تشدد‘ دھمکیاں‘ منصور خان سمیت 12 افراد کیخلاف مقدمہ درج کرنیکا حکم 

تشدد‘ دھمکیاں‘ منصور خان سمیت 12 افراد کیخلاف مقدمہ درج کرنیکا حکم 

  

مظفرگڑھ (نامہ نگار) ایڈیشنل سیشن جج مظفرگڑھ اویس احمد ملک نے شہری کی اندراج مقدمہ کی دائر رِٹ پٹیشن پر پی ٹی آئی کے ایم پی اے نوابزادہ منصور احمد خان  سابق ایس ایچ او تھانہ خان گڑھ چوہدری جاوید اختر  سمیت 12 پولیس اہلکاروں و رضاکاروں (بقیہ نمبر33صفحہ 6پر)

 سب انسپکٹر نوید آفتاب  محمداشرف  قلندر حسین   محمد شیراز  محمد حسین ودیگر کیخلاف پولیس تھانہ خان گڑھ میں مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا ہے،خان گڑھ کے محلہ قادر آباد کے اللہ وسایا سیال نے رٹ پٹیشن میں اختیار کئے  گئے موقف میں الزام لگایا کہ وہ ویلڈنگ کا کاریگر ہے اور آٹھ ماہ قبل ایم پی اے نوابزادہ منصور خان کی خان گڑھ میں کوٹھی میں آہنی گیٹ و کھڑکیاں نصب کرنے کا کام کرتا تھا ایم پی اے نے اس کی دس ہزار مزدوری روک لی اس نے کام بند کردیا تو اسے دھمکیاں دی گی بعد ازاں اس وقت کے  ایس ایچ چوہدری جاوید نے رات کو اسے گھرسے گرفتار کرلیا رات بھر تشدد کا نشانہ بنایا جس سے اسکے کندھے کی ہڈی ٹوٹ گی  اسے ہسپتال سے طبی امداد دلوائی گئی بعد ازاں ایک کلو 300 گرام منشیات کا بے بنیاد مقدمہ درج کرکے اسے جیل بھجوا دیا۔ جیل وِزٹ پر سیشن جج مظفرگڑھ عبدالرحمن بودلہ نے اسکی روداد سن کر  فوری حکم جاری کرکے اسکا میڈیکل کرایا تو اس کے کندھے کا فریکچر اور تشدد ثابت ہوگیا وہ ضمانت پر رہا ہو کر آیا ثبوت پولیس تھانہ خان گڑھ کو پیش کئے مگر سابق ایس او عبدالکریم کھوسہ نے مقدمہ درج کرنے سے انکار کردیا۔ جبکہ عدالت نے تحریری شواہد کی روشنی میں پولیس کو جملہ ملزمان کیخلاف مقدمہ درج کرنے کاحکم دے دیا ہے، دریں اثنا ایم پی اے نوابزادہ منصور خان کے ترجمان نے رابطہ کرنے پر بتلایا کہ اللہ وسایا کے الزامات بے بنیادو من گھڑت ہیں ایم پی اے اللہ وسایا کو جانتے تک نہیں نہ ہی وہ انکی کوٹھی پر کام کرتا رہا ہے جبکہ  سابق ایس ایچ او چوہدری جاوید کا کہنا ہے اللہ وسایا  منشیات فروش ہے اسے منشیات سمیت پکڑا گیا اب وہ بے بنیاد الزامات لگارہا ہے۔

مقدمہ

مزید :

ملتان صفحہ آخر -