امریکی ایوان نمائندگان میں پاکستانی الیکشن اور جمہوریت پر 20مارچ کو بحث ہو گی

امریکی ایوان نمائندگان میں پاکستانی الیکشن اور جمہوریت پر 20مارچ کو بحث ہو گی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

                                                              نیویارک (آن  لائن)  امریکی ایوان نمائندگان میں پاکستانی الیکشن اور جمہوریت پر سماعت 20 مارچ کو مقرر کردی گئی ہے جس میں سائفر کی الزامی سیاست کے اہم امریکی عہدیدار ڈونلڈ لو محکمہ خارجہ کا موقف بیان کریں گے۔ میڈیا  رپورٹس کے مطابق امریکی ایوان نمائندگان کی سب کمیٹی برائے مڈل ایسٹ، سینٹرل ایشیا اور شمالی افریقی امور پاکستان کی صورتحال کے بارے میں آئندہ  ہفتے  20 مارچ کو ایک اہم سماعت  کرے گی۔ جاری کردہ نوٹس میں بتایا گیا ہے کہ امریکی محکمہ  خارجہ میں اسسٹنٹ سیکرٹری ڈونلڈلو کو بھی طلب کیا گیا ہے، ڈونلڈلو پاکستان سمیت جنوبی ایشیا اور سینٹرل ایشیا امور کے بیورو کے انچارج ہیں اور بانی پی ٹی آئی نے انہیں اپنی سائفر کی الزامی سیاست کا مرکزی امریکی کردار قرار دے کر بڑی شہرت دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پس پردہ ڈونلڈ لو سے پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت اور بانی پی ٹی آئی امریکی محکمہ خارجہ سے سائفر کو بنیاد بنا کر امریکا کو بدنام کرنے اور پی ٹی آئی حکومت کے تختہ الٹنے کے پروپیگنڈہ  کرنے پر معذرت اور خوشامد کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بدھ  امریکی کانگریس کی فارن افیئرز کی سب کمیٹی پاکستان کی موجودہ صورتحال کے بارے میں جو سماعت کرے گی اس کا عنوان انتخابات کے بعد کا  پاکستان ہوگا، جس میں پاکستان میں جمہوریت کے مستقبل اور  پاک امریکا تعلقات کے بارے میں بیانات اور سوال و جواب ہوں گے۔  امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ میں پاکستان سمیت جنوبی اور سینٹرل ایشیائی امور کے اسسٹنٹ سیکرٹری ڈونلڈ لو اس سماعت کے دوران امریکی محکمہ خارجہ کا موقف بیان کرنے کے علاوہ کمیٹی کے رکن کانگریس مینوں کے سوالات کے جواب بھی دیں گے۔ دریں اثناء  امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے امریکی کانگریس میں معاون امریکی وزیرخارجہ ڈونلڈ لو کی پاکستان میں الیکشن سے متعلق سماعت پر کہا ہے کہ یہ کانگریس کی معمول کی پالیسی کا حصہ ہے، عمران کے ڈونلڈ لو پر الزامات جھوٹے ہیں۔انہوں نے کہا کہ معاون امریکی وزیر خارجہ کو دھمکیاں سنجیدہ معاملہ ہے، کانگریس پالیسی سازی سے متعلق اپنا کام کرتی ہے، عمران خان کے ڈونلڈ لو پر الزامات سے متعلق  سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ الزامات جھوٹے ہیں، ڈونلڈ لو کو دی گئی دھمکیوں کو سنجیدہ لیتے ہیں اور یہ معاملہ بھی کانگریس میں زیر بحث آئے گا۔ 

امریکی کانگریس

مزید :

صفحہ اول -