لڑائی کا بدلہ

  لڑائی کا بدلہ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

راستے سے گزرتے ایک بوڑھے آدمی کی ایک نوجوان سے تو تکار ہوگئی۔ تھوڑی دیر بحث مباحثہ کے بعد نوجوان وہاں سے چلا گیا، بوڑھے آدمی کا غصہ اب بھی اپنی جگہ قائم تھا۔ وہ کسی طرح اس سے اس لڑائی کا بدلہ لینا چاہتا تھا۔ جسمانی طور پہ کمزور ہونے کی وجہ سے وہ نوجوان سے مار پیٹ تو نہیں کر سکتا تھا لیکن اس نے اس کا ایک اور حل نکالا۔

    بوڑھے نے نوجوان کے بارے میں ”افواہ“ پھیلانا شروع کردی کہ وہ ”چور“ ہے۔وہ ہر راہ گزر سے یہی بات کرتا۔ کئی لوگ اس کی بات کو ان سنا کرتے لیکن چند لوگ یقین بھی کرلیتے تھے۔ کچھ دن گزرے تو پاس کے علاقے میں کسی کی چوری ہوگئی۔ لوگوں کے دلوں میں بوڑھے نے پہلے ہی نوجوان کے خلاف شک ڈال دیا تھا۔ چوری کے الزام میں نوجوان کو پکڑ لیاگیا لیکن چند ہی دنوں میں اصل چور کا پتا لگنے پہ اسے کو رہائی مل گئی۔

    رہا ہوتے ہی اس نے علاقے کے سردار سے بوڑھے آدمی کی شکایت کی جس کی بناء پہ بوڑھے کو پنچائیت میں بلایا گیا۔ بوڑھے نے اپنے آپ کو بچانے کے لیے صفائی پیش کی۔ سردار نے بوڑھے کو حکم دیا کہ اس نے جو جو افواہ نوجوان کے بارے میں پھیلائی ہے۔ وہ سب ایک کاغذ پہ لکھے اور پھر اس کاغذ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرکے چوراہے میں جا کے ہوا میں ُاڑا دے۔ اگلے دن بوڑھے کی قسمت کا فیصلہ ہونا تھا۔

    بوڑھا سردار کا حکم بجا لیا۔ کاغذ پہ سب کچھ لکھا اور اس کے ٹکڑے ہوا میں اُڑا دیے۔ اگلے دن جب پنچائیت لگی۔ سبھی لوگ جمع ہوئے۔ بوڑھے نے رحم کی استدعا کی۔ سردار نے کہا کہ اگر وہ سزا سے بچنا چاہتا ہے تو کاغذ کے وہ سارے ٹکڑے جمع کرکے لائے جو کل اس نے ہوا میں اُڑا دیے تھے۔ بوڑھا پریشان ہو کے بولا کہ”یہ تو ناممکن سی بات ہے۔“ سردار نے جواب دیا کہ تم نے نوجوان کے بارے میں اسی طرح ہوا میں ”افواہ“پھیلائی۔تمہیں خود بھی اندازہ نہیں ہے کہ تمہاری یہ ”افواہ“ کہاں کہاں تک پہنچی ہوگی۔اگر تم کاغذ کے ٹکڑے واپس نہیں لا سکتے تو وہ ”افواہ“ کیسے واپس لاؤ گے جس کی وجہ سے نوجوان بدنام ہوا ہے۔ بوڑھے نے ندامت سے سر جھکا لیا۔ کئی بار ہم بنا تصدیق کے لوگوں کے بارے میں ”افواہیں“ پھیلانا شروع کردیتے ہیں۔ ہماری بنا سوچے سمجھے کی گئی چھوٹی سی بات کسی اور کی زندگی پہ کتنا اثر انداز ہو سکتی ہے اس کا شائد ہمیں اندازہ بھی نہیں ہے۔ اس لیے منہ کھولنے سے پہلے تصدیق بہت ضروری ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -