چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کا ایل ڈی اے میں خالی آسامیوں پر تعیناتیوں کا حکم 

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کا ایل ڈی اے میں خالی آسامیوں پر تعیناتیوں کا حکم 

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی)چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹر جسٹس محمد قاسم خا ن نے گرین ایریاز پر بننے والی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران ایل ڈی اے میں خالی سیٹوں پر تعیناتیاں کرنے کے احکامات جاری کردئیے۔فاضل جج نے کہا کہ وزیراعلیٰ کو کہیں کہ ایل ڈی اے میں جتنی سیٹیں خالی ہیں وہاں بندے رکھیں،ایل ڈی اے میں باہر سے لا کر لوگ کیوں لگاتے ہیں، ایل ڈی اے کے افسران کو ترقیاں دیں تو وہ کام بھی کریں گے چیف جسٹس نے مزیدکہا کہ جس نے بھی یہ پابندی عائد کی اسے کہیں کہ اس پر نظر ثانی کرے،سرکاری وکیل کی جانب سے ایل ڈی اے میں ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسران کی رپورٹ پیش کر دی گئی  عدالت نے ایل ڈی اے میں خالی سیٹوں پر تعیناتیاں کرنے کا حکم دیدیا چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کتنی سوسائٹیاں ٹی ایم ایز سے منظور ہوئیں،ٹی ایم ایز سے کہیں رپورٹ دیں، چیف سیکرٹری پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ 122 سکیمیں ٹی ایم ایز سے ایل ڈی اے میں آئی ہیں،اس رپورٹ کیلئے دو ہفتوں کا وقت دیا جائے 2013 ء سے اب تک کی رپورٹ جمع کروا دیں گے ایل ڈی اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ایل ڈی اے قانون میں ہاؤسنگ سکیموں کی تعمیر کا طریقہ موجود ہے لاہور کے ماسٹر پلان کا نقشہ قوانین کے تحت تبدیل کر دیا گیا ہے قانون موجود ہے اگر غلطی ہو گئی تو اس کی درستی کی جا سکتی ہے سیکرٹری ہاؤسنگ نے عدالت کو بتایا کہ کمیشن بنا رہے ہیں سوسائٹیز کے مسائل کو حل کریں گے چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ شہر کے چاروں اطراف قبرستان بنانے کے متعلق کیا اقدامات کئے گئے ہیں؟اس حوالے سے رپورٹ پیش کریں  سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ چار مختلف جگہوں پر زمین کی نشاندہی کر کے سمری بنا کر بھیج دی گئی ہے، ایک ہفتہ تک قبرستان کی زمین مختص کر دی جائے گی، چیف جسٹس نے کہا کہ گرین لینڈ پر لوگوں نے تعمیرات کر لیں ان کا کیا بنا،سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ چیف سیکرٹری نے کہا ہے کہ وہ اس پر قانون سازی کروانا چاہتے ہیں، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ چیف سیکرٹری تو لگتا ہے کام ہی نہیں کرنا چاہتے،یہ قانون سازی کا معاملہ نہیں ہے،قانون کے مطابق ماسٹر پلان کی خلاف ورزی نہیں کی جاسکتی۔ درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ نااہل افراد نے دیگر محکموں سے آکر ایل ل ڈی اے کو تباہ کر دیا، ایک شخص کو چار چار مرتبہ ڈیپوٹیشن پر لایا گیا، ایسے لوگوں کی وجہ سے گرین لینڈ پر غیر قانونی سوسائٹیاں بن چکی ہیں، اس درخواست میں موسمیات گرین ایریاز پر سوسائٹی بنانے کا مسئلہ ہے۔

تعیناتیوں کا حکم 

مزید :

صفحہ آخر -