اگلے مارشل لا سے بچنے کا ایک متبادل

 اگلے مارشل لا سے بچنے کا ایک متبادل
 اگلے مارشل لا سے بچنے کا ایک متبادل

  

کہا جا رہا ہے کہ اس وقت پاکستان ایک دوراہے پر کھڑا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ وہ وقت کون سا تھا جب پاکستان کسی دوراہے پر نہیں کھڑا تھا۔ یہ ملک تو ہر وقت ہی ایک دوراہے پر کھڑا رہتا ہے۔ ہمارا المیہ یہی ہے کہ ہم اب تک یہ فیصلہ نہیں کر سکے کہ ملک کو کسی ایک ”راہے“ پر ڈال دیں۔ مثال کے طور پر اگر 2018ء کے الیکشنوں میں پی ٹی آئی کو دوتہائی اکثریت مل جاتی تو ایک نیا راستہ نکل آتا۔ اسے آزمانے میں کیا ہرج تھا؟ مریض ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے تو وہ دوا تجویز کرنے کے علاوہ پرہیز بھی بتاتا ہے جو مریض نے خود کرنا ہوتا ہے۔ لیکن پاکستان ایک ایسا مریض ہے جو بار بار بدپرہیزی کرتا ہے اور ایک ہی مرض میں بار بار مبتلا ہو جاتا ہے اور پھر چیخنے لگتا ہے کہ ”ہم دوراہے پر کھڑے ہیں“…… اس کیفیت کو کالم نگار حضرات ”ہم کہاں کھڑے ہیں؟“ کے عنوان سے بھی یاد کیا کرتے ہیں۔ کالم کا یہ عنوان میں نے (اور مجھے یقین ہے آپ نے بھی) کئی بار دیکھا اور پڑھا ہوگا۔ ان کالموں میں یہی رونا رویا جاتا ہے کہ ہم پاکستانی یہ نہیں جانتے کہ کہاں کھڑے ہیں۔ بس کھڑے ہوتے ہیں، کبھی کبھی گر جاتے ہیں اور کبھی کبھی تھک ہار کر ”بیٹھ“ جاتے ہیں۔ یہ ”اُٹھک بیٹھک“ گزشتہ 75سالوں سے جاری ہے۔ ہماری طبیعت بھی گویا مولانا حسرت والی طبیعت ہے کہ مشقِ سخن بھی جاری ہے اور چکی کی مشقت بھی!

پاک فوج کے ترجمان کئی بار فرما چکے ہیں کہ ”ہمیں سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں، اس کے بارے میں کوئی سوال نہ کیا جائے“…… لیکن لوئر دیر (Dir) کے ایک حالیہ جلسے میں جب وزیراعظم نے خود انکشاف کر دیا تھا کہ انہیں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کو ”ڈیزل“ نہ کہوں تو میں تو اس کے لئے تیار ہوں لیکن جہاں جاتا ہوں، لوگ ”ڈیزل، ڈیزل“ کی آوازیں بلند کرنے لگتے ہیں۔ میں چونکہ ایک عوامی نمائندہ ہوں اس لئے عوام کی بات نہ سنوں تو اور کیا کروں؟ اس کے بعد انہوں نے اسی جلسے میں فوج کی اہمیت پر بھرپور تبصرہ کیا اور انہیں ملک کی سیکیورٹی کا امانت دار ہونے پر زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔ لیکن عوام جانتے ہیں کہ ان سیاستدانوں نے ماضی میں فوج کے خلاف کیا کیا زہر نہیں اُگلا۔ ایک نے تو باقاعدہ ”اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا“ والا اعلان جنگ کر دیا۔ وہ شخصیت اب بھی زندہ و باقی ہے (خدا ہم سب کو اس وقت تک زندہ و باقی رکھے، جب تک اوپر والا واپس نہ بلا لے) اس کا فرزند ارجمند بھری اسمبلی میں نعرہ زن ہوتا ہے کہ عمران خان ایک ”سلیکٹڈ وزیراعظم“ ہے۔

یہ سلیکٹڈ کا خطاب اب سارے اپوزیشن لیڈر اور ان کے پارٹی کے ترجمان (خواہ مرد ہوں یا عورت) انہیں دیتے نہیں تھکتے۔ ان کو نکما، نااہل اور ناسزا وغیرہ تو کہا جاتا ہے لیکن ان اسمائے صفات (Adjectives) سے آگے ان کے جو مترادفات نکلتے ہیں وہ سب سامعین کو معلوم ہیں۔ اینٹ سے اینٹ بجا دینے والے نے یہ نعرہ بھی لگایا تھا کہ ”آپ صرف 3سال کے لئے آتے ہیں لیکن ہم نے تو ہمیشہ رہنا ہوتا ہے!“ اس کا ایک دوسرا اور ”وسیع تر“ مطلب یہ بھی ہوتا ہے کہ سیاستدان تو باقی ہیں جبکہ فوجی سپہ سالار فانی ہیں: یعنی اقبال کے الفاظ میں:

