ابھی نہیں تو کبھی نہیں 

ابھی نہیں تو کبھی نہیں 
ابھی نہیں تو کبھی نہیں 

  

قومی سیاسی معاملات پوائنٹ آف نو ریٹرن کی طرف بڑھتے،بلکہ دوڑتے ہوئے نظر آ رہے ہیں،حکمران معاملات کو جس انداز میں لے کر آگے بڑھ رہے ہیں وہ شاید درست نہ ہوں۔وزیراعظم جس طرز کی زبان درازیاں کر رہے ہیں وہ کسی طور بھی قابل ِ قبول نہیں ہیں،ان کی زبان درازی اور گرما گرمی حد سے بڑھ چکی ہے عام سیاسی اخلاقیات تو  دور کی بات،عام معاشرتی اخلاقیات کے کم از کم معیار پر بھی پوری نہیں اترتی ہیں جواباً اپوزیشن بھی زبان درازیاں کرتی جا رہی ہے،لیکن وہ حکمرانوں جیسی صلاحیت سے عاری نظر آ رہی ہے۔عام طور پر اپوزیشن کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ ایسی حرکتیں کرے جس سے ماحول میں ارتعاش پیدا ہو، کشیدگی بڑھے،تشدد بڑھے تاکہ کار سرکار کی بجا آوری مشکل ہو جائے،عوامی مشکلات میں اضافہ ہو اور حکومت کی شہرت داغدار ہو،عوام میں اس کی مقبولیت میں کمی واقع ہو،جبکہ حکومت کا طرزِ عمل اس کے بالکل برعکس ہوتا ہے وہ امن و امان قائم رکھنے اور کشیدگی کم کرنے کے لئے کوشاں ہوتی ہے تاکہ عوام کو سہولیات کی فراہمی کے ذریعے خوش کیا جائے اور وہ حکومت کے گیت گائیں،لیکن بدقسمتی سے یہاں بالکل الٹ ہو رہا ہے۔متحدہ اپوزیشن نے حکومت کے خلاف بیان بازی شروع کی، جدوجہد کا آغاز کیا تو اس وقت عوام مہنگائی،بجلی،گیس اور پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے ہاتھوں سخت پریشان تھے، حکومتی اقدامات اور پالیسیوں سے نالاں تھے اس لئے اپوزیشن کو پذیرائی ملنا شروع ہو گئی،ان کے بیانات پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر نمایاں جگہ پانے لگے،حتیٰ کہ پیپلز پارٹی متحدہ اپوزیشن سے الگ ہو گئی، حکومت نے اپوزیشن بشمول پیپلز پارٹی،مسلم لیگ(ن) اور جمعیت علمائے السلام کو نشانے پر دھرنا شروع کر دیا، ایک طرف معاشی خوشحالی کی باتیں ہونا شروع ہو گئیں کہا گیا کہ ساؤتھ ایشیائی ممالک میں ہی نہیں، بلکہ دنیا بھر کے ممالک میں پاکستان مہنگائی کے باوجود سستا ملک ہے، پٹرول، بجلی،گیس اور اشیائے صرف کی قیمتیں یہاں اب بھی کم ہیں،ٹیکس اکٹھا کرنے میں ریکارڈ قائم ہو رہا ہے، وغیرہ وغیرہ۔حکومت نے کارکردگی بارے پروپیگنڈہ مہم شروع کر دی، ترجمان اور وزراء نے بڑی یکسوئی اور بلند آہنگ کے ساتھ ترقی و خوشحالی کا راگ الاپنا شروع کر دیا،لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس تھے اس لئے یہ راگ زیادہ چل نہیں سکا۔اسی دوران اپوزیشن نے ایک بار پھر وزیراعظم کے خلاف بلند آہنگ میں مہم شروع کر دی۔ حکومتی تنقید ایک بار پھر پیپلزپارٹی کو مسلم لیگ(ن) اور مولانا کے قریب لے آئی،اس کے بعد جو معاملات چلنے شروع ہوئے تو بگڑتے ہی چلے گئے۔

اب صورت حال یہ ہے کہ اپوزیشن کی طرف سے تحریک عدم اعتماد پیش کئے جانے کے بعد حکمران اتحاد اور اپوزیشن کی دوڑیں لگی ہوئی ہیں ایک دوسرے سے ملاقاتیں ہو رہی ہیں،وعدے وعید کئے جا رہے ہیں، دشمن قریب ہوتے نظر آ رہے ہیں اور دوست دور ہٹتے ہوئے لگتے ہیں۔ اپوزیشن کے پاس تحریک عدم اعتماد کو کامیاب کرانے کے لئے درکار 172 ووٹ ابھی تک پورے نہیں ہوئے ہیں،دعوے کئے جا رہے ہیں کہ حکمران جماعت کے ترین و علیم گروپ کے اراکین ان کا ساتھ نبھانے کے لئے تیار ہیں،لیکن ابھی تک انہوں نے کھل کر اس دعوے کی تائید نہیں کی ہے،لیکن حکمران جماعت جس انداز میں اپنے ان مبینہ باغی اراکین کا راستہ روکنے کی کاوشیں کرتی دکھائی دے رہی ہے اس سے لگتا ہے کہ اپوزیشن کا دعویٰ شاید سچ ہے۔

