دوحہ معاہدے پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ضرورت

دوحہ معاہدے پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ضرورت

  

افغانستان کے وزیرداخلہ مسعود اندرابی نے خبردار کیا ہے کہ طالبان کے دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے ساتھ تعلقات اب بھی برقرار ہیں اور اگر امریکی افواج جلد بازی میں افغانستان سے نکل گئیں تو اس سے دہشت گردی کے خلاف کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور دنیا کے لئے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ افغان سیکیورٹی فورسز بڑے علاقے پر اپنا کنٹرول برقرار رکھ سکتی ہیں لیکن دور دراز کی چوکیوں پر کنٹرول برقرار رکھنے کے لئے انہیں فضائی مدد درکار ہوگی ان کا کہنا تھا کہ افغان فورسز دارالحکومت کابل، شہروں اور ان علاقوں کے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں جو اس وقت ان کے کنٹرول میں ہیں۔ افغان طالبان نے امریکہ کی یہ پیشکش مسترد کر دی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ طالبان افغان عبوری حکومت میں شامل ہو جائیں اس کے برعکس طالبان کا مطالبہ یہ ہے کہ امریکی فوج افغانستان سے نکل جائے۔طالبان نے عبوری حکومت پر اپنے شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی عبوری حکومت غیر موثر ہو گی۔ طالبان ترجمان محمد نعیم نے عرب میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ وہ کسی عبوری حکومت میں شمولیت پر یقین نہیں رکھتے۔ ماضی میں ایسے تجربات سے کچھ حاصل نہیں ہوا، ان کا کہنا تھا کہ ہم ایسا مضبوط اور آزاد اسلامی افغانستان چاہتے ہیں جس میں ملک اور عوام کے مسائل حل ہوں انہوں نے دوحہ معاہدے پر پوری طرح عمل درآمد کرنے کا مطالبہ کیا۔

افغان وزیر داخلہ کا یہ انٹرویو ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ دوحہ معاہدے پر نظرثانی کر رہا ہے اس معاہدے کی رو سے امریکہ یکم مئی تک اپنے 2500فوجی اہل کاروں کو افغانستان سے نکالنے کا پابند ہے طالبان بھی ہر قسم کے دہشت گرد گروہوں سے اپنا تعلق ختم کرنے کے پابند ہوں گے، اب اگر امریکہ معاہدے پر نظرثانی کرتے ہوئے اس کی بعض شقوں پر عمل درآمد نہیں کرتا تو طالبان کو بھی یہ جواز مل جائے گا کہ وہ بھی جواب میں کچھ شقوں سے دستبرار ہو جائیں۔ پچھلے دنوں امریکی وزیرخارجہ نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ ہماری افواج کے انخلا کے بعد طالبان مزید علاقوں پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے جس کا بالواسطہ جواب افغان وزیر داخلہ نے یہ دیا ہے کہ وہ افغانستان کے بڑے علاقوں پر اپنا قبضہ برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

