حکومت بجلی، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کے نرخ بڑھانے سے گریز کرے: ایس ایم منیر 

      حکومت بجلی، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کے نرخ بڑھانے سے گریز کرے: ایس ...

  

 کراچی(اکنامک رپورٹر)یونائٹیڈ بزنس گروپ(یو بی جی) کے سرپرست اعلیٰ اورسابق صدر ایف پی سی سی آئی ایس ایم منیرنے کہا ہے کہ بجلی،گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں مسلسل اضافہ ملکی معاشی کمزوری کا سبب بنے گا اور ملکی صنعتیں بھی پیداواری عمل جاری نہیں رکھ پائیں گی،ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت کو ایکسپورٹ میں اضافے کیلئے برآمدی صنعتوں پر کسی بھی طرح کا دباؤ ڈالنے سے گریز کرنا چاہیئے۔انہوں نے یہ بات گزشتہ روزبزنس کمیونٹی کی جانب سے اپنے اورچیف سیکریٹری سندھ ممتاز علی شاہ کے اعزاز میں دیئے گئے تقریب عشائیہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔تقریب میں سینیٹر عبدالحسیب خان،سردار یاسین ملک،لاہور سے خصوصی طور پر آئے ہوئے معروف صنعتکارایس ایم نصیر،گلزارفیروز، خالد تواب، طارق حلیم،زاہد سعید،فرحان الرحمان،نوراحمدخان، عمرریحان،عبدالوحید،شیخ منظرعالم،اختیاربیگ اوردیگر بھی موجود تھے۔ایس ایم منیر نے کہا کہ چندماہ قبل وفاقی حکومت کی جانب سے پانچ زیرو ریٹیڈ برآمدی صنعتوں کے لیے بجلی کی قیمتوں میں ریلیف کا اعلان کیا گیا تھا جس سے ملکی معیشت اور برآمدات پر مثبت اثرات مرتب ہوئے، 5 زیرو ریٹڈ برآمدی صنعتوں کے لیے بجلی کی قیمتوں میں ریلیف دینے کے اعلان سے ملکی برآمدات سے منسلک صنعتوں کو ریلیف حاصل ہونے کے ساتھ پیداواری لاگت میں کمی، برآمدات و غیر ملکی زرمبادلہ میں اضافہ، بے روزگاری میں کمی اور حکومتی محاصل میں اضافہ ہونے کی توقعات ہیں لیکن  نیپرا نے کے الیکٹرک کیلئے11ماہ کی فیول ایڈجسٹمنٹ کا اعلان کرکے بجلی کے صارفین پرظلم کے پہاڑ توڑ ڈالے ہیں،حکومت ایسے اقدامات سے گریز کرے جس سے عوام اور تجارت وصنعت کیلئے ہیجانی کیفیت پیدا ہو اور اس کے منفی اثرات موجودہ حکومت بالخصوص وزیراعظم عمران خان کی مقبولیت پر پڑیں۔انہوں نے کہا کہ ایک جانب کووڈ19کی وجہ سے انڈسٹری شدید مشکلات کا شکار ہے اوربہت سی چھوٹی صنعتیں ابھی تک سنبھل نہیں پائی ہیں جبکہ برطانیہ سے آنے والی کورونا وائرس کی نئی لہر نے پوری قوم کو خوف میں مبتلا کردیا ہے،کورونا وائرس سے سب سے زیادہ نقصان تجارت وصنعت نے اٹھایا ہے   اور اب ایک بار پھر پنجاب میں کاروبار کو بند کردیا گیا ہے لیکن سڑکوں پر چلنے والے لاکھوں افراد کو ایس او پیز پر عملدرآمدکا پابند نہیں بنایا جارہا،کراچی سے پشاورتک لوگوں کو چاہیئے کہ وہ ازخود ایس او پیز کی پابندی کریں اور ماسک پہنیں کیونکہ کوروناوائرس کا شکار افراد بے پناہ تکلیف کا سامنا کرتے ہیں اور میں خود بھی اس تکلیف کو سہہ چکا ہوں۔انہوں نے چیف سیکریٹری سندھ ممتاز علی شاہ کی خدمات کو سراہا اور کہا کہ ان جیسے بہترین افسران کی ملک کو ضرورت ہے۔انہوں نے سینیٹ کے انتخابات میں منتخب چیئرمین صادق سنجرانی اور ڈپٹی چیئرمین مرزاآفریدی کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ کے انتخابات میں وزیراعظم عمران خان کوبھرپورکامیابی مل گئی ہے اور اب اداروں کو کسی بھی تنازعات کے بغیرملکی معاشی استحکام کیلئے کام کرنا ہوگا،مشکل حالات میں ہمیں ایک ہوکر عمران خان کا ساتھ دینا ہوگا تاکہ پاکستان کے معاشی حالات سنبھل سکیں اور ہم آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے اداروں سے اپنی جان چھڑا سکیں۔

مزید :

صفحہ آخر -