محرومی کا علاج نہ کیا جائے تو یہ دوسری کسی بھی بیماری سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتی ہے

محرومی کا علاج نہ کیا جائے تو یہ دوسری کسی بھی بیماری سے زیادہ خطرناک ثابت ...
محرومی کا علاج نہ کیا جائے تو یہ دوسری کسی بھی بیماری سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتی ہے

  

مصنف : ڈاکٹر ڈیوڈ جوزف شیوارڈز

قسط: 11

عام لوگ بھی آپ کی طرح کامیابی کیلئے سوچتے ہیں۔ آپ اشخاص کا مطالعہ کیسے کریں گے؟ آپ اشخاص کا مطالعہ بہت ہی احتیاط سے کریں گے تو آپ اپنی دریافت کے حوالے سے کامیابی دینے والے اصول کو اپنی زندگی پر لاگو کریں، تو پھر آپ ٹھیک راستے پر آ جائیں گے۔آپ لوگوں کا مشاہدہ بہت گہرائی سے کریںتو آپ پر انکشاف ہو گا کہ ناکام لوگ بے حسی کی بیماری میں مبتلا ہیں۔ ہم اس بیماری کو محرومی کا نام دیتے ہیں۔ ہر ناکام شخص میں یہ بیماری بہت شدت کے ساتھ ہوتی ہے۔ زیادہ تر متوسط درجے کے لوگ اس بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں۔ محرومی متحرک اور غیرمتحرک اشخاص کے درمیان فرق کو واضح کرتی ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ کامیاب لوگ علیحدہ ہیں اور ناکام لوگ بہانہ ساز ہیں۔

وہ شخص جو کہ زندگی کے بارے میں کوئی منصوبہ بندی نہیں رکھتا، وہ بہت زیادہ بہانہ ساز ہوتا ہے۔

معمولی حیثیت کے لوگ تو فوراً تشریح کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ وہ تو ایسا کر ہی نہیں سکتے، کیونکہ.... وغیرہ وغیرہ۔

جب آپ کامیاب لوگوں کی زندگی کا مشاہدہ کرتے ہیں تو آپ پر واضح ہو جاتا ہے کہ تمام بہانہ بازی معمولی حیثیت کے لوگ ہی کرتے ہیں۔ وہ کامیاب ترین لوگ بن سکتے ہیں لیکن وہ کامیابی حاصل کرناہی نہیں چاہتے۔کامیاب ترین انسان جن میں بزنس مین، فوجی افسران، سیلزمین اور پیشہ ور افراد کے علاوہ قائدین بھی شامل ہیں، حالانکہ ان کی زندگی میں ایک یا دو معذوریاں ضرور ہوتی ہیں لیکن ان معذوریوں کا اظہار وہ کبھی نہیں کرتے۔روز ویلٹ ٹانگوں سے معذور تھا، ٹرومین نے کالج میں کوئی تعلیم حاصل نہ کی تھی۔ کینیڈی جب صدر بنا تو بہت کم عمر تھا۔ جانسن اور آئیزن ہاور کو دل کا عارضہ لاحق تھا۔

محرومی کا اگر علاج نہ کیا جائے تو یہ دوسری کسی بھی بیماری سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتی ہے۔ اس بیماری کے مریض کا ذہن عمل سے گزرتا ہے۔ ”وہ کہے گا میں مکمل تندرست نہیں ہوں جتنا کہ مجھے ہونا چاہیے، اپنے آپ کو مطمئن کرنے کیلئے وہ بہانے تلاش کرے گا۔ دیکھیے میری صحت کتنی خراب ہے؟ میری تعلیم بہت کم ہے؟ میرا بڑھاپا؟ میری کم عمری؟ میری قسمت ہی ایسی ہے؟ میری بدقسمتی؟ میری بیوی؟ بس میرے خاندان نے مجھے اس کام پر لگادیا؟

اس بیماری کا شکار ایک خوبصورت عذر تلاش کر لیتا ہے اور پھر اسی کے ساتھ چمٹا رہتا ہے۔ وہ اس عذر کی تشریح بھی کرتا ہے اور اپنے سے اور دوسرے لوگوں سے کہتا ہے کہ وہ کیونکر آگے نہیں بڑھ پا رہا۔ ایسا بیمار شخص ہر کہیں یہی عذر کرتا او رآخر یہ بات ا س کے لاشعور میں بیٹھ جاتی ہے۔ خیالات مثبت ہوں یا منفی جب ان کو باربار دہرایا جاتا ہے تو وہ مزید طاقتور ہوتے جاتے ہیں۔ پہلے پہلے تو محرومی کا شکار شخص اپنے اس عذر کو اپنا جھوٹ ہی جانتا ہے لیکن جب وہ اس کو باربار لوگوں کے سامنے دہراتا ہے تو پھر اس کو یہ مکمل سچ ہی سمجھنے لگتا ہے۔ یہی عذر اس شخص کی ناکامی کا اصل سبب ہوتا ہے۔

آپ طریقہ کے مطابق اپنے کام کو جاری رکھیں۔ انفرادی طور پر اپنے آپ کو کامیابی کی جانب لیتے جائیں اپنے آپ میں محرومی ایک ایسی بیماری ہے جو ناکامی کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرتی ہے کیونکہ محرومی کی طرف لے کر جاتی ہے۔محرومی بہت سی شکلوں میں نمودا رہوتی ہے۔ اس بیماری کی بدترین صورت صحت سے محرومی ہے، ذہانت سے محرومی، عمر کے محرومی اور قسمت سے محرومی ہے۔(جاری ہے ) 

نوٹ: یہ کتاب ” بُک ہوم “ نے شائع کی ہے ( جُملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -