اللہ کا فیصلہ جاری ہونے تک

اللہ کا فیصلہ جاری ہونے تک
اللہ کا فیصلہ جاری ہونے تک

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 جنگ عظیم دوم (1939-45) نے برطانیہ عظمیٰ کو عالمی طاقت کے منصبِ جلیلہ سے فارغ کیا۔ عالمی سطح پر قائم جبر و قہر کانوآبادیاتی نظام اپنی طبعی موت مر گیا۔ یورپی اقوام کی برتری اور رنگ دار انسانوں کی غلامی کا دور ختم ہوا۔ عالمی منظر پر دو توانا ریاستیں ابھریں۔ سرمایہ دارانہ نظام کی علمبردار امریکی اور اشتراکی نظام کی حامل سوویت یونین کی شکل میں دونظریاتی ریاستوں نے آنے والے دنوں کی سیاسی، معاشی اور معاشرتی دنیا کی ترتیب میں کلیدی کردار ادا کیا۔ سرمایہ دارانہ نظام کی تشکیل نو میں امریکہ نے بنیادی کردار ادا کیا۔ آدم سمتھ کے ”اقوام دولت کی نوعیت“ نامی تحقیقاتی مقالے کی روشنی میں تشکیل پانے والے سرمایہ دارانہ نظام نے برطانیہ میں پرورش پائی۔ یورپی ممالک میں پھلا پھولا۔ جنگ عظیم دوم کے بعد اس نظام نے امریکہ میں جڑیں پکڑیں یہ نظام ایک دیوبن کر دنیا پر غالب آ گیا۔ اشتراکی ریاست 90ء کی دہائی میں بکھر گئی۔ دوطاقتی عالمی نظام کی جگہ یک طاقتی نظام نے لے لی۔امریکہ عالمی بدمعاش کے طور پر چھا گیا۔”تاریخ کا خاتمہ“ نامی تحقیقاتی تحریروں کے ذریعے سفید انسان کی حاکمیت کا اعلان ہونے لگا۔ مغربی مفکرین نے ”تہذیبی تصادم“ کے نظریے کے ذریعے اصل حرم کے خلاف ایک عظیم الشان تہذیبی خاتمے کی جنگ شروع کی۔ یہ جنگ عراق پر حملے سے شروع ہوئی، افغانستان سے ہوتی ہوئی اب ارض مقدس تک جا پہنچی ہے۔ غزہ، مغربی کنارے اور خان یونس میں بسنے والے فلسطینیوں کے قتل عام بلکہ نسل کشی کے ذریعے اس جنگ کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ یہ کوئی یہودی سازش نہیں ہے بلکہ ننگی جارحیت اور انسان کش پالیسی ہے جسے صہیونی لابی، اسرائیلی حکومت کے ذریعے آگے بڑھا رہی ہے۔

یہودی مکرو فریب کی تاریخ صدیوں تک پھیلی ہوئی ہے کہ اس قوم نے کس طرح اللہ کے پیامبروں اور نیک بندوں کو تختہ دار تک پہنچایا، انہیں قتل کیا،ان کی ایسی ہی حرکت کے باعث اللہ کا عذاب نازل ہوا اور ان کا کعبہ یعنی ہیکل سلیمانی پیوندِ خاک کر دیا گیا۔ یہودیوں کو دنیا میں بکھیر دیا گیا۔ ایک شریر اور شیطان صفت قوم کا ناطقہ بند کر دیا گیا۔ 2500سال تک یہ لوگ منتشر رہے جہاں بھی رہے اپنے شیطانی اور مکروہ کردار کے باعث قابل نفرین ہی گردانے جاتے رہے۔ ان کی سازشوں اور انسان دشمن افعال کے باعث انہیں کسی بھی معاشرے میں قابلِ عزت مقام نہیں مل سکا حد یہ ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے دور میں انہیں،ان کی سازش اور مکروہٍ فکر و عمل کے باعث گیس چمبروں میں ڈال کر ہلاک کیا جاتا رہا۔ یورپ میں یہودی ایک نشان زد گروہ کے طور پر جانے جاتے تھے۔ عیسائی دنیا انہیں مسیح کے قاتلوں کے طور پر جانتی و پہچانتی تھی انہیں حقیر و ذلیل سمجھا جاتا تھا۔ پھر تاریخ نے یہود کی سازشی و ابلیسی فطرت کا عظیم الشان مظاہرہ دیکھا۔ تھیوڈور ہرزل کی تحریک صہیونیت کے زیر اثر بکھرے یہودیوں کو ارض مقدس میں لابسانے کی منظم کاوشیں شروع ہوئیں۔1916ء میں بالفور ڈیکلریشن اور 1948ء میں ریاست اسرائیل کا قیام ایسی ہی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ 2500سال بعد ایک صہیونی ریاست کا قیام، یہودی سازشی ذہن کی کرشمہ سازی نہیں تو اور کیا ہے۔ دنیا کی ایک عظیم طاقت، برطانیہ عظمیٰ نے اعلان بالفور کے ذریعے اس ریاست کے قیام کی راہیں ہموار کیں۔ پھر امریکہ میں بسنے والے یہودیوں بالخصوص رتھ چائلڈ نے مالی تعاون کے ذریعے 1948ء میں اس کے قیام کو یقینی بنایا۔ اس کے بعد دونوں طاقتیں مل جل کر اس ریاست کی ساخت برداخت اور اسے موثر بنانے میں مصروف ہیں۔ 230ملین سے زائد عربوں کے سینے پر 60 لاکھ یہودیوں پر مشتمل یہودی ریاست، مونگ دل رہی ہے۔1400ملین سے زائد مسلمان 14 ملین یہودیوں کی سیاہ کاریوں کے سامنے مکمل طور پر بے بس ہو چکے ہیں۔

