ہندوﺅں کا قدیم زمانہ ۔۔۔اورجب آرین نے شمالی ہند پر تسلط قائم کرنا شروع کیا

ہندوﺅں کا قدیم زمانہ ۔۔۔اورجب آرین نے شمالی ہند پر تسلط قائم کرنا شروع کیا
ہندوﺅں کا قدیم زمانہ ۔۔۔اورجب آرین نے شمالی ہند پر تسلط قائم کرنا شروع کیا

  

مصنف : ای مار سڈن 

 ایک ہزار برس قبل مسیح سے 200 برس قبل مسیح تک ہندوﺅں کا قدیم زمانہ کہا جا سکتا ہے۔ دراوڑ، کول، تورانی اور دوسرے قدیم باشندوں کے ساتھ آرین کے مل جل جانے سے ہندوﺅں کی بہت سی قومیں بن گئی تھیں۔ ذاتوں کی تمیز بھی عمل میں آ گئی تھی۔ برہمن پجاری اور پروہت تھے۔ وید کے پراچیں (قدیم) دیوتا اور آرین کے اپنے سیدھے سادے عقائد فراموش ہو چکے تھے۔ ویدک زبان بھی متروک ہو گئی تھی۔ اس کی جگہ برہمنوں کی تحریری علمی زبان سنسکرت تھی۔ عوام کی زبان مختلف قسم کی پراکرت تھی جس سے آج کل کی مروجہ زبانیں نکلی ہیں۔

 قدیم آرین زمانے میں ہر گھر کا مالک و مربی اپنی اور اپنی اولاد کی طرف سے اگنی اور اندر دیوتاﺅں کی پوجا کیا کرتا تھا۔ وہ خود اور اس کے بیٹے پوتے زمین جوتتے تھے یا کپڑا بنتے تھے۔ چھوٹے لڑکے مویشیوں کی خدمت کرتے تھے۔ عورتیں دودھ دوہتی تھیں۔ چرخہ کاتتی تھیں یا گھر کے اور دھندے کرتی تھیں۔ لڑائی کے وقت مرد تلوار اور تیر و کمان لے کر دشمن سے لڑنے جاتے تھے۔ قوم کا سب سے بہادر اور عاقل آدمی ان کا سردار یا سپہ سالار بنتا تھا۔ سردار دیوتاﺅں سے دعا کرتا تھا کہ لڑائی کے وقت وہ ان کی مدد کریں اور لڑائی ختم ہونے پر ان کا شکریہ ادا کرتا تھا۔

 جب آرین نے شمالی ہند پر تسلط قائم کرنا شروع کیا تو آئے دن جنگ و جدال رہنے لگی۔ خاندانوں کے بزرگوں اور قوم کے سرداروں کو اتنی فرصت نہ ملتی تھی کہ وہ وید کے منتر اور دیوتاﺅں کی اُستتیں (تعریفیں) یاد کرتے۔ پس ہر قوم میں چند ایسے اشخاص مقرر کیے گئے جن کا فرض پوجا پاٹ کا کرنا کرانا تھا اور اس کے سوا ان کے ذمے اورکوئی کام نہ تھا۔ رفتہ رفتہ قوم کے باقی افراد ان کو نہایت مقدس اورمتبرک خیال کرنے لگے۔ ان کا ایک نیا فرقہ بن گیا جو برہمن کہلانے لگا۔

 اس زمانے میں سرداروں اور ان کی سپاہ کو کھیتی باڑی یا کسی اور کام کی فرصت نہ ملتی تھی۔ پس قوم کے سب سے بہادر آدمی جنگ و جدال کے لیے مقرر کیے گئے۔ قوم کا سردار ان کا سپہ سالار ہوتا تھا اور راجہ کہلاتا تھا۔ ہوتے ہوتے یہ بھی ایک جدا فرقہ ہو گیا اور کھشتری کہلانے لگا۔ مدت دراز تک کھشتری اور برہمن ہم پلہ اور ہم رتبہ رہے۔ آخر میں برہمن اول درجے پر ہوئے اور کھشتری دوم درجے پر۔

 قوم کے باقی لوگ جو زمین کی کاشت کرتے تھے یا کپڑا بنتے تھے یا اور کام کرتے تھے، ویش کہلائے۔ یہ ہندی آرین کا تیسرا فرقہ تھا۔

