امریکہ کی بڑی یونیورسٹیاں بھی روس سے سرمایہ کاری ختم کرنے لگیں 

امریکہ کی بڑی یونیورسٹیاں بھی روس سے سرمایہ کاری ختم کرنے لگیں 
امریکہ کی بڑی یونیورسٹیاں بھی روس سے سرمایہ کاری ختم کرنے لگیں 

  

نیویارک  (طاہر چوہدری سے)   یوکرین  پر روس کے حملے کے جواب میں امریکہ کی بڑی یونیورسٹیاں بھی  روس کے ساتھ مالیاتی تعلقات کو کم اور ختم کرنے لگی ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق   امریکہ کی مشی گن یونیورسٹی نے  روس میں سرمایہ کاری سے علیحدگی کا اعلان کیا ہے ، یونیورسٹی انتظامیہ نے پیر کو اعلان کیا کہ وہ جتنا جلد ممکن ہوا روس سے سرمایہ کاری سے علیحدہ ہو جائے گی ۔

کنکٹی کٹ میں واقع ییل یونیورسٹی کے صدر پیٹر سالووی نے گزشتہ ہفتے" ییل ڈیلی نیوز "کو بتایا کہ حملے کے بعد یونیورسٹی کے انڈومنٹ میں سے لاکھوں ڈالر زروسی سرمایہ کاری میں سے نکال لیے گئے تھے. 

بوسٹن گلوب نے  اپنی ایک رپورٹ میں کہا کہ میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) نے اعلان کیا کہ وہ روس میں ایک نجی گریجویٹ ریسرچ یونیورسٹی کے ساتھ اپنا تعلق ختم کر رہا ہے.  

اسی طرح کلوراڈو  یونیورسٹی نے3 مارچ کو اعلان کیا تھا کہ وہ روسی کمپنیوں میں اپنی سرمایہ کاری سے نکلنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے.  

یونیورسٹی کے صدر، ٹوڈ سلیمان نے کہا کہ  ''بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح، ہم نے یوکرین میں خوف و ہراس دیکھا ہے. کیونکہ اس حملے نے خطے میں ہولناک تشدد اور جارحیت کو جنم دیا ہے. ہم یوکرین کے لوگوں کے لیے اپنی حمایت ظاہر کرنے کے طریقے تلاش کر رہے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ اپنی سرمایہ کاری کو کم کرنا درست  اقدام ہے.''

 بوسٹن گلوب نے  اپنی ایک رپورٹ میں کہا کہ میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) نے اعلان کیا ہے کہ وہ روس میں ایک نجی گریجویٹ ریسرچ یونیورسٹی کے ساتھ اپنا تعلق ختم کر رہا ہے.

مزید :

بین الاقوامی -