کیا یہ ہمارے پارلیمانی نظام کے لئے نیک شگون ہوگا؟

کیا یہ ہمارے پارلیمانی نظام کے لئے نیک شگون ہوگا؟
کیا یہ ہمارے پارلیمانی نظام کے لئے نیک شگون ہوگا؟

  

ہمارے میدانِ سیاست میں گزشتہ ہفتے عشرے میں جو چمتکار ہوئے ان پر ہمارے پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا پر تبصروں، تجزیوں کی بھرمار ہے۔ ہم اپنی طرف سے کوئی نیا تبصرہ کرنے سے قبل قارئین کو اپنے گزشتہ دو کالموں کا حوالہ دینا مناسب سمجھتے ہیں۔ 23 فروری کے کالم میں عرض کیا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ دنیا کے جمہوری ملکوں میں سیاست کی جمع تفریق میں ریاضی کے کلئے لاگو ہوتے ہوں، وطن عزیز کی سیاست میں ایسا ہرگز نہیں ہے یہاں دو جمع دو سے چار کبھی نہیں بنتا۔ ہمیشہ فریقین اپنے لئے دو جمع دو سے چار کی بجائے پانچ ساڑھے پانچ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور دوسرے کو تین ساڑھے تین پر ٹرخانا چاہتے ہیں اسی لئے انتخابی عمل شفاف نہیں رہتے۔ ہر قیمت پر جیتنے کا جنون، قانون، ضابطوں اور جمہوری اقدار کو پامال کرتا چلا جاتا ہے۔ کامیابی کے لئے ہر جائز ناجائز حربہ استعمال کیا جاتا ہے۔ جس کے پاس طاقت ہوتی ہے وہ طاقت استعمال کرتا ہے جس کے پاس دولت ہوتی ہے وہ دولت استعمال کرتا ہے۔ یہ چلن افراد کا بھی ہے۔ جماعتوں کا بھی ہے اور اداروں کا بھی ہے۔ ہم میں جیتنے کی لگن تو ہے مگر ہارنے اور ہار کو تسلیم کرنے کا حوصلہ نہیں۔ اس کے بعد 9 مارچ کے کالم میں لکھا تھا کہ دعوؤں، وعدوں، طعنوں، دھمکیوں، الزاموں، بہتانوں، دشناموں سے آلودہ سیاسی محاذ پر واقعات اتنی تیزی سے رونما ہو رہے ہیں کہ قوم حیرتوں کے سمندر میں غوطہ زن رہنے پر مجبور ہے۔ مادر وطن ایسا خطہ ارضی بن چکا ہے کہ جہاں کبھی کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

اس کچھ بھی میں خیر خال خال اور خرابی ڈھیروں ڈھیر ہوتی ہے۔ حالیہ دنوں میں ہونے والے واقعات کے نتیجے میں قومی اتفاق کم کم اور نفاق جا بجا دکھائی دے رہا ہے۔ تقسیم در تقسیم سے بات آگے بڑھ کر کشیدگی کی منزلیں طے کر رہی ہے۔ پھر یہ بھی اسی کالم میں تحریر کیا کہ سید یوسف رضا گیلانی اور ان کا خاندان کئی بار انتخابی سیاست میں اپ سیٹ کر چکا ہے۔ وہ بغیر پیسہ خرچ کئے الیکشن جیتنے کا ریکارڈ رکھتے ہیں۔ اب بھی انہوں نے وزیر اعظم کے امیدوار (حفیظ شیخ) کو شکست دے کر اپ سیٹ کیا ہے وہ الیکشن لڑنے کا ہنر جانتے ہیں مگر وطنِ عزیز میں کہیں بھی کبھی بھی کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ یہاں دیدہ سے نادیدہ زیادہ طاقتور سمجھے جاتے ہیں۔ سینٹ ہال میں پولنگ بوتھ کے اندر اور اوپر جاسوسی کیمرے ”دیدہ“ کے تعاون اور نا دیدہ کی مرضی کے بغیر نہیں لگ سکتے تھے۔ اگر لگ ہی گئے تھے تو اس کے ذمہ داروں کو کڑی سزا جلد از جلد دینے کا اہتمام ہوتا چاہئے۔ انہوں نے سب سے اعلیٰ جمہوری ادارے کی ساکھ کو تباہ کرنے کا جرم کیا ہے۔ اس المیہ منظر نامے میں مزاحیہ عنصر اس وقت شامل ہو گیا جب ہمارے وزیر اطلاعات و نشریات محترم سینٹر شبلی فراز نے الزام عائد کیا کہ کیمرے تو اپوزیشن نے لگائے ہیں۔ غنیمت ہے کہ انہوں نے اسے بھی سابقہ حکومتوں کی کارستانی قرار نہیں دیدیا ورنہ وہ تو پونے تین سال گزر جانے کے باوجود موجودہ تمام مسائل اور خرابیوں کا ذمہ دار سابق چور ڈاکو حکمرانوں کو قرار دینے کے عادی ہیں۔

چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے انتخابی نتائج پر غور کیا جائے تو کم از کم چیئرمین کے الیکنش میں کوئی ”نادیدہ شگاف“ پڑا نہیں لگتا۔ سینٹ کے سو ارکان میں سے 47 کا تعلق حکمران اتحاد سے تھا جبکہ 53 کا تعلق اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ تھا۔ ایک اپوزیشن سینٹر اسحاق ڈار لندن میں جلا وطن ہیں۔ جماعت اسلامی کے واحد سینٹر نے پارٹی پالیسی کے تحت ووٹ نہیں دیا۔ اس طرح اپوزیشن کے دو ووٹ کم ہو گئے۔ باقی 51 میں سے ایک نے قبلہ تبدیل کیا۔ ایک ووٹ ڈبل مہر کی وجہ سے درست طور پر کینسل ہوا باقی 49 ووٹ بچتے ہیں ان میں سے 7 متنازعہ طور پر مسترد کئے گئے 42 یوسف رضا گیلانی کے حق میں قرار دیئے گئے سرکاری امیدوار کو 48 ووٹ ملے تو یہ کوئی بڑا اپ سیٹ نہیں تھا۔ صرف ایک سینٹر پھسلا اگر نادیدہ پورا زور لگاتے اور سابقہ کارکردگی دہراتے تو پندرہ سولہ ایک بار پھر ادھر سے ادھر کئے جا سکتے تھے۔ اب رہ گیا سوال 7 مسترد ووٹوں کا تو ماضی کے عدالتی فیصلوں اور انتخابی روایات کے مطابق ان کو مسترد قرار دینا، بادی النظر میں نا انصافی ہے۔ اصل مرحلہ اعلیٰ عدلیہ میں اپیل لگوانے کا ہے۔ حکومتی وکلاء کے پاس بہت مضبوط دلیل آئین کی وہ شق ہو گی جس میں کہا گیا ہے کہ ایوان کے اندر ہونے والی کسی کارروائی کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ اگر عدالت عالیہ یا عدالت عظمیٰ نے اپیل سماعت کے لئے منظور کرلی اور میرٹ پر فیصلہ کرنے کا مرحلہ آ گیا تو پریذائیڈنگ افسر کا فیصلہ برقرار رہنا مشکل ہوگا اور سید یوسف رضا گیلانی ایک ووٹ کی برتری حاصل کر لیں گے۔

لیکن کیا یہ ہمارے پارلیمانی نظام کے لئے نیک شگوان ہوگا؟ نظر بظاہر ایسا نہیں ہے۔ حکومت پہلے ہی کارکردگی کے پیمانے پر ناکام چلی آ رہی ہے اس سے اس کو یہ کہنے کا بہانہ مل جائے گا کہ اسے کھیلنے کے لئے ہموار میدان نہیں ملا۔ اپوزیشن کا نمائندہ ہوتے ہوئے سید رضا گیلانی جیسا قد آور چیئرمین سینٹ حکومت کے لئے مشکلات پیدا کر سکتا ہے خصوصاً ان حالات میں کہ حکومت کو ایوان میں سادہ اکثریت بھی حاصل نہ ہو۔ پھر صدر کی غیر موجودگی میں چیئرمین سینٹ قائم مقام صدر ہوتا ہے وہ اپنے دائرہ کار میں رہ کر بھی کچھ ایسے فیصلے کر سکتا ہے جو حکومت کے لئے پریشانی یا پشیمانی کا سبب بن سکتے ہیں۔ دوسری طرف خود چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین میں ”اٹ کھڑکا“ لگا رہے گا۔ دونوں مخالف و متحارب سیاسی قوتوں کی نمائندگی کریں گے۔ اس سے پیدا ہونے والی  صورت حال سے میڈیا کو تو مصالحہ ملتا رہے گا مگر ہمارے جمہوریت نظام کے لئے خطرات بڑھ جائیں گے جو پہلے بھی کئی حادثات کو جنم دے چکے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -