پی ڈی ایم اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی، عدم اتفاق کے باعث لانگ مارچ مؤخر ہونے کاخدشہ 

پی ڈی ایم اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی، عدم اتفاق کے باعث لانگ مارچ مؤخر ...
پی ڈی ایم اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی، عدم اتفاق کے باعث لانگ مارچ مؤخر ہونے کاخدشہ 

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی،عدم اتفاق کے باعث لانگ مارچ موخر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا،پاکستان پیپلز پارٹی نے ایک مرتبہ پھر سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی سے مشاورت کیلئے مہلت مانگ لی۔اگر بڑی دو جماعتوں(پیپلز پارٹی اور ن لیگ) میں سیاسی رنجش برقرار رہی تو حکومت مخالف تحریک کیسے چلے گی؟ مولانا فضل الرحمان نے کل(بدھ کو ) اپوزیشن کو حتمی فیصلے کے لئےایک بار پھر بلالیا ہے۔

نجی ٹی وی کے مطابق اسلام آباد میں مسلم لیگ ن کی میزبانی میں پی ڈی ایم کاسربراہی اجلاس ہوا جس میں  پیپلز پارٹی نے موقف اپنایا  کہ  استعفوں کے معاملے پر  پارٹی سے مزید مشاورت ضروری ہے  اور اس کیلئے  پیپلز پارٹی نے ایک مرتبہ پھر سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی(سی ای سی) سے مشاورت کیلئے مہلت مانگ لی ہے۔اس حوالے سے آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ  جو بھی موقف پیش کیا ہے وہ سی ای سی فیصلوں کی روشنی میں بیان کیا ہےاور استعفوں کے معاملے پر پارٹی سے مشاورت بہت ضروری ہے۔

اجلاس کے دوران  جے یو آئی، (ن) لیگ سمیت دیگر جماعتوں نے واضح موقف اپنایا کہ استعفوں کے بغیر  لانگ مارچ کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا  جب تک استعفے نہیں دینگے  حکومت کو دباؤ میں نہیں لایا جاسکتا۔ ذرائع نے  اجلاس کی  اندرونی کہانی بیان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ  پاکستان پیپلزپارٹی اور (ن) لیگ کے درمیان سینٹ میں اپوزیشن لیڈر کے معاملے پر بھی اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں،  پیپلزپارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ ہ ایوان میں اکثریتی جماعت کو ہی اپوزیشن لیڈر بننے کا حق دیا جائےاس پر (ن) لیگ اور دیگر جماعتوں نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیئرمین، ڈپٹی چیئرمین اور اپوزیشن لیڈر کے حوالے سے ایک حتمی مشاورت ہوچکی تو پھر نیا مطالبہ کیوں کیا جارہا ہے؟ ۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ  پیپلز پارٹی کے بعد جے یو آئی نے بھی قائد حزب اختلاف کی نشست پی ڈی ایم اجلاس میں معافی مانگ لی ہے، مولانا  فضل الرحمان نے پیپلز پارٹی پر واضح کیا کہ وہ  صرف اپنی جماعت کو نہیں پوری  اپوزیشن کے موقف کو سامنے رکھے  ،استعفوں کے معاملے پر نو جماعتیں  ایک طرف ہیں اور پیپلز پارٹی دوسری طرف ہے۔انہوں نے کہا کہ  سینٹ میں قائد حزب اختلاف کی سیٹ جے یو آئی کو ملنی چاہیے  اوراس کے لئے  مولانا عبدالغفور حیدری بہترین امیدوار ہیں  جبکہ پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ف) کے موقف کے برعکس مسلم لیگ (ن) نےکہا ہے کہ  قائد حزب اختلاف  مسلم لیگ (ن) سے ہوگا اور اس پر سب کو متفق ہونا پڑے گا۔  ذرائع نے بتایا ہے کہ  اس موقف کے حوالے سے  (ن) لیگ نے  قائد حزب اختلاف کیلئے سعدیہ عباسی اور اعظم نزیر تارڑ کا نام بھی دے دیا ہے جبکہ پیپلز پارٹی نے  یوسف رضا گیلانی کو قائد حزب اختلاف بنانے کے موقف پر ڈٹ گئی ۔

مزید :

قومی -