کورونا صورتحال، پشاور کے مختلف اضلاع میں کاروباری سرگرمیاں 8بجے بند ہوں گی 

کورونا صورتحال، پشاور کے مختلف اضلاع میں کاروباری سرگرمیاں 8بجے بند ہوں گی 

  

 پشاور (سٹاف رپورٹر)خیبر پختونخوا میں بڑھتے ہوئے مثبت کورونا کیسز اور اس سلسلے میں این سی او سی کے حالیہ فیصلوں کو مد نظر رکھتے ہوئے،حکومت خیبر پختونخوا نے فور ی طور پر تا حکم ثانی متعلقہ شعبوں کیلئے پابندیا ں ہدایات /جاری کی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق  پشاور،چارسدہ، صوابی، نوشہرہ مردان، ملاکنڈ اور سوات میں تمام کاروباری سرگرمیاں اور بازار رات سے 8 بجے بند ہوں گے تاہم میڈیکل اسٹور،کلینکس، ہسپتال، میڈیکل سٹورز، پیٹرول پمپس، بیکریاں،دودھ،کریانہ دکانیں، گوشت، چکن، پھل، سبزیاں اور ریسٹورنٹس سے کھانے لے جانے، پرنٹنگ پریس،پوسٹل/ کورئیر سروسز، زرعی مشینری ورکشاپس، تیل ڈپو اور ایل پی جی آوٹ لیٹس اور فلنگ پلانٹس اس پابندی سے مستثنی ہوں گے۔اسی طرح صوبہ بھر میں ہر قسم کے شادی ہالز، کمیونٹی سنٹرز اور مارکیز بھی بند ہوں گے۔تا ہم کورونا ایس او پیزپرعمل کرتے ہوئے کھلی جگہ پرتقریب میں 300 افراد تک بلائے جاسکتے ہیں۔ ریسٹورینٹس کے اندرکھانا کھانیکی اجازت نہیں ہوگی تاہم ریسٹورینٹس سے ہوم ڈلیوری اورکھانا گھرلے جانے کی سہولت دستیاب ہوگی۔تمام عوامی جگہوں پرفیس ماسک کا استعمال لازمی ہو گا جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ میں بھی کورونا ایس او پیز پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔پشاور، چارسدہ، صوابی، نوشہرہ، مردان، سوات اور ملاکنڈ میں تمام سرکاری و نجی دفاتر میں 50 فیصد اسٹاف کو بلایا جائے گا اور ورک فرام ہوم پرعمل کیا جائے گا۔ تفریحی پارکس کو شام 6 بجے بند کردیا جائے گا۔صوبے میں تمام سنیما اور مزارات بند رہیں گے اور ہر قسم کھیلوں، ثقافتی، دوسری سرگرمیوں اور تقریبات پر بھی مکمل پابندی ہو گی۔جبکہ صنعتی سرگرمیاں اس پابندی سے مستثنی ہو گی۔ضلع انتظامیہ اور پولیس ان پابندیوں پر عمل در آمد کیلئے باہمی تعاون سے کام کریں گے۔جبکہ صوبائی صحت ٹاسک فورس کی 16مارچ 2021کو منعقدہ اجلاس میں تفصیلی غور و خوض کے بعد مذکورہ شعبوں میں اضافی این پی آئیرز نافذ کئے جائیں گے۔مذکورہ ہدایات /پابندیوں کی خلاف ورزی پر متعلقہ قانون کے تحت سخت کاروائی کی جائے گی۔اس امر کا اعلان محکمہ داخلہ و قبائلی امور حکومت خیبر پختونخوا کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیہ میں کیا گیا۔

مزید :

صفحہ اول -