آج استعفوں پر بات ہو گی: مریم نواز، اسکے بغیر لانگ مارچ کا فائدہ نہیں: فضل الرحمن، سربراہی اجلا س میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کرینگے: بلاول بھٹو 

آج استعفوں پر بات ہو گی: مریم نواز، اسکے بغیر لانگ مارچ کا فائدہ نہیں: فضل ...

  

 اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ استعفوں کا معاملہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) اجلاس میں کلیئر ہوجائے گا جبکہ جو استعفوں پر نہیں مانتے انہیں منانے کی کوشش کریں گے۔مسلم لیگ (ن) کا اجلاس نواز شریف کی زیر صدارت ہوا جس میں سیاسی صورتحال، لانگ مارچ اورحکومت مخالف تحریک کو مزید تیز کرنے پرغور کیا گیا۔بعدزاں میڈیا سے گفتگو میں مریم نواز کا کہنا تھاکہ آج قوم کو سمجھ آگئی ہے کہ اداروں پر تنقید اور حملہ کرنا کیا ہوتا ہے؟ حکومت کوالیکشن میں ووٹ نہیں ملے توالیکشن کمیشن کاکیاقصور؟ آپ کی بدترین دھاندلی کے باوجود آپ کو ووٹ نہیں ملے حکومت جاتی ہوئی نظر آرہی ہے۔مریم نواز کا کہنا تھاکہ استعفوں کا معاملہ آج پی ڈی ایم اجلاس میں کلیئر ہوجائے گا، جو استعفوں پر نہیں مانتے انہیں منانے کی کوشش کریں گے، ہم نے بھی ان کی بات مانی ہے،  پی ڈی ایم 10 جماعتوں کا اتحاد بڑے ایجنڈے پر متحد ہے۔ان کا کہنا ہے کہ کل کے اجلاس میں دیکھیں گے مسلم لیگ ن کو کیا حکمت عملی اپنانا ہے، امید یہی ہے کہ پی ڈی ایم کی ساری جماعتیں حالات کی نزاکت سمجھیں گی، عوام نے آواز کے ساتھ ا?واز ملائی ہے یہ بہت حوصلہ افزا بات ہے اور پاکستان ایک بہتر مستقبل کی طرف بڑھے گا۔ نائب صدر مسلم لیگ ن مریم نواز نے حکومت سے کہا ہے کہ عدلیہ اور نیب کے پیچھے کیوں چھپتے ہو، ا?ؤ میدان میں مقابلہ کرو۔لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ نیب نیلاہور ہائیکورٹ میں میری ضمانت کیخلاف درخواست دی ہے، کہا گیا کہ میں بیانات دے رہی ہوں اس لیے ضمانت مسترد کی جائے، اس  سے زیادہ مضحکہ خیز کوئی بات نہیں ہو سکتی، بیانات جانچنے کا اختیار نیب کوکیسے مل گیا؟ آپ نے ذمہ داریاں تبدیل کرلیں؟، ان کیخلاف تو خود مقدمہ درج ہونا چاہیے، نیب کا کام کرپشن کوپکڑ نا ہے ترجمان بننا نہیں، نیب کرپشن پکڑنے میں بری طرح ناکام ہوگیا۔مریم نواز کا کہنا تھا کہ عدلیہ کے کاندھوں پر بندوق رکھ کر چلانے کی کوشش کررہے ہیں، آؤ اور میدان میں مریم نواز کا مقابلہ کرو، کبھی ہائی کورٹ کبھی نیب کے پیچھے کیوں چھپتے ہو، نیب نے ہائیکورٹ میں جھوٹ بولا کہ تحقیقات میں تعاون نہیں کررہی، نیب کو تکلیف ہے کہ میں سیاست میں مداخلت کررہی ہوں، میں آٹا اورچینی چورکو چورکیوں کہتی ہوں، لیکن میں عوام کی نمائندگی کروں گی اور سیاست میں مداخلت پر آواز اٹھاتی رہوں گی، مسلم لیگ خاموش نہیں رہے گی، میں مہنگائی، اقربا پروری، لاہور کو کوڑے کا ڈھیر بنانے، گیس و بجلی چوری کیخلاف بولوں گی۔