غیر سودی بینکاری…… اشکالات اور حل 

غیر سودی بینکاری…… اشکالات اور حل 

  

ادارہ معارف اسلامی منصورہ لاہور علمی و تحقیقی ادارہ ہے۔ ادارہ اپنے اہداف و مقاصد کے حصول کے لیے مسلسل کوشش کر رہا ہے۔ ادارہ کے زیر اہتمام 1980ء سے اب تک تقریباً 320ٹائٹل منظرعام پر آ چکے ہیں۔ادارہ میں تحقیق و تصنیف کے علاوہ علمی مذاکرات اور سیمینارکا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔گزشتہ سال ”اسلامی نظریاتی کونسل کی سفا رشات پر عمل درآمد: رکاوٹیں اور ان کا حل“اور”سیّد ابو الاعلیٰ مودودی ؒ:حیات و خدمات“ کے موضوعات پر سیمینا رز کر چکے ہیں۔ہر دو پرو گراموں کی صدارت محترم امیر جماعت جناب سراج الحق نے کی۔اسلامی نظریا تی کونسل والے مذاکرے کے مہمان خصوصی کونسل کے چیئرمین محترم ڈاکٹر پروفیسر قبلہ ایا ز تھے۔دیگر مقر رین میں جماعت کے اکابرین کے علاوہ جناب الطاف حسین قریشی اور جناب مجیب الرحمن شامی شامل تھے۔ 23فروری 2022ء کو ایک ایسے ہی علمی سیمینار کا اہتمام کیا گیا جس کا موضوع تھا:

”غیر سودی بنکاری…… اشکالات اور حل“

اس سیمینار کی صدارت ادارے کی مجلس منتظمہ کے صدر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے کی، جبکہ مہمانِ خصوصی محترم مفتی عزیر اشرف عثمانی (ریجنل شریعہ کوآرڈی نیٹر میزان بینک) تھے۔ مقررین میں محترم ڈاکٹر حافظ ساجد انور، محترم حافظ محمد ادریس، پروفیسر ڈاکٹر میاں محمد اکرم (سابق پرنسپل گورنمنٹ سائنس کالج)، آئی اے فاروق(سابق آفیسر سٹیٹ بینک آف پاکستان)،  محترم عبدالرشید مرزا(صدر پاکستان اکنامک فورم) اور پیرزادہ بابر علی (منیجر میزان بینک، علامہ اقبال ٹاؤن) شامل تھے۔ کلیدی خطاب مفتی عزیر اشرف عثمانی صاحب کا تھا۔ مفتی عزیر اشرف عثمانی کا تعلق مولانا مفتی تقی عثمانی کے خاندان سے ہے۔ کارروائی کا آغاز قاری فضل اکبر صاحب نے تلاوت قرآن حکیم سے کیا۔

 ڈائریکٹر محترم ڈاکٹر حافظ ساجد انور صاحب نے افتتاحی خطاب میں ادارے کا تعارف اور سیمینار کے اغراض و مقاصد بیان کیے۔ انھوں نے کہا کہ آج کے سیمینار کا موضوع بڑا اہم ہے اور ہم اسے میزان بینک کے تعاون سے منعقد کر رہے ہیں۔ گزشتہ دو عشروں سے اسلامی بینکاری پر کام ہو رہا ہے۔ بعض بینکوں نے برانچیں کھولی ہیں اور بعض نے ”ونڈو“ کا آغاز کیا ہے۔میزان بینک اس کام میں سب سے آگے ہے۔ ہم نے آج مفتی عزیر اشرف عثمانی کو دعوت دی ہے کہ وہ وضاحت سے بتائیں کہ اسلامی بینکاری کی کیا صورت حال ہے،اور اشکالات یا مشکلات کیا ہیں؟ کامیابی کے امکانات کیا ہیں؟ مستقبل میں آپ کیا توقع رکھتے ہیں؟ مفتی عزیر اشرف عثمانی صاحب حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی کے پوتے ہیں اور میزان بینک کے ریجنل شریعہ کوآرڈی نیٹر ہیں۔

 محترم ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے غیر سودی بینکاری، سود کے خاتمے سے متعلق حکمرانوں کے رویے اور جماعت اسلامی کی جدوجہد پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انھوں نے شریعت کورٹ سے سود کے خاتمے کے بارے میں فیصلے کے خلاف حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ میں اپیل کی مذموم کوشش کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہر دور کے حکمرانوں نے لیت و لعل سے کام لیا ہے کسی صورت سودی معیشت سے چھٹکارا نہیں چاہتے۔ آج کل بھی سپریم کورٹ میں مقدمہ چل رہا ہے، لیکن تاریخوں پر تاریخیں دی جا رہی ہیں۔ جماعت اسلامی سود کے خلاف کل کی طرح آج بھی سینہ سپر ہے اور اللہ سے امید رکھے ہوئے ہے کہ وہ دن ضرور آئے گا جب پاکستان جیسے اسلامی ملک میں سود کا خاتمہ ہو کر رہے گا۔ انھوں نے کہا کہ اللہ نے کسی بڑے سے بڑے گناہ کو اللہ اور اس کے رسول اکرمؐ سے جنگ قرار نہیں دیا، صرف سود ایسی لعنت ہے جس کے بارے میں کہا گیا کہ سودی کاروبار کرنے والے کے خلاف اللہ اور اس کے رسول اکرم ؐ کی طرف سے اعلان جنگ ہے۔ 

