پنجاب حکومت نے من پسند افسران تعینات کر کے انتخاب متنازعہ بنایا: الیکشن کمیشن 

    پنجاب حکومت نے من پسند افسران تعینات کر کے انتخاب متنازعہ بنایا: الیکشن ...

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی)سپریم کورٹ آف پاکستان میں حلقہ این اے 75ڈسکہ میں دوبارہ انتخابات  کے معاملے پر سماعت آج منگل کو ہوگی۔ جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ سماعت کرے گا۔سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی امیدوار علی اسجد ملہی کی درخواست پر سماعت  ہوگی۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں اپنا  جواب جمع کرا دیا جس میں کہا گیا ہے کہ پنجاب حکومت نے این اے 75 ڈسکہ میں ضمنی الیکشن میں من پسند افسران تعینات کر کے انتخابات متنا ز ع بنائے، ضلعی انتظامیہ امن و امان کی صورتحال کنٹرول کرنے میں ناکام رہی،نتخابات کے دن سنگین تشدد کے واقعات دیکھنے میں آئے، پابندیوں کے باوجود ذوالفقار ورک کو ڈ ی ایس پی ڈسکہ کی اضافی ذمہ داری دی گئی۔  حکومتی عہدیداران، سیکیورٹی ایجنسیز اور سیاسی نمائندوں نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی۔ تحریری جواب میں الیکشن کمیشن نے کہا ہے ضلعی انتظامیہ امن و امان کی صورتحال کنٹرول کرنے میں ناکام رہی۔ ضلعی انتظامیہ کی ناکامی کی وجہ سے انتخابات کے دن سنگین تشدد کے واقعات دیکھنے میں آئے۔ امن و امان کے پیش نظر ڈسکہ میں تقرریوں اور تبادلوں پر پابندی عائد کر رکھی تھی۔ جواب میں کہا گیا ہے کہ پابندیوں کے باوجود ذوالفقار ورک کو ڈی ایس پی ڈسکہ کی اضافی ذمہ داری دی گئی۔ ڈی ایس پی ڈسکہ ذوالفقار ورک الیکشن کمیشن کے طلب کرنے پر پیش نہیں ہوئے۔ ڈی ایس پی ڈسکہ ذوالفقار ورک سے 6 فروری کو چارج لے کر مظہر گوندل کو سونپا گیا۔ ذوالفقار ورک کو دوبارہ سینٹرل سرکل انچارج ڈسکہ کی ذمہ داری سونپ دی گئی۔ الیکشن کمیشن کے عہدیدار نے بتایا کہ 40 حلقوں میں انتخابات کے دوران حالا ت خراب ہوئے۔ قتل اور فا ئر نگ واقعات سے متعلق الیکشن کمشنر نے آئی جی اور چیف سیکریٹری پنجاب کو خط لکھا۔ تحریری جواب میں کہا ہے کہ پنجاب حکومت نے ڈسکہ انتخابا ت میں الیکشن کمیشن کے ساتھ تعا و ن نہیں کیا جس کے بعد الیکشن کمیشن نے انتخابات کالعدم قرار دے کر 10 اپریل کو دوبارہ انتخابات کرانے کا اعلان کیا۔ تحریک انصاف کے امیدو ا رعلی اسجد ملہی نے تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع کرایا جس میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کا امن وامان کی صورتحال خراب ہونے کا مؤقف درست نہیں،  پولنگ اسٹیشنز پربد مز گی کاذمہ دارانتظامیہ اورقانون نافذ کرنیوالے اداروں کو ٹھہرانا غلط ہے۔اسجد ملہی نے اپنے جواب میں کہا الیکشن کمیشن نے بغیر انکوائری کیے اپنا فیصلہ سنایا جبکہ مقامی افراد کو ووٹ نہ ڈالنے دینے کا مؤقف بھی با لکل غلط ہے، جن 54 پولنگ اسٹیشنز سے شکایات موصول ہوئیں وہاں کوئی امن وامان کا مسئلہ نہیں ہوا۔دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کی امیدوار نوشین افتخار نے اپنے جواب میں کہا 20 پریذائیڈنگ افسران کا غائب ہونا تشویشناک عمل ہے، حلقے کے عوام کو حق رائے دہی سے روکا گیا لہٰذا عوام کو ووٹ ڈالنے سے روکنا غیر جمہوری عمل ہے۔تحریری جواب میں کہا گیا ہے الیکشن کمیشن کا حلقے میں دوبارہ انتخابات کرانے کا فیصلہ درست ہے۔علاوہ ازیں الیکشن کمیشن نے اپنے جواب میں کہا کہ ضلعی انتظامیہ امن وامان کی صورتحال کنٹرول کرنے میں ناکام رہی اور ضلعی انتظامیہ کی ناکامی کی وجہ سے انتخابات کے دن سنگین 

ڈسکہ الیکشن

مزید :

صفحہ اول -