سیاسی ہلچل جاری، زیادہ سرگرمیاں اسلام آباد منتقل

 سیاسی ہلچل جاری، زیادہ سرگرمیاں اسلام آباد منتقل

  

 لاہور میں بھی ملاقاتیں اور گھاتیں جاری

حمزہ شہباز کی جہانگیر ترین گروپ سے مفید ملاقات، عثمان بزدار کو ہٹانے پر اتفاق  ہو گیا

وزیر اعلیٰ کپتان کی ہدایت پر سرگرم، اراکین اسمبلی سے ملاقاتیں جاری ہیں 

پنجابی ثقافت کا دن منایا گیا، جشن بہاراں جاری ہے، عالمی پنجابی کانگرس کی 31 ویں عالمی کانفرنس شروع!

لاہور ڈائری

لاہور سے چودھری خادم حسین

سیاسی کشمکش اور بڑھتی سرگرمیوں کا مرکز اب لاہور سے منتقل ہو کر اسلام آباد چلا گیا۔ جہاں وفاقی حکومت وزیر اعظم اور وزراء کے علاوہ اپوزیشن بھی مصروف ہے۔ ملاقاتوں اور عشائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ کشیدگی بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ ابتدائی طور پر عدم اعتماد وزیر اعظم کے خلاف پیش کی گئی ہے۔ اس لئے اسلام آباد کی مرکزی حیثیت ہونا لازم ہے۔ تاہم لاہور میں بھی اپنے طور پر ملاقاتوں اور مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے، اگرچہ ثقافتی سرگرمیاں بھی چل رہی ہیں۔ تاہم تحریک انصاف کے خلاف معمول کے معاملات بھی ہیں۔ وزیر اعلیٰ سردار عثمان بزدار نے اپنے دفتر میں اراکین اسمبلی سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان گزشتہ ہفتے لاہور آئے اور انہوں نے وزیر اعلیٰ کو تھپکی دے کر ایسا کرنے کی ہدایت کی تھی تب سے ملاقاتیں جاری اور عثمان بزدار بھی اعتماد سے کھیل رہے ہیں، سپیکر چودھری پرویز الٰہی، چودھری شجاعت حسین کے ساتھ اسلام آباد جا چکے اس لئے ان حضرات کی رہائش گاہوں پر آمد و رفت نہیں ہو رہی تاہم جہانگیر ترین گروپ یہاں موجود ہے۔ اس کی ملاقاتوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ جہانگیر ترین کی لاہور کی رہائش گاہ ان کا مرکز ہے۔ علیم خان جو لندن سے واپس آ چکے۔ جہانگیر ترین گروپ میں شامل ہیں ان کا سلسلہ اپنی جگہ ہے۔

پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور محمد شہباز شریف کے صاحبزادے حمزہ شہباز لاہور میں ہیں اور انہوں نے مقامی طور پر مذاکرات شروع کر رکھے ہیں۔ وہ یہاں ایک وفد کے ساتھ جہانگیر ترین گروپ سے ملے طویل مذاکرات ہوئے اور پھر مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ ان مذاکرات میں یہ طے پا گیا ہے عثمان بزدار کے حوالے سے متفق ہیں کہ ان کو اس منصب پر نہیں رہنا چاہئے جہاں تک ان کی جگہ وزارت علیہ کے امیدوار کا تعلق ہے تو ہر دو نے اپنے اپنے مرکزی راہنماؤں سے مشاورت کے لئے وقت لیا اور مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے، جہاں تک جہانگیر ترین گروپ کا تعلق ہے تو اس کے قومی سطح پر اراکین کی اکثریت اپوزیشن کے ساتھ مل کر تحریک عدم اعتماد کامیاب کرانے کی خواہش مند ہے اور لندن میں موجود جہانگیر ترین کو باخبر رکھا جا رہا ہے، تاہم ایک تعداد ایسی بھی ہے جو چاہتی ہے کہ وزیراعظم ادراک کریں اور ان کے راہنما جہانگیر ترین سے مل کر اپنے کردار کی وضاحت اور معذرت کر لیں، جہاں تک علیم خان کا تعلق ہے تو وہ وزارت اعلیٰ کے امیدوار ہیں ان سے الگ ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ تاہم تا حال انہوں نے مرکز گریز رویہ اختیار نہیں کیا۔ البتہ پنجاب میں تبدیلی کے لئے سرگرم عمل ہیں۔ 

ابھی کھل کر واضح نہیں ہوا کہ کیا صورت حال بن رہی ہے بعض مبصرین کا خیال ہے کہ وزیر اعظم کے لئے یہی مناسب ہے کہ وہ عثمان بزدار سے دستبردار ہو جائیں لیکن انہوں نے ایسا تاثر نہیں دیا۔ البتہ مسلم لیگ (ق) سے کہا ہے کہ اس وقت معاملہ چونکہ عدم اعتماد کا ہے۔ اس لئے پہلے اسے حل کر لیا جائے اس کے بعد پنجاب میں تبدیلی پر بھی غور ہو سکتا ہے۔ حکمت عملی کے لحاظ سے تو یہ رویہ اور فیصلہ درست ہے لیکن مسلم لیگ (ق) اور علیم خان کے علاوہ ترین گروپ کو بھی اعتماد نہیں۔ اس لئے یہ حمایت کے بدلے سردار عثمان بزدار کی تبدیلی پہلے چاہتے ہیں یوں یہ مسئلہ یا معاملہ بھی لٹکا ہوا ہے۔

لاہور میں سیاسی ہلچل کے ساتھ ہی ثقافتی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رہا۔ 14 مارچ کو پنجاب ثقافت کا دن منایا گیا یہاں واک ہوئی، الحمرا میں تقریبات منعقد کی گئیں لاہور پریس کلب میں بھی پنجابی دیہاڑ منایا گیا جبکہ مصطفےٰ ٹاؤن کے ”پنجاب ہاؤس“ میں مدثر اقبال بٹ کے اہتمام میں تقریب منعقد کی گئی۔ اس کے علاوہ گزشتہ روز عالمی پنجابی کانگریس کی پانچ روزہ 31 ویں عالمی کانفرنس شروع ہو گئی۔ یہ بھی پنجابی ہی کے حوالے سے ہے کانفرنس کا افتتاح ہوا اور چیئرمین کانگریس فخر زمان نے مرکزی لیکچر دیا۔ پانچ روزہ کانفرنس میں مقالے پڑھے اور لیکچر دیئے جائیں گے۔ مشاعرہ ہوگا اور آخری روز کلچرل شو بھی پیش کیا جائے گا۔ پنجاب کے ثقافتی یوم کی تقریبات صوبائی حکومت کے تحت منائی گئیں اور حکومت کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ یہ یوم ہر سال منایا جائے گا۔ مجموعی طور پر ان تقریبات میں پنجابی بول چال پر زور دیا گیا۔ ابتدائی تعلیم پنجابی میں شروع کرنے کا مطالبہ کیا گیا اور عوام سے بھی اپیل کی گئی کہ وہ ماں بولی کو اولیت دیں۔

لاہور میں روایت کے مطابق جشن بہاراں بھی منایا جا رہا ہے اس سلسلے میں پی ایچ اے نے جیل روڈ اور کینال کو سجانے کے علاوہ جیلانی پارک میں ”بہار میلے“ کا انعقاد کیا ہے اس میں بے حد دلچسپی لی جا رہی ہے اور شہریوں کا رش ہوتا ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -