کرونا کے کیسز بڑھنے کے امکانات ، 11 افراد میں مزید تشخیص ,تعداد 88 ہو گئی ،احتیاطی تدابیر اختیار کریں ، ایک دن میں 200 ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت ہے: وزیراعلیٰ سندھ

کرونا کے کیسز بڑھنے کے امکانات ، 11 افراد میں مزید تشخیص ,تعداد 88 ہو گئی ...
کرونا کے کیسز بڑھنے کے امکانات ، 11 افراد میں مزید تشخیص ,تعداد 88 ہو گئی ،احتیاطی تدابیر اختیار کریں ، ایک دن میں 200 ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت ہے: وزیراعلیٰ سندھ

  

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن )وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہاہے کہ ، کرونا کے کیسز بڑھنے کا امکانا ت ہیں ،ضروری نہیں ہے کہ ہر ایک کو ہسپتال لایاجا ئے ، گھر میں بھی ڈاکٹروں کے مشورے سے آئی سولیشن ہو سکتی ہے ، سندھ میں 27 کیسز سامنے آئے جن میں سے دو ٹھیک ہو کر جا چکے ہیں ،تفتان سے آنے والے 291 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے ، 110 کے نتائج آ گئے ہیں جن میں 50 افراد میں کرونا کی تشخیص ہوئی ہے ، تفتان سے آنے والے زائرن کو سکھر میں لیبر ڈپارٹمنٹ کے فلیٹس میں قرنطینہ کیا گیا ہے ،بنیادی سہولیات فراہم کی گئیں ہیں ، ہم ایک دن میں 200 ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ، کرونا کے ٹیسٹ کرنے والی مشین کو ” پی سی آر “ کہتے ہیں ، ایک وقت میں 45 ٹیسٹ مشین میں ہوتے ہیں اور اس کو مکمل ہونے میں 8گھنٹے لگتے ہیں ، کافی لمبا پراسیس ہے ۔مریض سے تین یا چار فٹ کا فاصلہ رکھیں تو آپ متاثر نہیں ہوں گے۔انہوں نے بتایاکہ مزید 11 کیسز سامنے آ گئے ہیں جس کے بعد تعداد 88 ہو گئی ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کرونا وائرس کے تصدیق شدہ کیسز کے حوالے سے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ جیسے ہی یہ کرونا سامنے آیا ہم نے چین کی فلائٹس بند کر دیں، یہ اچھا فیصلہ تھا ، اس وقت چین سے جو لوگ آ چکے تھے ان میں 34 لوگ کو ٹیسٹ کیا گیا ، ان کے نتائج منفی آئے ، ہمارے پاس ابھی تک چین سے کوئی کیس نہیںآیاہے ۔

انہوں نے کہاکہ پھر 26 فروری کو شام کو ہمیں پتا چلا کہ کراچی میں ایک شخص میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوا ہے ، کراچی کی خبر تھی ایک سیکنڈ میں پھیل گئی ، جب سرکاری اعلان شام کو ہوا تو دو کرونا کے کیسز سامنے آئے ، ایک کراچی میں اور ایک اسلام آباد میں تھا۔اس وقت جو حالات تھے ہم اس وقت تک 393 ٹیسٹ کر چکے تھے یعنی تفتان سے زائرین کے آنے سے پہلے ، ان میں 27 افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ، جن میں سے دو ٹھیک ہو کر گھروں کو چلے گئے ہیں جبکہ باقی 25 زیر علاج ہیں ۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان میں سے کچھ گھروں میں بھی آئی سو لیشن میں ہیں ۔اللہ کا شکرہے کہ سب کے سب ٹھیک ہیں ، ایک دو کو کچھ زیادہ علامات ظاہر ہوئی ہیں ،ہمیں ڈاکٹر نے بتایاہے کہ کوئی خطرے کی بات نہیں ہے ، ان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جنہیں گھروں میں رکھا گیاہے ،اس وائرس کا علاج کوئی بھی نہیں ہے ، یہ کوئی خطرے کی بات نہیں ہے کہ علاج نہیں ہے ، اس سے ہوتا یہ ہے کہ اگر کسی کوہو جائے ہو سکتاہے کہ کچھ بھی نہ ہو اور خود ہی ٹھیک ہو جائے اور اگر آپ کا قوت مدافعت کا نظام ٹھیک ہے تو یہ خود ہی ٹھیک ہو جائے گا ۔

انہوں نے بتایا کہ بین الاقوامی ضوابط کے مطابق جب علامات نہیں ہوتی تو پانچ دن بعد ٹیسٹ کرتے ہیں ، اگر منفی آئے تو پانچ گھنٹے کے بعد دوبارہ ٹیسٹ کرتے ہیں اور اگر دو ٹیسٹ لگا تار منفی آ جائیں تو انہیں ہم ٹھیک ڈکلیئر کردیتے ہیں ۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کرونا کے کیسز بڑھنے کا امکانا ت ہیں ،ضروری نہیں ہے کہ ہر ایک کو ہسپتال لایاجا ئے ۔

