حجاب اسلام کا لازمی جزونہیں، مسلم طالبات کی عرضی مسترد، پابندی برقرار 

حجاب اسلام کا لازمی جزونہیں، مسلم طالبات کی عرضی مسترد، پابندی برقرار 

  

ملتان(نیٹ نیوز) کرناٹک ہائی کورٹ نے مودی کی زیر قیادت بی جے پی کی بھارتی حکومت کے ہندوتوا ایجنڈے پر عمل درآمد کرتے ہوئے ریاست کے تعلیمی اداروں میں مسلم طالبا ت کے حجاب پر پابندی کے خلاف دائر متعدد عرضداشتوں کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا ہے کہ مسلم خواتین کا حجاب پہننا اسلام کا لازمی جز ونہیں ہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ریتو راج اوستھی، جسٹس کرشنا(بقیہ نمبر47صفحہ7پر)

 ایس دیکشت اور جسٹس جے ایم قاضی پر مشتمل بنچ نے اڈوپی ضلع سے تعلق رکھنے والی مسلم طالبات کی جانب سے دائر کی گئیں متعدد عرضداشتوں کو خارج کرتے ہوئے اسکولوں اور کالجوں میں حجاب پر عائد پابندی کو برقرار رکھا۔عدالت نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ حجاب پہننا اسلام میں ضروری عمل نہیں ہے، لہذا تعلیمی اداروں میں ڈریس کوڈ سے متعلق حکومت کی ہدایت کو برقرار رکھاجانا چاہیے۔عدالت نے کہاکہ سکول یونیفارم پر طلبا کااعتراض درست نہیں ہے اور حکومت کو اس سلسلے میں حکمنامہ جاری کرنے کا پورا اختیار ہے۔

کرناٹک ہائیکورٹ

مزید :

ملتان صفحہ آخر -