پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی کے ایجنڈے اور ترجیحات میں کراچی شامل نہیں: حافظ نعیم الرحمن

پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی کے ایجنڈے اور ترجیحات میں کراچی شامل نہیں: حافظ نعیم ...

  

 کراچی(اسٹاف رپورٹر)جماعت اسلامی کراچی کے شعبہ نشرواشاعت کے تحت دفتر جماعت اسلامی کراچی ادارہ نورحق میں صحافیوں کے اعزاز میں ظہرانے کی نشست منعقد کی گئی۔نشست سے جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن، نائب امیر کراچی وانچارج میڈیا سیل ڈاکٹر اسامہ رضی،سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری نے بھی خطاب کیا۔نشست میں مختلف اخبارات اور نیوز چینلز سے وابستہ صحافیوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔حافظ نعیم الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی کے ایجنڈے اورترجیحات میں کراچی موجود ہی نہیں ہے،کراچی کے بے شمار مسائل سے کسی کو کوئی دلچسپی نہیں ہے،ایم کیو ایم نے ایک بار پھر کراچی کے عوام کا مینڈیٹ اربوں روپے میں فروخت کرکے پیپلزپارٹی کی ایک نشست میں مزید اضافہ کیا۔ایم کیو ایم نے کوٹہ سسٹم میں میں غیر معینہ مدت تک اضافے اور متنازعہ مردم شماری کی منظوری میں بھی پی ٹی آئی کا ساتھ دیا اور کراچی کی حق تلفی کی راہ ہموار کی،مردم شماری نہ کروانے کے حوالے سے پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی نے بھی اتحاد کیا ہوا ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ فوری طور پر درست مردم شماری اوربلدیاتی انتخابات کروائے جائیں اور سندھ حکومت کا غاصبانہ بلدیاتی ایکٹ ختم کیا جائے، جماعت اسلامی حق دو کراچی تحریک کے ذریعے عوامی مسائل کو اُجاگر کررہی ہے اس سلسلے میں کراچی کے اہم ایشوز کو اجاگر کرکے عوامی رابطہ مہم کو مزید تیز تر کیا جائے گا۔ 28 مارچ کو قائد آباد تا گورنر ہاوس تک ریلی نکالی جائے گی۔جماعت اسلامی بلدیاتی انتخابات میں کامیاب ہوئی تو پہلے سے بڑھ کر عوام کی خدمت کرے گی۔ انہوں نے کہاکہ سینیٹ اور اسمبلیوں میں عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے انسانوں کی منڈی لگائی گئی،حفیظ شیخ پہلے بھی آئی ایم ایف کے نمائندے تھے اور آج بھی ہیں،کراچی کے عوام جانتے ہیں کہ شہر کی تباہی کی بڑی ذمہ دار پیپلزپارٹی ہے، کراچی کے مسائل کے حل کے حوالے سے جماعت اسلامی مسلسل جدوجہد کررہی ہے، عوام چاہتے ہیں کہ جماعت اسلامی ہی بلدیاتی انتخابات کے ذریعے اقتدار میں آئے،جماعت اسلامی معاشرے کے ہرفرد کو اپنے پلیٹ فارم پرآنے کی دعوت دیتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بدترین نظام میں بھی جماعت اسلامی کراچی میں موثر انتخابی قوت کے طور پر موجود رہی ہے۔ جماعت اسلامی نے ماضی میں عوام کی توقعات سے بڑھ کر کام کیا۔ ماضی میں جماعت اسلامی کی جیتی ہوئی نشستوں پر اُ سے ہرادیا گیا۔ 2005 کے سروے کے مطابق عوامی رائے جماعت اسلامی کی حمایت میں تھی اس سے قبل شہر میں بدترین فسطائیت کے ماحول میں جماعت اسلامی جیتی تھی۔ گزشتہ طویل عرصے میں جماعت اسلامی نے مزاحمتی جدوجہد کی ہے۔ پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کے ایم پی ایز اور ایم این ایز نے کیوں مزاحمتی جدوجہد نہیں کی؟ جماعت اسلامی نے ہی کراچی کے عوام کے لیے پینے کے صاف پانی کے لیے منصوبے بنائے۔ انہوں نے کہاکہ کے فور منصوبہ وقت پر مکمل کرلیا جاتا تو آج شہری پانی کی بوند کو نہ ترستے۔ اگر کے فور منصوبہ مکمل ہوتا توشہریوں کو 650 گیلن یومیہ پانی مل جاتا۔ وزیر اعلی نے کے فور منصوبے کو یکدم مسترد کردیا اور اس لاگت پر جو رقم خرچ کی گئی اس کا کوئی حساب نہیں ہے۔ کے فور منصوبے کو مکمل کرنے کے لیے سارے وسائل کراچی کے عوام سے لیے جائیں گے۔ جماعت اسلامی نے بحریہ ٹاون کے خلاف بھی زبردست تحریک چلائی تھی۔ آج بھی بحریہ ٹاون کے دفتر سے چیک نہیں ملتے بلکہ لوگ جماعت اسلامی کے دفتر سے اپنے چیک وصول کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اندرون سندھ میں ہاریوں اور کسانوں سے ان کا حق چھین کر جاگیردار اور وڈیرے عددی اکثریت کی بنیاد پر کراچی پر مسلط ہوتے ہیں۔ گرین لائن کی ذمہ دار وفاقی حکومت ہے،موجودہ حکومت بتائے کہ ڈھائی سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود گرین لائن منصوبہ اب تک کیوں مکمل نہ ہوسکا؟،چھے ماہ گزرنے کے باوجود کراچی کی سڑکوں کی مرمت کا کام بھی نہیں ہوسکا، کراچی کی سڑکوں کی تباہ حالی کی ذمہ دار پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم ہے۔ڈاکٹر اسامہ رضی نے صحافیوں کی آمد پر اُن کا شکریہ ادا کیا اور عوامی مسائل کو اُجاگر کرنے اور صحافیوں کی پیشہ وارانہ خدمات پر اُن کو خراج تحسین پیش کیا۔# 

مزید :

صفحہ آخر -