مریم نواز نے بتایا کہ نیب نے جب بھی بلایا میں گئی، نیب آفس کے باہر کھڑی رہی لیکن انہوں نے دروازے نہیں کھولے، مجھ پر حملہ اور پتھراؤ کیا گیا، اس کے بعد ایک سال ہوگیا ہے نیب نے مجھے نہیں بلایا، تم انتقام میں بھی ناکام ہو گئے ہو تو عدلیہ کے کندھے کو استعمال کر رہے ہو؟، مجھے امید ہے کہ ہائیکورٹ اس درخواست کو نہ صرف مسترد کرے گی بلکہ ایسی مضحکہ خیز درخواستوں کا راستہ روکے گی۔نائب صدر مسلم لیگ ن نے کہا کہ 2 بارجیل کاٹ چکی ہوں، تم مریم نواز کو جیل بھیجنے اور ضمانت مسترد ہونے کی دھمکیوں سے ڈرا نہیں سکتے کیونکہ مریم نواز عمران خان کی طرح ڈرپوک نہیں ہے جو پولیس کے گھیرا ڈالنے پر دیوار پھلانگ کر بھاگ گئے، سیاست دان ہوں تو سیاست تو کروں گی، پہلے دوبار جیل کاٹ ہوچکی ہوں، تیسری بار بھی کاٹ لوں گی، یہ گیڈر بھپکیاں کسی اور کو دینا، پہلے بھی گرفتاریاں الٹی پڑ گئی تھیں، اس بار زیادہ الٹی پڑجائیں گی، اگرمجھے گرفتارکریں گیتونوازشریف لندن سے تحریک چلائیں گے۔مریم نواز نے کہا کہ اس طرح انتقامی کارروائیاں کی گئیں تو ن لیگ خاموش نہیں رہے گی، جو مریم کوکچلنے کے خواب دیکھ رہے ہیں وہ اپنی ڈوبتی کشتی کو بچانے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں، ن لیگ اور پی ڈی ایم حکومت کے ساتھ نہیں بیٹھے گی اور کوئی بات نہیں کرے گی، اس حکومت کی آئینی اور نہ ہی قانونی حیثیت ہے۔مریم نواز نے کہا کہ حکومت جب مشکل میں ہوتی ہے تو کورونا آجاتا ہے، کورونا اپوزیشن کے جلسوں میں آتا ہے حکومت کے جلسوں میں نہیں، عمران خان کورونا سے بڑا خطرہ ہے، کورونا کی ویکسین تو آگئی، عمران خان کی ویکسین یہ ہے کہ عوام ان کومستردکردیں اور اٹھاکر باہر پھینک دیں، اپوزیشن کے پاس لانگ مارچ اور استعفوں کا آپشن ہے  آج پی ڈی ایم کے اجلاس میں استعفوں پر بات ہو گی۔نائب صدر ن لیگ نے مزید کہا کہ حکومت صرف خفیہ چیزوں پر چل رہی ہے، سینیٹ ہال میں خفیہ کیمرے لگانا بڑا معاملہ ہے، کیمرے کس کے کہنے پر کس کے لئے لگائے گئے، قومی اسمبلی سے زبردستی اعتماد کا ووٹ لے لیا گیا، صرف ہمارے لئے نہیں بلکہ ان کے اپنے اراکین کو بھی ان ایجنسیوں سے اٹھوایا گیا ہے۔مریم نواز کا کہنا تھا کہ عمران خان کو گھر بھیجنے تک بیرون ملک نہیں جاؤں گی، حکومت کا مجھے باہربھیجنے کا خواب پورا نہیں ہوگا، جب تک عمران خان اور یہ حکومت اپنے گھر نہیں چلے جاتی تو میں ٹرے میں رکھ کر دئیے گئے ٹکٹ اور پیشکش قبول نہیں کروں گی۔میاں جاوید لطیف کے متنازع بیان سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان زندہ باد ہے اور رہے گا، میاں جاوید لطیف کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا، ان کی حب الوطنی پر کوئی شک نہیں۔