 چوتھا فرقہ جو سب سے زیادہ تھا اسے شودر کہتے تھے۔ ان میں ان قدیم آرین کی اولاد شامل تھی جنہوں نے اصلی باشندوں کی عورتوں سے شادی کر لی تھی اور وہ اصلی باشندے جو آرین کے ساتھ مل جل کر ایک ہو گئے تھے۔

 جو وحشی قومیں آرین کے ساتھ نہ ملیں اور مغلوب ہوئیں، وہ غلامی کی حالت میں آگئیں اور سب سے نیچی ذات قرار پائیں۔ یہ لوگ چنڈال کہلاتے تھے۔ ان کو بستیوں کے اندر رہنے کی اجازت نہیں تھی۔ اس لیے آبادی کے باہر جھونپڑیاں ڈال کر رہتے تھے۔

 اس طرح ایک زمانے کے بعد وہ قوم بنی جس کو ہندو کہتے ہیں۔اس کو اس صورت میں آئے ہوئے کم سے کم 3ہزار برس ہو گئے ہیں۔

 ہندوﺅں کے بہت سے گروہ تھے۔ ہر گروہ کا جدا راجہ، جدے برہمن، جدے کھشتری، جدے ویش، جدے شودر اور جدے چنڈال تھے۔ بڑے بڑے شہر آباد ہوئے۔ مندر بن گئے۔ نئے نئے دیوتاﺅں کی پوجا ہونے لگی۔ ان پرانے شہروں میں ایک کاشی یا بنارس تھا۔ جو لوگ ایک ہی پیشہ کرتے تھے ان کی ایک علیحدہ ذات ہو گئی۔ ہوتے ہوتے سینکڑوں ذاتیں بن گئیں، جو اب تک موجود ہیں۔ ایک ذات دوسری ذات کا کام کرنے کی مجاز نہیں ہے۔ ایک ذات کے لوگ نہ دوسری ذاتوں کے ساتھ کھاتے ہیں نہ شادی کرتے ہیں۔ ذاتوں کی تمیز ہند کے ہندوﺅں میں ہی پائی جاتی ہے اور کہیں نہیں ہے۔

 ہندوﺅں کا مذہب بھی آہستہ آہستہ صورت پکڑتا جاتا تھا۔ آرین کے قدیم دیوتا اگنی اور اِندر معزول ہو چکے تھے۔ شاید ہی کوئی ان کو پوجتا تھا۔ آرین اور اصلی باشندوں کے مذہبوں کے گڈمڈ ہونے سے جو نیا مذہب نکلا، وہ ہندوﺅں کا مذہب تھا۔ اس کے بڑے دیوتا برہما، وشنو اور شِو قرار پائے۔ ان کے علاوہ چھوٹے دیوتا اور بہت سے تھے۔ اسی طرح آرین کی ویدک زبان اور شمالی ہند کے قدیم اصلی باشندوں کی اپنی زبانوں کے میل سے برہمنوں کی تحریری علمی زبان سنسکرت اور عوام کی بول چال کی وہ زبانیں بنیں جن کو پراکرت کہتے ہیں اور جن سے آج کل کی بنگالی، ہندی اور دوسری مروجہ زبانیں نکلی ہیں۔

 ہم نہیں کہہ سکتے کہ ذاتوں کی تمیز کے قائم ہونے میں کتنا عرصہ لگا۔ صرف اتنا جانتے ہیں کہ منوجی کے زمانے سے پہلے پہلے یہ سلسلہ مکمل ہو چکا تھا۔ منوجی نے ہندوﺅں کے آئین و قوانین کا مجموعہ جو اس عہد کے اختتام پر یعنی 500 قبل مسیح کے قریب قریب مرتب کیا۔ اس میں ذاتوں کا مفصل حال درج ہے۔ منوجی لکھتے ہیں کہ ہندوﺅں کے4 ورن (ذاتیں) ہیں۔ برہمن، کھشتری، ویش، شودر۔ وہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ زیادہ تعداد شودروں کی تھی جو مختلف ذاتوں کے آپس میں گڈ مڈ ہو جانے سے پیدا ہوئے تھے۔

یہ800 سال کا زمانہ، ایک ہزار قبل مسیح سے تقریباً 200 قبل مسیح تک، ہندوﺅں یا برہمنوں کا زمانہ کہا جا سکتا ہے کیونکہ اس میں برہمنوں کا بڑا زور تھا۔(جاری ہے )

نوٹ : یہ کتاب”بک ہوم “ نے شائع کی ہے (جُملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -