سانحہ پشاور کے متاثرین کا احتجاج، حکومت نے امدادی رقم بڑھا دی

 سانحہ پشاور کے متاثرین کا احتجاج، حکومت نے امدادی رقم بڑھا دی

  

کابینہ نے شہداء کے لئے بیس بیس، زخمیوں کے لئے پانچ پانچ لاکھ روپے ادائیگی کی منظوری دی

دلخراش سانحہ کے تانے بانے سرحد پار سے ملتے ہیں، حساس ادارے نے نیٹ ورک بریک کر دیا

مارے جانے والے تین سہولت کاروں کی تفصیلات مل گئیں،25 زیر حراست ہیں، مزید گرفتاریاں جلد متوقع 

کئی روز گزر جانے کے باوجود سانحہ پشاور کے زخم مندمل نہیں ہوئے اور متاثرہ گھروں میں تا حال صفِ ماتم بچھی ہوئی ہے۔ ایک اور زخمی کے ہسپتال میں دم توڑ جانے نے اس دلخراش واقعہ کے زخم تازہ  کر دیئے اور یوں  قصہ خوانی بازار کے رسالدار چوک  کی جامع مسجد میں  نماز جمعہ کے دوران کھیلی جانے والی خون کی ہولی میں شہداء کی مجموعی تعداد 69 ہو گئی ہے۔ پیر کے روز  دھماکے میں شدید زخمی ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھنے والے غضنفر عباس بلوچ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جام شہادت نوش کرگئے۔ غضنفر عباس بلوچ پاکستان ائیر فورس کے چیف وارنٹ آفیسر تھے اور پشاور میں ہی رہائش پذیر تھے، دھماکے میں انہیں ہیڈ انجری ہوئی تھی اور وہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے آئی سی یو میں زیر علاج تھے۔متاثرہ خاندانوں کو فوری طور پر سرکاری امداد نہ ملنے کے باعث اہل پشاور میں غم و غصے کی شدید لہر پائی جاتی ہے، ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ شہداء کے لواحقین کو پانچ پانچ لاکھ روپے اور زخمیوں کو دو دو لاکھ کی امداد دی جائے گی جسے متاثرین نے یکسر مسترد کر دیا اور موقف اختیار کیا کہ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ دہشت گردی کے بیشتر واقعات کے ہلاک شدگان کو 20 سے 50 لاکھ روپے اور زخمیوں کو پانچ سے دس لاکھ روپے ادا کئے جاتے رہے ہیں جبکہ اتنے بڑے سانحہ کے متاثرین کو معمولی رقم دینا ان کے ساتھ صریحاً زیادتی ہے۔ اس صورت حال پر بعض تنظیموں نے اپنے تئیں امدادی رقوم اکٹھا کرنا شروع کر دیں اور متاثرین کی اشک شوئی کی کوشش کی۔ احتجاج کے بعد وزیر اعلیٰ محمود خان نے معاملے کا فوری نوٹس لیا اور منگل کے روز ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں سانحہ پشاور متاثرین اور تفتیشی معاملات کے حوالے سے اہم فیصلے کئے گئے۔ امدادی رقوم کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا کہ خودکش حملے میں شہید ہونے والوں کے لواحقین کو بیس بیس لاکھ روپے فی کس، زیادہ زخمیوں کو پانچ پانچ لاکھ اور معمولی زخمی ہونے والے نمازیوں کو دو دو لاکھ روپے دیئے جائیں گے۔ یہ رقوم صوبائی حکومت کی جانب سے فی الفور متاثرین تک پہنچانے کے احکامات بھی دیئے گئے۔ جہاں تک سانحہ کے تفتیشی پہلو کا تعلق ہے  تو پشاور پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ مسجد میں خودکش حملہ کرنے والے کے مرکزی سہولت کار اور دو دیگر ساتھیوں کو ہلاک کر دیا گیا۔پشاور پولیس کے سی سی پی او اعجاز خان نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان تینوں کو ضلع کے سرحدی علاقوں میں محکمہ انسداد دہشت گردی اور خیبر پولیس کے مشترکہ آپریشن کے دوران ہلاک کیا گیا، آپریشن میں حملہ آور کے صوبائی دارالحکومت میں استقبال سمیت قیام اور اس سلسلے میں رہنمائی فراہم کرنے والا مرکزی سہولت کار مارا گیا۔انہوں نے مزید  بتایا کہ خودکش حملہ آور کی شناخت ہو گئی ہے، واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں، سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے خود کش بمبار کے کچھ سہولت کاروں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ اب تک سانحہ پشاور کے الزام میں 25 افراد زیر حراست ہیں جن سے پولیس سمیت قانون نافذ کرنے والے چار ادارے تفتیش کر رہے ہیں۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ حملہ آوروں کے نیٹ ورک کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں اور ایک انتہا پسند تنظیم سے تعلق رکھنے والا منظم گروہ اس میں ملوث ہے جس تک اداروں نے رسائی حاصل کر لی ہے اور اس حوالے سے ملنے والی اطلاعات کی روشنی میں ہی تین سہولت کاروں کو ہلاک کیا گیا۔ ایک حساس ادارے کی اعلیٰ سطحی ٹیم نیٹ ورک کے سرغنہ سمیت دیگر ملزموں کے قریب پہنچ چکی ہے اور کسی وقت بھی ان کے زندہ یا مردہ قابو کئے جانے کی اطلاع مل سکتی ہے۔

گزشتہ روز وزیر اعلیٰ محمود خان کی سربراہی میں ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں صوبے کے دیگر واقعات کے متاثرین کی مالی امداد کا اعلان بھی کیا گیا،  الپوری شانگلہ میں لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں جاں بحق 6 افراد کے لواحقین کو فی کس 10 لاکھ روپے دینے کی بھی منظوری دی گئی۔ لال قلعہ لوئر دیر کے 16 ہزار 6 سو تین متاثرہ کسانوں کو ون ٹائم معاوضے کی ادائیگی کیلئے 35.1575 ملین روپے کی فراہمی کی منظوری دی،   لال قلعہ دیر لوئر میں سیکورٹی وجوہات کی بناء  پر مکئی کی فصل کاشت نہ ہونے کے سبب متاثرین کو معاوضہ دیا گیا ہے۔    پشاور ہائی کورٹ کی فیصلے کی روشنی میں ضلع خیبر میں بمباری کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے افراد کو فی کس 10 لاکھ روپے فراہمی کی منظوری دی ہے۔   وزیراعلیٰ  نے صحت کارڈ میں بون میرو کا علاج شامل کرنے کی بھی ہدایت کی،   صوبائی کابینہ نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ سرکاری اراضی سے متعلق صوبائی حکومت کے فیصلے سے متعلق جو بھی سرکاری ملازم عدالت جائے گا اس کے خلاف کارروائی ہو گی۔  صوبائی کابینہ نے مردان میں اسپیشل ٹیکنالوجی زون کے قیام کیلئے 1200 کینال اراضی محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی و انفارمیشن ٹیکنالوجی کو منتقل کرنے کی مشروط منظوری دی ہے۔   کابینہ نے پشاور میں گندھارا ڈیجیٹل کمپلیکس کے قیام کے لئے حاجی کیمپ میں محکمہ خوراک کے گودام کی 25 کینال اراضی محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی و انفارمیشن ٹیکنالوجی کو ٹرانسفر کرنے کی بھی منظوری دی ہے۔ 

مزید :

ایڈیشن 1 -