بچی قتل‘ رشتہ دار وں کے ایک دوسرے پر الزامات

بچی قتل‘ رشتہ دار وں کے ایک دوسرے پر الزامات

  

 کوٹ ادو(تحصیل رپورٹر)دادا پر کالا پتھر پلا کر پوتی کو مارنے کا الزام لگ(بقیہ نمبر54صفحہ 7پر)

 گیا، قتل کا معاملہ نیا رخ اختیار کرگیا،مقتولہ بچی کے والد نے قریبی رشتہ داروں پر زہریلا گنے کا رس پلا کر قتل کرنے کا الزام لگا دیا،وارڈ نمبر 10 کوٹ ادو کے رہائشی عابد حسین مشوری نے اپنی والدہ مقصود مائی،چچا مظہر حسین اور ندیم، نواز اور مہتاب کے ہمراہ پریس کلب کوٹ ادو میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی معصوم بچی کے اصل قاتل قریبی عزیز مدثر اور شاہد ہیں،پولیس سنانواں نے ساز باز کرکے اور جھوٹی کہانی بنا کر مدعیوں کو زبردستی ملزم بنا دیا ہے، عابد حسین نے مزید کہا کہ عرصہ 3سال پہلے اپنی بیوی پروین دختر ملازم حسین اور بیٹی  ایمن ایمان کو اپنے سسرال موضع دایہ چوکھا چھوڑ کرمزدوری کے سلسلہ میں سعودی عرب چلا گیا تھا، 22 جنوری کے روز والد نے اسے اطلاع کی کہ آپ کی بچی ایمن ایمان کو زہریلا گنے کا رس پلا  کر مار دیا گیا ہے اور تمہارے سسر ملازم حسین نے جھوٹی کہانی بنا کر مقدمہ نمبر 39/21 زیر دفعہ 302/324/337/109میرے والد سمیت محمد مہتاب محمد نواب کے خلاف کالا پتھر پلانے کے الزام میں درج کرادیا اور بعد میں میری والدہ اور میری ہمشیرہ کو بھی اس قتل میں ملوث قرار دیا گیا جس پر وہ سعودی عرب سے واپس آیا واپس آکر جب اس نے تحقیق شروع کی تو پتہ چلا کہ شاہد ولد نیاز حسین اور مدثر ولد ریاض حسین نے صلاح مشورہ سے میری معصوم بچی کو نانا کے گھر سے لے جا کر نیاز حسین اور مدثر نے اسے زہر یلا گنے کا رس پلایا جس سے بچے کی حالت خراب ہوگئی اسے ملازم حسین نانا کے گھر چھوڑ کر چلے گئے اسی  اثناء میں معصوم بچی ایمن ایمان نے رو برو حاجی محمد اشرف اور مظہر حسین کے سامنے بتایا کہ اسے شاہد اور مدثر نے زہریلا گنے کا رس پلایا تھا، بچی کو علاج کے لئے لے گئے پھر ٹی ایچ کیو ہسپتال کوٹ ادو لے گئے  جہاں ڈاکٹروں نے اس سے نشتر ہسپتال ریفر کر دیا جہاں 22 جنوری کو اس کی بیٹی ایمان وفات پا گئی، اس کی بیٹی  ایمن ایمان کو مدثر اور شاہد بدفعلی کے لیے گئے تھے وہی اس کے اصل قاتل ہیں، ہماری چیخ و پکار پر سنانواں پولیس نے شاہد کو گرفتار کر لیا، مگر مدثر جس نے اس کی بچی کو زہر پلایا تھا دندناتا پھر رہا ہے، عابد حسین نے الزام عائد کیا کہ پولیس سنانواں  ملزمان کے ساتھ ملی ہوئی ہے جبکہ مدعیوں کو ملزم بنادیا گیا ہے، انہوں نے وزیراعظم عمران خان، وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان خان بزدار، چیف جسٹس سپریم کورٹ سے اپیل کی کہ وہ اس واقعہ کا نوٹس لیں جبکہ پولیس اصل ملزمان کو گرفتار نہیں کر رہی اور نہ ہی صحیح تفتیش کر رہی ہے، پولیس ملزمان سے ملی ہوئی ہے، ہمیں فوری انصاف دلایا جائے بصورت دیگر وہ تھانہ سناواں کے سامنے خود کو آگ لگا لیں گے۔

الزامات

مزید :

ملتان صفحہ آخر -