حقوق صارفین‘ روال سال 100سے زائد کیسوں کا فیصلہ 

حقوق صارفین‘ روال سال 100سے زائد کیسوں کا فیصلہ 

  

 ملتان ( خصو صی   رپورٹر)صارفین کے حقوق کا گزشتہ روز عالمی دن منایا گیا۔تاہم شہریوں کی بڑی تعداد اپنے حقوق سے آگاہی نہ ہونے اور قوانین سے لاعلمی کے باعث کنزیومر پروٹیکشن کونسل اور کنزیومر کورٹ سے رجوع نہیں کررہی  سروسز،اشیا کی فروخت (بقیہ نمبر7صفحہ6پر)

کے لیے دھوکہ دہی اور غلط بیانی پر کنزیومر کورٹ صارفین کے حقوق کا تحفظ کرتی ہے۔ سرکاری وغیر سرکاری اداروں کی ناقص کارکردگی، مضحر صحت اشیا خوردنوش، الیکٹرونکس و دوسری اشیا کی فروخت کیلئے جھوٹ پر مبنی تشہیر،کمرشل اداروں کی ناقص سروسز کی شکایات کے ازالے کیلئے کنزیومر پروٹیکشن کونسل اور کنزیومر کورٹس قائم کی گیئں۔رواں سال کے اڑھائی ماہ میں صارف عدالت میں 50 کیسز دائر ہوئے۔اور ایک سو سے زائد کے فیصلے سنائے گئے۔جبکہ اس وقت 201 کیسز زیر سماعت ہیں۔واضح رہے کہ 2005 میں کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ کے تحت ضلعی سطح پر کنزیومر پروٹیکشن کونسل اور کنزیومر کورٹس قائم کی گئیں۔ملتان میں کنزیومر کورٹ 2007 میں قائم ہوئی۔اور اب تک سرکاری و پرائیویٹ تعلمی اداروں، ڈاکٹروں، انشورنس کمپینوں اور دیگر اداروں و نجی کمپنیوں کے خلاف ناقص سروسز، اشیا کی فروخت کیلئے دھوکہ دہی اور غلط بیانی کے خلاف صارفین کی جانب سے کنزیومر کورٹ اور پروٹیکشن کونسل میں درخواستیں دائر کی گئیں۔اس ضمن میں وکلا نے کہا ہے کہ مافیا کے ہاتھوں لٹنے کے باوجود صارفین کا کنزیومر کورٹ سے رجوع کرنے کا رجحان انتہائی کم ہے۔اسلئے عوام کو صارف کے تحفظ کیلئے متعارف کرائے گئے قانون سے آگاہی فراہم کرنے کیلئے موثر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ اس قانون کے ثمرات پوری طرح عوام تک منتقل ہوسکیں۔ سروسز،اشیا کی فروخت کے لیے دھوکہ دہی اور غلط بیانی پر کنزیومر کورٹ صارفین کے حقوق کا تحفظ کرتی ہے۔

عالمی دن 

مزید :

ملتان صفحہ آخر -