اپنے قیام سے پہلے ہی صہیونیوں نے ریاست اسرائیل کے قیام کا جو نقشہ ترتیب دیا تھا وہ روز اول سے ہی اس کے مطابق آگے بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ انہوں نے 1948ء کے بعد ہر لمحہ، سوچ سمجھ کر ایک ایک انچ زمین کو عظیم اسرائیل کے نقشے کے مطابق جمع کرنا شروع کررکھا ہے۔ انہوں نے عظیم اسرائیل کے قیام کو کبھی چھپایا نہیں ہے وہ کھل کھلا کر ایک عظیم الشان صہیونی ریاست کے قیام کے لئے سینہ سپر ہو چکے ہیں۔ دنیا کی دو عظیم طاقتیں، برطانیہ اور امریکہ اس کی پشت پر کھڑی ہیں۔ مالی امداد ہو یا اسلحے کی رسد، سفارتی محاذ ہو یا سیاسی رسہ کشی، یہ طاقتیں اپنا پورا وزن اسرائیل کے پلڑے میں ڈالتی ہیں۔ غزہ میں شروع ہوئی حالیہ جنگ بیان کردہ حقائق کی تائید کرتی ہے۔

پودی دنیا دیکھ رہی ہے کہ صیہونی ریاست کس بربریت کے ساتھ نہتے فلسطینیوں پر قہر نازل کررہی ہے۔ کیمپوں میں پناہ گزینوں، روٹی پانی حاصل کرنے کے لئے قطاروں میں کھڑے اور ہسپتالوں کے بستروں پر دراز فلسطینی عورتوں اور بچوں پر بم برسا کر انہیں صفحہ ہستی سے مٹانے کی کاوشیں کی جا رہی ہیں۔ پوری دنیا اور اس کے ادارے بچوں و عورتوں کے اس قتلِ عام کے خلاف آواز بلند کررہے ہیں۔ اقوام عالم نوحہ کناں ہے۔برطانیہ اور امریکہ کے عوام سراپا احتجاج ہیں کہ عورتوں اور بچوں کا قتلِ عام بند کیا جائے لیکن صیہونی ریاست کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ہے۔ امریکہ اور برطانیہ اپنے ویٹو کے ذریعے ہر قرارداد کو ناکام بنا رہے ہیں۔ اسرائیل کو ہر وہ شے فراہم کی جا رہی ہے جو اس کی بربریت اور سفاکیت کو تقویت مہیا کر سکتی ہے۔ آتش  و آہن کی اس بارش میں فلسطینی ختم ہونے جا رہے ہیں ان کی نسل کشی کی جا رہی ہے انہیں  ان کی سرزمینوں سے بے دخل کیا جا رہا ہے انہیں صحرا اور جزیروں میں بسانے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ کوئی ان کی داد رسی کرنے پر تیار نہیں ہے۔

تاریخی اعتبار سے یہ فلسطینی مسلمان وہ  ہیں جو ابراہیم علیہ السلام کی ارضِ فلسطین آمد سے پہلے یہاں آباد تھے۔ داؤد ؑ اور سلمان ؑ کے یہاں ہیکل سلمانی بنانے سے پہلے بھی یہی فلسطینی یہاں کے آبادکار تھے ان کا ذکر بائیبل میں بھی ملتا ہے۔ ابراہیم علیہ السلام  تو فلسطین کے باشندے نہیں تھے، حضرت یعقوب علیہ السلام کا تعلق بھی اس خطے سے نہیں تھا۔ یہودی مذہب بھی یہاں جو ان نہیں ہوا تھا۔ شریعتِ موسوی کا تعلق بھی اس خطے سے نہیں تھا۔ پھر صہیونیوں کا اس خطے کو بنی اسرائیل کی آماجگاہ قرار دینا کس طرح مانا جا سکتا ہے؟ عظیم اسرائیل کے قیام کا مطالبہ کس طرح تسلیم کیا جا سکتا ہے؟

یہودیوں کے مکرو فریب اور دجالیت کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ ان میں مکر و شر کی خصوصیات بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں انہوں نے خالص عیسوی دین کو جس طرح بے راہ کیا،توحیدی تعلیمات کو اقانیم ثلاثہ میں بدلا اور عیسیٰ علیہ السلام کی خالص تعلیمات میں ملاوٹ کرکے اسے بے جان رسومات کے مجموعی میں بدل ڈالا۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ مسیح کے قاتل، یہودی، مسیحی حکمرانوں  کی سیاست میں عالم اقوام کے خلاف برسرجنگ ہیں۔ ارض مقدس کے اصلی باسیوں، فلسطینیوں کو بیخ و بن سے اکھاڑنے اور ان کی زمینوں سے بے دخل کرنے کے لئے بڑی یکسوئی سے مصروف عمل ہیں۔7اکتوبر سے جاری یہ جنگ حتمی نتائج تک جاری رہتی نظر آ رہی ہے۔ صہیونی حتمی نتائج حاصل کئے بغیر اس جنگ کو روکنے والے نہیں ہیں۔ فلسطینیوں کا قتلِ عام جاری رہے گا۔ حتیٰ کہ اللہ رب العزت کا فیصلہ جاری ہو جائے۔

مزید :

رائے -کالم -