 محترم مفتی عزیر اشرف عثمانی صاحب نے سود کی تعریف، سود اور تجارت میں فرق، اسلامی بینکاری کے طریق کار اور نظام پر پورے دلائل و براہین کے ساتھ خطاب کیا۔ انھوں نے بتایا کہ میزان بینک حلال کاروبار کے لیے قرضہ فراہم کرتا ہے۔ حرام کاروبار، شراب وغیرہ کے لیے ہم قرضہ نہیں دیتے۔ ہمارے آڈیٹرز ان کمپنیوں کی مسلسل چیکنگ کرتے رہتے ہیں کہ وہ حسب معاہدہ صحیح کاروبار کر رہے ہیں۔سیونگ اکاؤنٹ، کرنٹ اکاؤنٹ اور پراویڈنٹ فنڈ وغیرہ سے متعلق سوالات کے جوابات بھی دیئے۔ انھوں نے بتایا کہ میزان بینک میں مضاربت اور مشارکت کے علاوہ مرابحہ، اجارہ، مشارکہ متناقصہ کے تحت کلائنٹ کو قرضہ فراہم کرتا ہے۔ اسلامی بینکاری میں کسی کو نقد قرضہ نہیں دیا جاتا، بلکہ مطلوبہ چیز خرید کر فراہم کی جاتی ہے……سامعین نے پروگرام میں بڑی دلچسپی لی۔ سوالات و جوابات کا سیشن طویل ہونے پر ادارے کی انتظامیہ نے سامعین سے وعدہ کیا کہ ہم اسی موضوع پر ایک اور پروگرام جلد رکھیں گے۔

اس پروگرام کا دوسرا حصہ جناب آئی اے فاروق کی تصنیف ”اسلامی بینکاری کی تشکیل جدید“ کے تعارف پر مشتمل تھا۔پروفیسر ڈاکٹر میاں محمد اکرم نے کتاب کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے بتایا کہ اشتیاق احمد فاروق سٹیٹ بینک کے آفیسر رہے ہیں، اب ریٹائر ہو چکے ہیں۔ ان کا اوڑھنا بچھونا سودی معیشت سے نجات ہے۔ ان کی کتاب غیر سودی معیشت کے قابل عمل ہونے کے دلائل سے مزین ہے۔ پنجاب اسمبلی سے بیع سلم کا قانون پاس کرانے میں ان کا بڑا کردار ہے۔ اہل علم و دانش کو اس کتاب کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔انہوں نے مو لانامودودی ؒ کی کتاب ”سود“ڈاکٹر نجا ت اللہ صدیقی کی کتاب ”غیر سودی بینکاری“کا تذکرہ بھی کیا۔آئی اے فاروق صاحب کی کتاب اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ادارہ معارف اسلامی لاہور کو کتاب کی طباعت کا کریڈ ٹ جا تا ہے۔

 محترم آئی۔اے فاروق نے اپنے مختصر خطاب میں کتاب کے بارے میں اظہار خیال پر ڈاکٹر میاں محمد اکرم صاحب اور کتاب کی اشاعت  کے لیے ادارہ معارف اسلامی کا شکریہ ادا کیا،انہوں نے کہا جب سیّد احسان اللہ وقاص ایم پی اے تھے تو ہم نے پرائیویٹ سود کو غیر قانونی قرار دلوایا تھا اور پہلے بیع سلم کا قانون بھی منظور کروایا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اس پر عملدرآمد کیا جا ئے۔

محترم عبدالرشید مرزا نے پاکستان کی معیشت کی موجودہ صورت حال پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے کہا کہ سود سے نجات اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ملک میں پورا اسلامی نظام نافذ نہیں ہو جاتا، لہٰذا ہماری جدوجہد کی اصل منزل اسلامی نظام کا قیام ہونا چاہیے۔ اسلامی نظام نافذ ہو گیا تو یہ مسئلہ خودبخود حل ہو جائے گا۔ انھوں نے موجودہ حکومت کے قرضوں پر بھی روشنی ڈالی اور بتایا کہ بجٹ کا بڑا حصہ تو سود ادا کرنے پر خرچ ہو جاتا ہے۔ سابقہ حکومتوں نے 67سال میں جتنا قرضہ لیا تھا، موجودہ حکومت نے ساڑھے تین سال میں اس نسبت سے کہیں زیادہ قرضہ لیا ہے۔ 

 آخر میں محترم حافظ محمد ادریس نے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا پروگرام بڑا کامیاب رہا ہے۔ مقررین نے موضوع کا حق ادا کیا ہے، تاہم تشنگی باقی ہے، جس کے لیے ہم کھلے وقت میں کسی بڑے ہال میں اسی پروگرام کا دوسرا سیشن کریں گے۔ انھوں نے مقررین اور سامعین کا شکریہ ادا کیا۔ انہی کی دعا سے پروگرام اختتام پذیر ہوا

اس پروگرام کی نظامت راقم کے سپرد تھی۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کوشش کو شرف قبولیت بخشے اور ہم اپنی زندگی میں اسلامی نظام برپا ہوتا دیکھ سکیں۔

مزید :

رائے -کالم -