا سا 

مفت مجھے تعلیم دلا 

لا الہ الا اللہ

آج کا نظیر اکبر آبادی انقلابی حقیقت کی ایک مثال، سچا عوامی نظریئے کا شاعر ، مخالف ہواؤں دل دریدہ سر کشیدہ جو جانتا تھا کہ حقیقت سے عشق آساں نہیں اور پھر اسی عشق کی پاداش میں کئی بار گریباں چاک ہوا جسکا جرم صرف یہ تھا کہ اسے خبر ہو جاتی تھی۔

غریب کا ساتھی انسان دوست روشن مستقبل شاعر ایک بنجارہ محبوب شاعر جو پڑھے لکھے ، مزدور صنعتی اور کسان کے حقوق کے لیے انہیں پابند سلال بھی ھونا پڑا لیکن عوام کی اور ان کے حقوق کی بقا کے لیے اتنا مضبوط حوصلہ تھا کہ اگر ان کے ایک ہاتھ پر سورج اور سینے پر چٹان اور ذہن پر بجلیاں بھی گرا دی جاتی تو وہ اپنے فرض سے باز نہ آتے۔

حبیب جالب کا انسانی دکھ اس شاعر کا دکھ ہے جس کو کوئی خرید نہیں سکا کوئی لالچ انہیں ڈگمگا نہیں سکی اور کوئی ڈر ان کو اپنے راستے سے بھٹکا نہیں سکا اور انھوں نے اپنے شعروں میں جس درد کو بیان کیا وہ ہر دکھی شخص کی زبان بن جاتا تھا اور شاید اسی وجہ سے انہوں نے صدر ایوب سے لیکر ضیاء الحق تک قید و بند کی سختیاں برداشت کیں مگر وہ تو پاکستان کے لاکھوں لوگوں کا ضمیر تھا جسے کوئی بھی طاقت ان کے حوصلہ کو پست نہ کر سکیں۔

حبیب جالب میں کوئی بناوٹ نہ تھی اور وہ بغیر کسی ہیر پھیر کے اپنی بات کہتے تھے، 

جینے کا حق سامراج نے چھین لیا

اٹھو مرنے کا حق استعمال کرو

محبت ابتدا اور عشق انتہا ھے انسان کے عشق اور محبت سے پرانے روابط ہیں اور یہ ہی جنگوں اور غاروں میں پہلو در پہلو ، اور جب آسمان میں ستاروں پہ جب یہ بستیاں بسیں گی تو وہاں بھی انسان عشق اور محبت کی رسائی سے باہر نہیں ہو سکے گا۔

عشق کے کچھ ضابطے، احاطے، زاوئیے اور دائرے ہوتے ہیں کچھ مہہ جبینوں اور نازنینوں کے عشق میں ھی زندگی بسر کر جاتے تھے اور کچھ دل گداز آشنا حقیقت دک سوز پر سوز دیوانے ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے دل میں ساری خدائی سمائی ہوتی ہے جنہیں انسانوں سے عشق کا آزار اور زندگی سے پیار ہو جاتا ہے اور یہ ہی لازوال عشق ہے جس میں ہجر در ہجر  جدائی در جدائی کے مرحلے ہیں اور اسے اس اسیری سے رہائی نہیں ملتی اور سسکیاں اسے چین سے سونے نہیں دیتی تھیں، ان ہی دکھوں نے اور ان ہی سسکیوں نے جالب کو دیوانہ بنا رکھا تھا. 

غریبوں کے دکھوں کی آہٹ اور کسی مجبور کے آنچل کی سراہٹ،  بےبسی اور غریب کے درد کی آواز  نے ان کو کبھی چین سے سونے نہ دیا اور آمروں نے ان کی آواز کو دبانے کے لیے انہیں پابند سلاسل رکھا لیکن وہ ان کے نظرئیے اور سوچ کو قید نا کر سکے کیونکہ وہ تو آزادی کی خوشبو اور طلوعِ نوِ صبح کی روشنی تھی اور خوشبو کو بیڑیاں اور روشنی کو ہتھکڑیاں نہیں ڈالی جا سکتیں.