دوسری طرف چودھری برادران کے ساتھ فضل الرحمن، آصف علی زرداری اور شہباز شریف نے ملاقاتیں کر کے سیاسی کھیل کا میدان وسیع کر دیا ہے پھر پی ٹی آئی کی قیادت نے چودھری برادران سے رابطے کئے،ملاقاتیں کیں اور ان سے ساتھ رہنے کا وعدہ لینے کی کوشش کی،لیکن ایسے لگتا ہے کہ معاملات طے نہیں ہو سکے۔اپوزیشن نے انہیں وزارت اعلیٰ کی پیشکش کی،جبکہ حکمران جماعت نے کہا کہ اگر وہ یعنی مسلم لیگ (ق)، پی ٹی آئی میں ضم ہو جائے تو انہیں وزیراعلیٰ بنایا جا سکتا ہے۔ وزیراعظم جن کے ساتھ ملاقات نہیں کرتے تھے ان کے پاس ملاقاتوں کے لئے حاضر ہونے لگے ہیں۔انہوں نے اپنی عوامی مقبولیت کا ثبوت دینے کے لئے جلسے بھی کرنا شروع کر دیئے ہیں گویا انہیں احساس ہو گیا ہے کہ معاملات ان کے ہاتھوں سے نکل رہے ہیں،تقاریر کے دوران ان کی بوکھلاہٹ اور جھنجھلاہٹ اس بات کی غماز ہے کہ وہ فی الحقیقت پریشان ہیں،اتحادیوں سے ملاقاتیں بھی کر رہے ہیں،اپنے باغی ممبران کو دھمکیاں بھی لگا رہے ہیں، رائے شماری کے وقت ڈی چوک میں دس لاکھ کارکنان کو جمع کرنے کا اعلان،اس بات کا غماز ہے کہ پی ٹی آئی معاملات کو پوائنٹ آف نو ریٹرن کی طرف لے جانا چاہ رہی ہے۔رہی سہی کسر مولانا فضل الرحمن کے23مارچ کو دھرنا دینے کے اعلان نے نکال دی ہے۔اپوزیشن کا یہ دھرنا کب تک جاری رہے گا اس کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔گویا اسلام آباد کا ڈی چوک حکمران جماعت اور اپوزیشن کا میدانِ جنگ بننے جا رہا ہے۔

حکمران اتحاد کے باخبر وزیر فواد احمد چودھری کا کہنا ہے کہ ”دیکھتے ہیں تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری تک بات پہنچتی بھی ہے یا نہیں“ بڑی اہم لگتی ہے ابھی تک اپوزیشن اپنی عددی برتری یعنی172 ووٹ ثابت نہیں کر سکی ہے، معاملات چل رہے ہیں حکمران جماعت کے باغی ارکان جن کے بارے میں اپوزیشن کا کہنا ہے کہ وہ ہمارے ساتھ ہیں،ابھی تک ”اعلانیہ باغی“ قرار نہیں پائے ہیں۔اتحادی جماعتیں بشمول مسلم لیگ (ق)،ایم کیو ایم، باپ اور جی ڈی اے اپنی اپنی جگہ پر کھڑی ہیں، سلسلہ جنبانی جاری ہے اپوزیشن سے بھی ملاقاتیں جاری ہیں اور حکمران جماعت کی قیادت سے بھی گلے شکوے جاری ہیں،اشارے دیئے جا رہے ہیں۔ سیاسی بیانات کی بھی بھرمار ہے،کھانے کھائے بھی جا رہے ہیں اور کھلائے بھی جا رہے ہیں،لیکن انہوں نے ابھی تک اپنی سابقہ پوزیشن نہیں بدلی ہے۔گویا حکمران اتحاد سردست قائم ہے اور عمران خان کی حکومت کھڑی ہے،لیکن ایسے لگ رہا ہے کہ دونوں فریقین کو اپنی اپنی موجودہ پوزیشن کے بارے میں یقین کامل ہے کہ وہ بدلنے والی ہے اس لئے اضطراب دیکھنے میں آ رہا ہے اور کھیل کو اسمبلی سے باہر کھیلنے کے اعلانات ہو رہے ہیں۔ ظاہر ہے اسمبلی میں ہونے والے فیصلے،سڑکوں پر کرنے کی سوچ کسی طور بھی مستحسن نہیں ہے۔ پاکستان کے اندرونی حالات زیادہ مستحکم نہیں ہیں،ہمارا دشمن بھی چوکس ہے۔خطے میں بھی بے اطمینانی پائی جای ہے،عالمی حالات میں بھی کشیدگی ہے ایسے مجموعی منظر میں پاکستان کسی قسم کے عدم استحکام کو برداشت نہیں کر پائے گا،لیکن لگتا ہے کہ فریقین نے طے کر لیا ہے کہ ”ابھی نہیں تو پھر کبھی نہیں“۔

مزید :

رائے -کالم -