امریکہ بیس سال تک افغانستان میں رہا یہ طویل عرصہ کسی ملک کو جاننے اور اس کے عوام کی نفسیات کو سمجھنے کے لئے کافی ہے اس لئے اگر امریکہ کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ اس کی افواج کے انخلا کے بعد طالبان مزید علاقوں پر قابض ہو جائیں گے تو یہ زمینی حقائق کے مطابق ہے اس وقت بھی بہت سے ایسے علاقے ہیں جہاں افغان حکومت کی کوئی رٹ نہیں اور جہاں عملاً طالبان کا قانون ہی چلتا ہے اور اس کے نامزد لوگ معمول کی زندگی کو رواں رکھتے ہیں۔ غالباً یہی خوف ہے جو افغان حکومت کو لاحق ہے کیونکہ اس سے زیادہ کون جانتا ہے کہ وہ کن بیساکھیوں پر کھڑی ہے اس وقت افغان حکومت میں جو وزیر، مشیر اور دوسرے عہدیدار ہیں وہ بھی خوب جانتے ہیں کہ جونہی امریکی فوج کابل سے نکلے گی طالبان اپنی قوت دکھانا شروع کر دیں گے اس لئے وہ چاہتے ہیں کہ کسی نہ کسی بہانے امریکہ اتنی فوج افغانستان میں ضرور رکھے جو حکومت کا سہارا بنی رہے ویسے اس مسئلے کا بہترین حل تو یہ تھا کہ دوحہ معاہدے کے تحت بین الافغاں مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا کوئی ایسا حل نکال لیاجاتا جس پر تمام سٹیک ہولڈروں کا اتفاق ہوتا لیکن افغان حکومت کی پہلی ترجیح یہی نظر آتی ہے کہ اگلے کسی سیٹ اپ میں ان کے اقتدار کی ضمانت مل جائے۔طالبان کا خیال ہے کہ وہ کسی نام نہاد عبوری حکومت میں ان عناصر کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتے جن کی وجہ سے افغان عوام بیس سال تک غیر معمولی مشکلات کا شکار رہے اسی لئے وہ امریکی فوج کے انخلا پر اصرار کر رہے ہیں۔ انہیں اپنی قوتِ بازو پر بھی بھروسہ ہے اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ امریکی فوج افغانستان سے نکل گئی تو وہ افغان سیاست میں فیصلہ کن قوت کا کردار ادا کریں گے یہی وہ خوف ہے جس کے زیر سایہ افغان حکومت امریکی فوج سے کہہ رہی ہے کہ ابھی نہ جاؤ، ہمیں چھوڑ کر۔

امریکہ نے اپنے قیام کے دوران افغان فورسز کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی جو بھی کوششیں کیں ان کے وہ نتائج نہیں نکلے جن کی امریکہ توقع کر رہا تھا، اس مقصد کے لئے بھاری بجٹ بھی خرچ ہوا لیکن فوج سے بھگوڑے ہونے والوں کو نہ روکا جا سکا یہ لوگ اسلحے سمیت فرار ہو جاتے رہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج تک افغان فوج کوئی ایسی قوت نہیں بن سکی جو ملک میں امن و امان قائم کر سکے۔ دارالحکومت کو بھی پُرامن نہیں بنایا جا سکا اور وہاں بھی وقتاً فوقتاً دہشت گردی کے بڑے واقعات ہوتے رہتے ہیں طالبان ایسے کسی واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کرتے لیکن ان پر الزام لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے ابھی تک القاعدہ سے اپنے تعلقات ختم نہیں کئے جو دوحہ معاہدے کی ایک بنیادی شرط ہے، یہ معاہدہ افغانوں کے لئے آگے بڑھنے اور اپنے مسائل خود حل کرنے کی جانب ایک سیدھے راستے کی نشاندہی کرتا ہے اگر بین الافغان مذاکرات سنجیدگی سے آگے بڑھائے جاتے تو نیا سیٹ اپ بنایا جا سکتا تھا لیکن افغان حکمران اپنے محدود ذاتی مفادات کو پس پشت ڈالنے کے لئے تیار نہیں ہو رہے اور امریکہ سے کہنا پڑ رہا ہے کہ وہ چلے گئے تو دنیا کے لئے دہشت گردی کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ حالانکہ بہترین حل یہ ہے کہ افغان قوتیں اپنے معاملات خود سنبھالیں جہاں تک طالبان کا تعلق ہے اس حقیقت کا ادراک ضروری ہے کہ انہیں نظر انداز کرکے کسی امن کا خواب نہیں دیکھا جا سکتا وہ عبوری حکومت جیسی ترغیبات میں آنے کے لئے بھی تیار نہیں ایسے میں امریکہ کو دوحہ معاہدے پر نظرثانی کی بجائے اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانے میں کردار ادا کرنا چاہیے۔ طالبان پر الزام تراشی سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔

مزید :

رائے -اداریہ -