جالب نے ہر دور میں روشن حرف لکھے،حق اور سچ کی بات کی کیونکہ سچے لفظوں کی سیج پر تصور کی رفعتیں آرام کرتی ہیں لیکن یہی سچ غاصبوں اور ظالموں کے لیے کانٹوں کابچھونا ھوتا ھے، سچے لفظ  شاعروں ، ادیبوں، دانشوروں، فنکاروں اور سیاست دانوں کے ذہن سے پرواز کرتے ہیں اور مظلوموں کے دلوں کے منڈیر پر  اترتے ہیں. 

جالب ان تخلیق کاروں میں سے ہیں جنہوں نے لفظوں کے چراغ اپنے لہو سے جلاۓ اور پھر ان چراغوں کو وطن عظیم کے پروانوں نے اپنےلہو سے روشن رکھا اور وہ چراغ جو لہو سے جلتے ہیں کبھی کوئی آندھی یا طوفان اس کو نہں بجھا سکتا. 

رستہ کہاں سورج کا کوئی روک سکا ہے

ہوتی ہی کہاں رات کے زنداں میں سحر بند

 حلقہء فکر و فن سعودی عرب نے کئی مرتبہ اس رمز شناش اور درد آشنا کی محفل آراستہ کی ھے جن کی آنکھوں میں عشق بشر نے کیسے کیسے خوابوں کے چراغ رکھ دیے، بھوک و افلاس، جہالت، غربت، محرومی و محکومیت، ظلم و جبر، ناانصافی و نا برابری سے دستکاری کے خواب اور جالب ان خوابوں کے فراق میں مظلوموں کے تصور کی تصویر بن گیا. 

اپنے  بےبس عوام اور محنت کش دہقان کے اچھے دنوں کے خوابوں کے فراق میں اپنی آنکھوں سے خون کے آنسو بہانے والے جالب کے ساتھ چاروں طرف سے امڈ آتے تھے اور آج بھی ان سے دیوانگی کی حد تک عشق کرتے ہیں. 

اس دن کی اور آج کی یہ وابستگی وارفتگی چاہت ان کے نام سے راحت جالب کے دل سے نہیں نا ہی ان کی ذات سے بلکہ ان کے پیمانِ وفا سے ہے جسے آپ نے اپنے لوگوں سے استوار کیا، تو اسے نبھانے کے لیۓ ہر مرحلے سے سرخرو اور سر فراز گزر کیا یہ عشق بشر تھا ، مجبوروں اور مظلوموں سے پیمانِ وفا تھا

ہماری قید سےلمبی نہیں ہے ظلم کی عمر

شاہوں سے جو کچھ ربط نہ قائم ہوا اپنا 

عادت کا بھی کچھ جبر تھا کچھ اپنی زباں بھی تھی

صیاد نے یونہی تو قفس میں نہیں ڈالا

مشہور گلستان میں میری فغاں تھی

ان کے سیاسی رجحانات سے اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن انھوں نے جو کچھ کیا حیرت انگیز حوصلے اور خلوص سے کیا اور یہ ہی حوصلہ انہوں نے ملک کے عوام کو دیا.

آج جس زمانے میں ہم جالب کو خراج تحسین پیش کر رہے ہیں اور ہمارے لب آزاد ہیں اور بلا خوف و خطر اپنا مدعا بیان کر سکتے ہیں یہ زمانہ کسی کا عطا نہیں نہ ہی کسی حادثے کا سبب ہے یہاں تک پہنچنے کے لیے شاعروں دانشوروں نے  جیلیں کاٹیں ہیں اور کئی نامی گرامی سیاست دان پھانسی چڑھے ہیں اور نوجوانوں نے جام شہادت نوش کیا ہے اور کئی اس  زمین سے عشق کرنے والے جلا وطن ہوۓ ہیں اور جو طلوع سحر کے آثار ہمیں نظر آرہے ہیں اس کے لیے جالب کی توانائیاں اور اس کے پیاروں کی خوشیاں لٹی ہیں۔

اب کس پہ ستم اے ستم ایجاد کرو گی

لاہور  کی  گلیو   تم مجھے یاد کرو گی

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