مریم نواز

پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی) پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان  نے کہا  ہے کہ سینیٹ الیکشن میں اداروں کی مداخلت نظر آرہی ہے، چیئرمین سینیٹ کا الیکشن کو انجینیئرڈ تھا، ہمارے جائز ووٹوں کو کیوں مسترد کیا گیا؟، ماضی میں مختلف جماعتوں کے اراکین نے اپنے ووٹ کوغلط استعمال کیا، کسی ایک ممبر کے دغا سے پارٹیوں کی پوزیشن تبدیل نہیں ہوا کرتیں۔پیر کو سربراہ پی ڈی ایم فضل الرحمان نے پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ساری قوم دیکھ رہی ہے کہ سینیٹ ہال کے الیکشن بوتھ میں کیمرے کس نے لگائے اور کس طرح انتظام کیا گیا، کس طرح بے نقاب ہوا، جبکہ دوسری طرف عوام بھی دیکھ رہی ہے کہ مریم نواز کو دھمکیاں دی جارہی ہیں، ان کی ضمانت کو خارج کرنے کیلئے نیب نے عدالت سے رجوع کیا ہے اور دعویٰ یہ ہے کہ مریم نواز اداروں کے خلاف بولتی ہیں، ضمانت پر رہائی کا ناجائز فائدہ اٹھاتی ہیں۔ فضل الرحمان نے کہا کہ نیب اداروں کا ترجمان ہے، نیب کا کام کرپشن اور احتساب پر کام کرا ہے لیکن اداروں کا ترجمان بننا ہمارے دعویٰ کی تصدیق ہوتی ہے، کہ یہ ادارہ طاقتور اداروں کا کٹھ پتلی ہے اور نیب آج ان کا حق نمک ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان حالات میں عدالتیں آخری امید ہیں، سینیٹ انتخابات میں جائز ووٹ کو کیوں مسترد کیا گیا، دو ارب کے ڈیفالٹر کو الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت کیوں دی گئی اور کہا گیا کہ کسی نے اعتراض نہیں کیا جبکہ اگر ہم درخواست جمع کرائیں تو سارے اداروں کی طرف سے آ جاتا ہے کہ آپ نے فلاں فلاح بل جمع نہیں کرائے ہیں، لیکن کیا یہاں پر سارے ادارے اندھے ہو چکے تھے، کیا یہ ذمہ داری صرف مدمقابل امیدوار کی ہی ہے کہ وہ اعتراض جمع کرائے۔ سربراہ پی ڈی ایم نے کہا کہ ملک اس وقت آئین کے مطابق نہیں چل رہا ہے، اب قوم کو ملکی سطح کا کردار ادا کرنا ہو گا جبکہ منگل کو پی ڈی ایم سربراہی اجلاس جس میں اسمبلیوں سے استعفوں کو ایجنڈے میں شامل کیا گیا کیونکہ اگر اس پارلیمنٹ سے استعفے نہ دیئے تو پھر لانگ مارچ کی زیادہ افادیت نہیں ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ 2018کے سینیٹ انتخابات میں چیئرمین کے خلاف عدم اعتماد پر اپوزیشن کے بہت سے ووٹ ادھر ادھر ہو گئے تھے لیکن ڈپٹی چیئرمین پر ووٹ پورے ہو گئے تھے ہمیں دیکھنا ہو گا کہ یہ کون وفاداریاں تبدیل کررہا ہے اور سینیٹ انتخابات انجنرڈ تھے جبکہ کسی ایک ممبر کی دغا سے ہم پی ڈی ایم سے راہیں جدا نہیں کر سکتے ہیں، جمعیت علماء اسلام(ف)پی ڈی ایم کے ساتھ رہے گی، لانگ مارچ کے سوال پر کہا کہ دھرنا کتنے دنوں کا ہونا ہے اس کا فیصلہ پی ڈی ایم نے کرنا ہے لیکن دھرنا ایک دن کا نہیں ہو گا۔

 فضل الرحمن

 حیدر آباد،اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں پریذائیڈنگ افسر پر جانبداری کا الزام عائد کردیا۔حیدر آباد میں میڈیا سے گفتگو میں بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھاکہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم)  کو ضمنی انتخابات میں واضح کامیابی ملی اور چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں بھی  پی ڈی ایم کا امیدوار کامیاب ہوا۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کے امیدوار کو 49 اور حکومتی امیدوارکو 48 ووٹ پڑے لیکن پریذائیڈنگ افسر نے صحیح ووٹ کو منسوخ کرکے اپنے امیدوار کو جتوادیا۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھاکہ عدالت کا فیصلہ آئے گا تو سب کو معلوم ہوجائے گا کہ سینیٹ میں بھی حکومت کو شکست ہوئی۔پی پی چیئرمین کا کہنا تھاکہ کل ہمارا سربراہی اجلاس ہوگا جس میں اگلا لائحہ عمل طے کریں گے۔خیال رہے کہ چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں مسلم لیگ فکشنل کے سینیٹر مظفر حسین شاہ پریذائیڈنگ افسر تھے۔چیئرمین سینیٹ کیلئے حکومتی امیدوار صادق سنجرانی کو 48 اور یوسف رضا گیلانی کو 42 ووٹ ملے جس کے بعد صادق سنجرانی چیئرمین سینیٹ منتخب ہوگئے۔7 ووٹرز نے یوسف رضا گیلانی کے نام کے اوپر مہر لگائی جس کی وجہ سے یہ ووٹ مسترد ہوئے۔ ایک ووٹ اس لیے مسترد ہوا کیوں کہ دونوں امیدواروں کے آگے مہر لگائی گئی تھی۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ جائز ووٹوں کو مسترد کرکے شارٹ ٹائم کے لیے کرسی سنجرانی کو دلوائی گئی ہے عدالت میں جائیں گے اور عدالتوں کے مطابق فیصلہ ہو چکا ہیپی ڈی ایم کے فیصلوں کا ہم حصہ ہیں، چیئرمین سینیٹ کے انتخابات میں پی ڈی ایم  کامیاب ہوئی ہے، ان کا کہنا تھا کہ 49ووٹ آپ کے ہیں توجیت بھی آپ کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 48ووٹ والے کی جیت نہیں ہو سکتی ہے،چیئرمین پی پی بلاول بھٹو نے واضح طور پر کہا کہ آپ نشان پرمہرلگاتے ہو  یا نام پر، دونوں صورتوں میں ووٹ جائز ہے، انہوں نے کہا کہ ہم پی ڈی ایم کے فیصلوں کا حصہ ہیں،ایک سوال پر چیئرمین پی پی بلاول بھٹو نے کہا کہ عدالت میں جائیں گے اور ہمیں امید ہے کہ عدالت انصاف کے ساتھ فیصلہ سنائے گی۔

بلاول

مزید :

صفحہ اول -