دورجاہلیت اور ہمارا میڈیا!

دورجاہلیت اور ہمارا میڈیا!
دورجاہلیت اور ہمارا میڈیا!

  

نیلی آنکھوں والی اس عورت کا اصل نام سُعاد تھالیکن بسوس کے نام سے مشہور تھی۔ یہ عورت زبردست شاعرہ تھی۔ایک دفعہ یہ اپنی بہن کے پاس بطور مہمان گئی۔ ایک پڑوسی بھی ہمراہ تھا جس کے پاس ایک اونٹنی تھی جسے سراب کہا جاتا تھا۔جب یہ لوگ وہاں جا کر ٹھہرے تو اونٹنی کھل گئی اور چرتے ہوئے ایک چراگاہ میں جا گھسی۔ یہ چراگاہ کلیب نامی شخص کی تھی جو قبیلہ تغلب کا ایک معزز اور مغرورسردار تھا۔عام خیال یہ تھا کہ کوئی اونٹ اس کے اونٹوں کے ساتھ نہیں چرسکتا۔جب اس نے دیکھا کہ ایک اجنبی اونٹنی بلااجازت اس کی چراگاہ میں چر رہی ہے تو اس نے فورا اسے تیر مارا جو اس کے تھنوں میں لگا اور اونٹنی اس حال میں ڈکراتی ہوئی واپس آئی کہ اس کے تھنوں سے خون اور دودھ بہہ رہا تھا۔

اونٹنی کے مالک نے دیکھا تو فوراً بسوس کو اطلاع دی اس پر بسوس نے کہا ہائے رسوائی! ہائے مسافرت! پھر چند شعر پڑھے عرب ان اشعار کو ابیات الفناء کہتے ہیں یعنی موت کے اشعار کہ ان اشعار نے ہزاروں لوگوں کی جان لے لی۔ان اشعار کا خلاصہ یہ تھا کہ اگر میں اپنے علاقے میں ہوتی تو میرے پڑوسی کو تکلیف پہنچانے کی کسی کو جرات نہ ہوتی۔اب میں ایسی قوم میں ہوں جن کو پڑوسیوں کے حقوق کا کوئی خیال نہیں ہے۔ یہ اشعار قبیلے کی غیرت پر ایک تازیانے کی حیثیت رکھتے تھے لہذا بسوس کے بھانجے جساس بن مرۃ نے جوش میں آکر کلیب کو قتل کرڈالا۔ کلیب کی قوم بدلے کی طالب ہوئی تو تغلب اور بکر بن وائل میں حرب البسوس نامی جنگ چھڑ گئی جوچالیس سال تک چلتی رہی دونوں جانب کے شعراء اپنے کلام سے جنگ کے شعلے بھڑکاتے رہے اور اس دوران ہزاروں لوگ مارے گئے۔گھرانے اجڑگئے مکانات کھنڈروں میں تبدیل ہوگئے علاقے ویران ہوگئے۔

عرب کا ایک قبیلہ تھا جن کے لمبے لمبے ناک تھے اور اسی وجہ سے انہیں بنوالانف کہا جاتا تھا جس کا مطلب ہے”ناک والے“۔ہماری زبان میں کہا جائے تو ”ناکو“  بنتا ہے۔یہ کسی کو اپنا نام بتاتے ہوئے شرماتے تھے۔یہ لوگ عربوں میں انتہائی کم درجے کے سمجھے جاتے تھے۔ایک دفعہ ان کے قبیلے کے پاس سے مشہور شاعر عرب اعشیٰ کا گذر ہوا قبیلے والوں نے مشورہ کیا کہ کسی طرح اسے خوش کرکے کچھ شعر کہلوا لو تاکہ ہماری بھی کچھ عزت ہونے لگے۔اہل قبیلہ اس کے پاس آئے اور بڑی لجاجت سے درخواست کی کہ وہ ان کے پاس کچھ دن مہمان کے طور پر ٹھہر جائے۔جب اعشیٰ قبیلہ میں پہنچا تو سارے قبیلے نے اس کے اعزاز واکرام میں دن رات ایک کردیا یہاں تک کہ اعشیٰ نے ایک قصیدہ کہا جس میں اس قبیلے کی تعریف کرتے ہوئے کہا”ھم الانف والاذناب غیرھم“ کہ یہ لوگ تو عرب کی ناک ہیں اور باقی تو ان کے مقابلے میں دم کی طرح ہیں۔اب ناک کا لفظ عزت کی انتہا کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے کہ اردو میں بھی جب بے عزتی بتانا مقصود ہو تو کہتے ہیں میری تو ناک کٹ گئی تو شاعر نے عزت والے معنی مراد لیتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ تو اس قدر معزز ہیں کہ گویا عرب معاشرے کی ناک کی حیثیت رکھتے ہیں اور باقی لوگ تو دم کی مانند ہیں۔اعشیٰ کوئی معمولی شاعر نہ تھا اس کا کلام جنگل کی آگ کی طرح پھیلتا تھا۔چند ہی دنوں میں عرب کے بچے بچے کی زبان پراس قبیلے کا نام جاری ہو گیا۔اور یہ قبیلہ جو انتہائی کمتر سمجھا جاتا تھا اب انتہائی معزز شمار ہونے لگا جو لوگ اپنا نام بتاتے ہوئے شرماتے تھے اب وہ فخر سے کہتے کہ ہم بنو الانف ہیں جن کے بارے میں اعشی نے فلاں قصیدہ کہاتھا۔

یہ صرف دو مثالیں ہیں ورنہ حقیقت یہ ہے کہ عربوں کے ہاں کسی قوم یا فرد کی عزت وذلت کا معیارہی شعراء کا کلام تھا۔کسی قوم کے بارے میں شاعر تعریفی کلمات کہہ دیتا تو وہ قوم معزز شمار ہونے لگتی اور کسی قوم کی ہجو کردیتا تو وہ ذلیل سمجھی جانے لگتی۔شعراء کو اس دور میں وہی حیثیت حاصل تھی جو آج کل میڈیا کو ہے۔عرب شعراکی طرح ہمارے ہاں میڈیا وہی کام کررہا ہے۔آپ سونے کی سمگلنگ کرتے ہیں، پراپرٹی مافیا ہیں، مینوفیکچرنگ وغیرہ کا کام کرتے ہیں یا صنعت کار  ہیں اور کسی بھی وقت حکومتی پکڑ کا خطرہ ہے تو بس ایک میڈیا گروپ بنا لیں اور پھر ستے ای خیراں۔میڈیا آپ کی خامیوں کوخوبیوں اور آپ کے دشمن کی خوبیوں کو خامیوں میں اسی طرح تبدیل کر دے گا جس طرح عرب معاشرے میں شاعر کرتے تھے۔صرف پچھلے چار سال کا جائزہ لے لیں۔پچھلے دور میں کسی دوہری شہریت والے کو حکومتی عہدہ نہیں دیا جا سکتا تھا، انہیں الیکشن لڑنے کی اجازت دینا بھی شجر ممنوعہ تھا، مہنگائی اور ٹیکس بڑھانا کرپشن کی علامت تھی، ڈیزل پٹرول مہنگا کرنا منی لانڈرنگ کے زمرے میں آتا تھا،گیس بجلی کی قیمتیں بڑھانا عوام دشمنی تھی اور ہر فعل کا ذمہ دار حاکم وقت تھا لیکن یہی باتیں کرنے والا کپتان جب خود اقتدار میں آیا تو پچھلے دور کے سب ”حرام“ نہ صرف ”حلال“ بن گئے بلکہ ان کی حلالی رفتار بجلی سے بھی بڑھ گئی۔

عرب شعرا کی طرح میڈیا نے پچھلی حکومتوں کی خوبیوں کو خامیوں اور اس حکومت کی خامیوں کو خوبیوں میں اس طرح تبدیل کیا ہے کہ بات حب الوطنی اور غداری تک پہنچ گئی ہے۔جس طرح عرب کے شعراء مختلف قبیلوں کے درمیان جاری لڑائی کواپنے شعروں سے بھڑکاتے اور پیسا بناتے تھے اسی طرح میڈیابھی محض اپنے یا ”اپنوں“ کے مفادات کی خاطر سیاسی جماعتوں کے درمیان بھڑکاتا ہے اور آنے والی ریٹنگ سے خوب پیسا بناتا ہے۔بلکہ ایک لحاظ سے ہمارا میڈیا ان سے دو ہاتھ آگے ہے اور وہ اس طرح کہ اس نے ایک ایسی نسل تیار کر ڈالی ہے جو ہر لحظہ نہ صرف زندہ عورتوں کے دوپٹے تار تار کرنے کو تیار ہے بلکہ مردہ عورتوں کی قبریں کھودنے سے بھی نہیں ہچکچاتی۔

مزید :

رائے -کالم -