افغان باقی، کہسار باقی

الملک للہ، والملک للہ

عمران خان نے نجانے کس ترنگ میں آکر کہہ دیا تھا کہ آرمی چیف نے انہیں مولانا کو ’ڈیزل‘ نہ کہنے کا مشورہ دیا ہے۔ اس کے ”وسیع تر“ معانی یہ بھی نکالے جا سکتے ہیں کہ فوج اپنے وزیراعظموں کو سیاسی مشورے بھی دیتی رہتی ہے…… نجانے ہمارے ڈی جی ISPR نے یہ بات کس تناظر میں کہی تھی کہ فوج کو سیاست سے کیا لینا دینا۔ ان کو یاد دلانا چاہیے کہ جب ان کا چیف خود کسی سیاستدان کو مشورہ دے رہا ہے کہ فلاں بات کرو اور فلاں نہ کرو تو پھر فوج کو نیوٹرل کہنے اور اس پر اصرار کرنے کی تُک کیا ہے؟…… کیا فوج ملک کی اندرونی اور بیرونی سرحدوں کی محافظ نہیں؟ ہمارے وزیرداخلہ شیخ رشید بار بار یہ کہتے سنے گئے ہیں کہ ”صرف ایک سال اور انتظار کرلیں۔ یہ نہ ہو کہ پھر دس سال تک انتظار کرنا پڑے“…… اس بیان کا سلیس اردو ترجمہ کیا یہ نہیں نکالا جا سکتا کہ وہ فوج کے مارشل لاء کا ذکر کررہے ہیں …… اور میرا خیال ہے بالکل ٹھیک کر رہے ہیں!

آج کا سیاسی منظرنامہ دیکھ لیں۔ سیاستدانوں کے بیانات پر غور کرلیں۔ اپوزیشن اور حکومت کے بیانات سے بات اب آگے بڑھ چکی ہے۔ دونوں ایک ہی جگہ، ایک ہی مقام پر اکٹھے ہونے کی بات کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا آگ اور پانی ایک جگہ اکٹھے ہو سکتے ہیں؟ حکومت کا سربراہ کہہ رہا ہے کہ ملک کے کونے کونے سے لوگ اسلام آباد کے ڈی چوک میں لائیں، ان کی تعداد دس لاکھ ہو تاکہ اپوزیشن کو معلوم ہو جائے کہ وہ جس تحریکِ عدم اعتماد کو اوڑھنا بچھونا سمجھ رہی ہے، وہ تحریک ”پائے چوبیں“ ہے یعنی لکڑی کے وہ پاؤں ہیں جو زیادہ دیر تک کھڑے نہیں رہ سکتے اور رہیں بھی تو متحرک نہیں رہ سکتے…… مولانا روم کا مشہور شعر ہے:

پائے استدلالیاں چوبیں بَود

پائے چوبیں، سخت بے تمکیں بَود

(ترجمہ: بحث و مباحثہ کرنے والوں کے پاؤں گوشت پوست کے نہیں، لکڑی کے ہوتے ہیں اور یہ لکڑی کے پاؤں سخت بے وقعت اور بے توقیر ہوتے ہیں)

بات سیاست سے نکل کر شاعری کی طرف بڑھ رہی ہے اس لئے اس کو یہاں روک دینا مناسب ہے۔ سوال پھر وہی ہے کہ کیا کسی ملک کی فوج اپنے اندرونی سیاسی حالات کو اتنا آگے جانے کی اجازت دے سکتی ہے کہ وہ ملک کی سلامتی کے لئے خطرہ بن جائیں ……

فرض کریں ڈی چوک پر جب بھی کوئی جلسہ یا ریلی ہو تو اگر اس کا کاؤنٹر جلسہ یا کاؤنٹر ریلی بھی فریق مخالف نکالنے پر تُل جائے تو کیا لاکھوں انسانوں کے سمندر کو جذباتی ہونے سے روکا جا سکتا ہے؟ ملک کے دارالحکومت میں ایوانِ صدر اور ایوان وزیراعظم کے نزدیک یہ ”تماشا“ لگانے سے کیا یہ بہتر نہیں کہ اس دنگل کو کسی اور اکھاڑے میں منتقل کر دیا جائے؟ وزیراعظم کو اس چوائس پر غور فرمانا چاہیے اور وزیراعظم کے علاوہ اس فوج کو سوچنا چاہیے کہ جو ملک کی داخلی سرحدوں کی محافظ بھی ہے۔ 22 اور 23مارچ کو اگر OIC کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہو رہا ہے اور اگر یومِ پاکستان کی تقریب کا اہتمام کرنا ہے تو اس کے دو دن بعد یا دو دن پہلے اس ’دنگل‘ کو اسلام آباد سے باہر کسی اور جگہ شفٹ کر دینا مناسب ہوگا۔ فوج کے اربابِ اختیار کو آگے بڑھ کر وزیراعظم کو مشورہ دینا چاہیے کہ اس ’تماشے‘ میں ملک کا نقصان ہے، پاکستان کی سلامتی داؤ پر نہ لگائی جائے۔

ہم نے 1970ء کے انتخابات میں دیکھ لیا تھا کہ پاکستان کے ساتھ کیا ہوا تھا۔ اگر فوج، جنرل یحییٰ کی قیادت میں ذوالفقار علی بھٹو کو یہ مشورہ دیتی کہ ملک کی سلامتی سے مت کھیلو۔ جس پارٹی کو قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل ہے اس کو حکومت بنانے دو تو پاکستان دو نیم نہ ہوتا۔ اب یہ دوسری بار وہی کچھ ہونے جا رہا ہے۔ نجانے ہمارے سیاستدان (حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں) ماضی سے سبق کیوں نہیں لیتے۔ چلو وہ اگر نہیں لیتے تو نہ لیں، فوج کو آگے بڑھنا چاہیے۔ فوج، ”مارشل لاء“ کا متبادل ”افہام و تفہیم لا“ بھی تو سامنے لا سکتی ہے!

مزید :

رائے -کالم -