پیپلز پارٹی نے استعفوں کا فیصلہ نہ کیا تو ۔۔۔احسن اقبال نے اپنا دل کھولتے ہوئے آصف زرداری کو فیصلہ کن موڑ پر کھڑا کردیا 

پیپلز پارٹی نے استعفوں کا فیصلہ نہ کیا تو ۔۔۔احسن اقبال نے اپنا دل کھولتے ...
پیپلز پارٹی نے استعفوں کا فیصلہ نہ کیا تو ۔۔۔احسن اقبال نے اپنا دل کھولتے ہوئے آصف زرداری کو فیصلہ کن موڑ پر کھڑا کردیا 

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)مسلم لیگ ن کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہا ہے کہ دھاندلی کی بنیاد پر کھڑے کئے گئے نظام پر استعفوں کی کاری ضرب نہ لگی تو یہ حکومت نہیں جائے گی ،پیپلزپارٹی مشاورت کے بعد بھی اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا فیصلہ نہیں کرتی تو  تاریخی جدوجہد کی ناکامی کا ملبہ نہیں اٹھا پائے گی ،اب گیند پیپلز پارٹی کی کورٹ میں ہے،پیپلز پارٹی کو یہ آپشن بھی دیا ہے کہ اسمبلیوں سے مرحلہ وار استعفے دیئے جائیں تاکہ سندھ حکومت بھی برقرار رہے،مہینوں نہیں ہفتے دو ہفتے میں پیپلز پارٹی فیصلہ کر کے بتائے کہ وہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم ) کی تاریخی جدوجہد کا حصہ رہنا چاہتی ہے یا نہیں ؟۔

نجی ٹی وی 'جیو نیوز' کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم ایک کسی جماعت کا مجموعہ نہیں بلکہ اس کے اندر دس جمہوری جماعتیں شامل ہیں جن کے پیش نظر یہ نہیں ہے کہ وہ حکومت کو نکال کر خود اقتدار میں آنا چاہتی ہیں،ہم سب کے پیش نظر یہ بات ہے کہ 72 سال کے اندر اگر پاکستان اپنی اساس پر کھڑا نہیں ہو سکا تو ہم اس کو درست کریں ،نواز شریف نے بھی اجلاس میں  کہا کہ آج آپ یہ فیصلہ کیجیئے کہ کیا آپ کے پیش نظر صرف حکومت بدلنا ہے،وزیراعظم یا وزیراعلیٰ بننا ؟میں تین دفعہ وزیراعظم رہ چکا ہوں اور میں آپ کو یہ بتلا رہا ہوں کہ جیسے حکومتیں چلائی جاتی ہیں ویسے نہیں چل سکتی ،پاکستان تنزلی کی طرف ہی رہے گا لہذا ہم نے ری سیٹ کرنا ہے اور وہ ری سیٹ اپنے مطابق نہیں کرنا آئین کے مطابق کرنا ہے،ہمیں اینڈ گیم کے لئے کوشش کرنی ہے،اس میں کوئی قربانی دینا پڑتی ہے تو دینی چاہئے ۔

احسن اقبال نے کہا کہ اب نو جماعتوں کا یہ خیال تھا کہ لانگ مارچ اس صورت میں موثر ہو گا جب ہم ساتھ ہی اسمبلیوں  سے استعفوں کا اعلان کریں چونکہ  اس سے ایک اتنا بڑا بحران پیدا ہو گا ،جب آپ چار سو سیٹوں سے مستعفیٰ ہوں گے تو ضمنی الیکشن نہیں ہو سکتا پھر جنرل الیکشن ہی ہونگے اور اگربحران سے نکلنے کے لئے جنرل الیکشن چاہئیے تو وہ پھر اس پیکج پر ہونگے جب سب جماعتیں اتفاق کریں گی ،آزاد اور شفاف الیکشن کے لئے،جب تک اس نظام پر جو دھاندلی کی بنیاد پر کھڑا کیا گیا ہے،استعفوں کی ایک کاری ضرب نہیں لگی تو یہ نہیں گرے گا ،نوجماعتیں ایک طرف تھیں لیکن پیپلز پارٹی کی قیادت نے کہا کہ وہ ابھی استعفوں کے لئے تیار نہیں لہذا آخر میں مولانا فضل الرحمان نےاُنہیں کہا کہ ہم آپ کو یہ موقع دیتے ہیں کہ آپ اپنی سی ای سی کے پاس جائیں اور آپ ہمیں بتلائیں کہ کیا آپ پی ڈی ایم کے اس فیصلے کے ساتھ متفق ہیں یا پی ڈی ایم سے اپنی راہ جدا کرنا چاہتے ہیں ؟۔

اُنہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ایک بڑی جماعت ہے اور اس کا جمہوری پس منظر ہے،اسے موقع دیا جائے کہ وہ یکسو ہو اپنے اندر اور اس تاریخی جدوجہد میں شامل ہو ،اگر خدانخواستہ پی ڈی ایم ٹوٹتی ہے یا اس میں کوئی طاقت کم ہوتی ہے کسی ایک جماعت کی تو یہ بھی بڑا ایک تاریخی حادثہ ہو گا اور جس پر بھی یہ ملبہ گرے گا وہ تاریخ میں یہ ملبہ نہیں اٹھا سکے گا ،ہمارےلئے لانگ مارچ کے اہداف ضروری ہیں ،وہ ہم تھوڑا موخر بھی کر سکتے ہیں لیکن اس اتحاد کو قائم رکھنا اور اس جدوجہد کو منطقی انجام تک پہنچانا اتنا ہی ضروری ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے کہا ہے کہ وہ جلد ہی اپنی سی ای سی کا اجلاس بلائیں گےتاہم اُنہوں نےکوئی ٹائم فریم نہیں دیا لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ مہینوں اس مشاورت میں لگ جائیں ،ہم امید کرتے ہیں کہ وہ جلد ہفتے دو ہفتے میں سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس بلا کر پھر پی ڈی ایم کی لیڈر شپ کو اپنے فیصلے سے آگاہ کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ جہاں تک اسمبلیوں کا حال ہے آپ نے چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں دیکھ لیا ہے ،ہم سب کا یہ ویو ہے کہ ان اسمبلیوں کے اندر عدم اعتماد کی تحریک کامیاب کرنے کی ایک ہی شرط ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سے بات کی جائے ،اگر آپ ریاستی اداروں کے کھیل میں شامل ہو کر عدم اعتماد لانا چاہتے ہیں تو شائد ہو سکتا ہے لیکن اگر آپ خود سے کرنا چاہتے ہیں تو جو اس وقت نمبرز ہیں وہ ناممکن ہے ،اگر آپ کے نمبرزپورے ہوں بھی تو ان کو بھی اقلیت میں تبدیل کردیا جاتا ہے،آپ نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں یہ دیکھ لیا ہے ۔

ایک سوال کے جواب میں احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کو آج سب نے اتفاق رائے سے کہا ہے کہ وہ اس بارے میں ضرور فیصلہ کریں کہ کیا وہ پی ڈی ایم کے فیصلوں کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں یا وہ اپنی راہیں جدا کرنا چاہتے ہیں ؟اب گیند پیپلز پارٹی کی کورٹ میں ہے،ہم سمجھتے ہیں کہ وہ یقینا اس تاریخی موقع اور تاریخی جدوجہد میں شامل رہنا چاہیں گے کیونکہ یہ جدوجہد پورے پاکستان کے عوام کی پراپرٹی ہے ،ہم اس ملک میں ایک آئینی اور جمہوری جدوجہد کر رہے ہیں اور خدانخواستہ اس میں ناکام ہوتے ہیں تو جو بھی اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا اس پر یہ ملبہ بہت بھاری ہو گا ۔

انہوں نےکہا کہ مولانا فضل الرحمان آج کےاجلاس کےبعدمایوس نہیں تھے،ہمارا یہ خیال تھاکہ ہم آج لانگ مارچ کاحتمی فیصلہ کرنےکےساتھ اُسکی جزیات بھی طےکریں گےلیکن پیپلز پارٹی کےاس انکار کے بعد ساری جماعتوں کی جو تیاری اورجو خواہش تھی ایک لحاظ سے موخر ہوئی ہے،آپ اسے ڈس اپوائنٹ منٹ تو کہہ سکتے ہیں مایوسی نہیں کہہ سکتے ،ہماری عوام کےساتھ جو کمٹمٹ  اور عوام کی اس نظام کو تبدیل کرنے کی جو  کمٹمٹ ہے اُس کے بارے میں کوئی کمی نہیں ہوئی ۔

احسن اقبال نےکہاکہ ہم نےپیپلزپارٹی کو یہ آفرزبھی دےرکھی ہےکہ اگروہ مرحلہ وار استعفےدیناچاہتےہیں توپہلےفیز کےاندرہم سب مل کرقومی اسمبلی سے مستعفی ہوسکتے ہیں اور پھر اس کےبعدصوبائی اسمبلی کافیصلہ کرسکتےہیں،اس آپشن میں اُنکی سندھ حکومت برقرار بھی رہ سکتی ہےلیکن یہ فیصلہ اب پیپلز پارٹی کو کرنا ہےکہ کیا وہ پی ڈی ایم کی جماعتوں کے اس فیصلے کو آنر کرنا چاہتی ہےیا علیحدہ کسی حکمت عملی کے تحت چلنا چاہتی ہے؟۔ 

مزید :

اہم خبریں -قومی -