انہوں نے مریضوںکی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس جو 27 کیسز ہیں ان میں سے 8 لوگوں کی شام کے سفر کی ہسٹری ہے جبکہ تین دبئی ، ایران کے تین ، سعودی عرب سے پانچ اور قطر کی ہسٹری رکھنے والا ایک کیس آیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جو تین کیس دبئی سے آئے ان میں سے ایک لندن سے بھی ہوکر آیا تھا ، تفتان کے ذریعے ایک بچہ آیا تھا اسے پہلے کوئٹہ لے جایا گیا اور کچھ دنوں بعد اسے تکلیف شروع ہوئی تو اسے فوری ہسپتال لے گئے ، کافی دنوں کے بعد اس کا ٹیسٹ کیا گیا ، ٹیسٹ کا نتیجہ آنے سے پہلے ہی اسے بہتر سہولیات کیلئے وہ لوگ کراچی لے آئے ، جب وہ اسے کراچی لا رہے تھے تو راست میں ان کو پتا چلا کہ ٹیسٹ کی رپورٹ آ گئی ہے اور اس میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے ، یہ ایک کیس مس ہینڈل ہواہے ۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہم ایک دن میں 200 ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ، یہ ٹیسٹ کرنا ضروری نہیں ہے ، ٹیسٹ کر کے اگر آپ منفی بھی آ جائیں تو ہو سکتا ہے کہ اگلے دن ٹیسٹ پازیٹو آ جائے ،سب سے زیادہ ضروری ہے ، آپ ایک دوسرے سے فاصلہ رکھیں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں ، ہم ٹیسٹ ایک حد تک کر سکتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ ہم صرف ان کے ٹیسٹ کر رہے ہیں جن کی ٹریول ہسٹری ہے یا پھر کوئی اگر پازیٹو آیا ہے تو اس کے آس پاس جاننے والوں اور ملنے والوں کے کر رہے ہیں ۔ا ن کا کہناتھا کہ اللہ کرے اور کیسز نہ آئیں لیکن یہ اور بھی آئیں گے ۔

وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ تفتان میں جو ہمارے زائرین ہیں ان میں سے ہمیں بتایا گیا کہ 853 سندھ کے ہیں ، پہلے انہیں 14 دن تفتان میں قرنطینہ میں رکھا گیا لیکن ہمیں 7 سے 8 دن بعد سمجھ آئی کہ قرنطینہ کا یہ مطلب ہے کہ ایک بندے کو ایک کمرے میں 14 روز کیلئے اکیلا رکھا جائے تاکہ وہ کسی سے ملے نہیں کیونکہ اگر وہ اس دوران 13 ویں دن بھی کسی سے ملتا ہے تو اس کا پہلا دن شروع ہو جاتا ہے ۔

مراد علی شاہ کا کہناتھا کہ سندھ میں جو بھی پازیٹو کیس آیا ہے یا آئے گا فوری بتائیں گے ، مہربانی کر کے کسی بھی افواہ پر مت جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ جب قرنطینہ کی یہ صورتحال سامنے آئی تو ہم نے اپنی تیاری شروع کی اور میٹنگ میں فیصلہ کیا کہ جب یہ زائرین سندھ آئیں گے تو ان کو قرنطینہ کریں گے ، ،پھر ہم نے کہا ں کریں تو فیصلہ وہوا کہ سکھر میں لیبر ڈپارٹمنٹ کے 1024فلیٹس موجود ہیں جو کہ تیار ہیں ان فلیٹس میں 2048 کمرے ہیں۔

ان کا کہناتھا کہ پہلے ہمیں بتایا گیا کہ 853 افراد ہیں ، ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم ایک فلیٹ میں ایک بندہ ٹھہرائیں گے تاکہ ان کا آمنا سامنا نہ ہو سکے ، وہاں پر بنیادی سہولتیں دیں اور ان کے کھانے کا انتظام اور ڈاکٹرز کا انتظام کیا ۔تین دن پہلے بتایا گیا کہ وہ تفتان سے چل رہے ہیں اور پہلے بیچ میں 291 لو گ بھیجے ہیں ، ہم نے طریقہ کار یہ رکھا ان کی فیملیز کی ڈیٹیل نکالی اور ہر کسی کو الگ الگ کمرے الاٹ کیے ، یعنی ہر شخص کو فلیٹ دیا گیا ، پوری کوشش کی ، ہم کافی حد تک کامیاب بھی ہوئے ، پھر ہم نے فیصلہ کیا کہ ان سب کا ٹیسٹ کیا جائے ۔ہم نے ان 291 افراد کے ٹیسٹ کیے ،200 ٹیسٹ انڈس ہسپتال کو دیئے جبکہ 91 آغا خان کو دیئے ۔ان میں سے 110 کے رزلٹ آ چکے ہیں جن میں 50 افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جبکہ 60 کے منفی آئے ہیں ۔باقی نتائج بھی آج رات تک آ جائیں گے ، جیسے جیسے نتائج آ رہے ہیں ہم وفاقی حکومت کے ساتھ بھی شیئر کر رہے ہیں َ

وزیراعلیٰ نے بتایاکہ کرونا کے ٹیسٹ کرنے والی مشین کو ” پی سی آر “ کہتے ہیں ، ایک وقت میں 45 ٹیسٹ مشین میں ہوتے ہیں اور اس کو مکمل ہونے میں 8گھنٹے لگتے ہیں ، کافی لمبا پراسیس ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم مشین تو خرید لیں لیکن انہیں چلانے کیلئے لوگ چاہئے ہوتے ہیں جو ان کے ایکسپرٹ ہو تے ہیں ۔

مزید :

Breaking News -اہم خبریں -قومی -