کھوڑ کے قریب برساتی نالے کے کنارے چولہے جلا لیتے، مصالحے تیار کرتے جیسے ہی کوئی مچھلی قابو آتی منتظر گوریلے اسکاتیا پانچا کر کے کڑاہی میں ڈال دیتے

کھوڑ کے قریب برساتی نالے کے کنارے چولہے جلا لیتے، مصالحے تیار کرتے جیسے ہی ...
کھوڑ کے قریب برساتی نالے کے کنارے چولہے جلا لیتے، مصالحے تیار کرتے جیسے ہی کوئی مچھلی قابو آتی منتظر گوریلے اسکاتیا پانچا کر کے کڑاہی میں ڈال دیتے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد سعید جاوید
قسط:212
  ہماری یہ کارروائی ناکام ہو گئی تھی اور عبدالحق اس کو اللہ کی رضا سمجھ کر دوبارہ اپنی آئی پر آ گیا۔ اس کی عادت میں سرو موفرق نہیں آیا تھا۔ سوچا ایک ہلکا سا جھٹکا اسے اور دینا پڑے گا۔ کوئی مہینے بعد خان محمد نے اتوار کے دن سب بینک والوں کو اپنے گاؤں بلایا اور وہاں شکار اور کھانے کی دعوت بھی دی۔ وہاں عبدالحق کو ایک بار پھر سبق سکھانے کی ٹھانی گئی، سارا پروگرام طے پایا کہ کس طرح کھانے سے ایک گھنٹہ پہلے عبدالحق کو ایک ہلکی خوراک جمال گوٹے کی دی جائے گی۔ طریقہ کار کے مطابق خان محمد نے سب کو ستو پلانے تھے، جس کے ایک گلاس میں عبدالحق کے لیے جمال گوٹے والا ستوبھی ہو گا۔ نشانی اسکی یہ رکھی گئی کہ سارے ایک ہی جیسے نئے گلاس ہوں گے جس میں سب کے سٹکر اترے ہوئے ہوں گے، صرف عبدالحق والے گلاس پر سٹکر لگا رہے گا تاکہ نشان دہی ہو سکے۔ سب نے منصوبہ سمجھ لیا تھا اور مقررہ وقت پر کامیابی سے اس پر عمل بھی ہو گیا۔ کچھ دیر بعد،لیکن کھانے سے ذرا پہلے، عبدالحق صحن میں لگے ہوئے نیم کے درخت کی بڑی سی شاخ سے لٹکتا ہوا پایا گیا۔ وہ بار بار پیٹ پر ہاتھ پھیرتا اور بُرے بُرے منہ بنا رہا تھا۔ پوچھا کیا ہوا، کہنے لگا ”پتہ نہیں سر جی پیٹ میں کچھ گڑبڑ ہے ’گڑاں گڑاں‘ ہو رہی ہے۔“ پھر اچانک وہ گولی کی طرح کھلے کھیتوں کی طرف بھاگ نکلا۔بعد میں اس نے انتہائی بد دلی سے کھانے میں ہمارا ساتھ تو دیا لیکن اس دوران بھی وہ ”کہیں“ آتا جاتا رہا اور سب نے تسلی سے پلاؤ اور دیسی مرغ کھایا۔ عبدالحق بھوکے پیٹ واپس آیا۔ وہ آج تک نہیں سمجھ سکا کہ اصل مسئلہ کیا تھا۔ ہاں اتنا اثر ہوا کہ اب وہ دعوتوں میں کھانا احتیاط سے کھاتا تھا کیوں کہ ہم نے اس کو باور کروا دیا تھا کہ اس کا معدہ کمزور ہو گیا ہے اس لیے ایسے موقعوں پر اپنا ہاتھ ہولا رکھا کرے۔ اب کا توپتہ نہیں لیکن اس وقت اس نے ہماری بات پلّے باندھ لی تھی اور اس پر جزوی ایمان بھی لے آیا تھا،پھر وہ بھی سکون سے رہا اور ہم بھی۔ 
اوپر کہیں شکار کی بات ہوئی تو تھوڑا سا اس کاذکر بھی کر لیا جائے۔کھوڑ میں،میں نے 2 مختلف گروپوں کے ساتھ شکار میں حصہ لیا، ایک تو وہ جو پوائنٹرکتے کے ساتھ تیتروں اور بٹیروں کو پکڑتے تھے۔ صبح صبح چار پانچ لوگ جال اور کتا لے کر کھیتوں میں پھیل جاتے۔ تربیت یافتہ پوائنٹر کتا بھاگتا ہوا جاتا اور تیزی سے ارد گرد کی جھاڑیوں کو سونگھنے لگتا، پھر جس جھاڑی میں تیتر چھپا ہوتا یہ وہاں جا کر ایک خاص انداز میں بت بن کر کھڑا ہو جاتا،اس کی آنکھیں شکار پر جمی ہوتیں اور دم سیدھی کھڑی ہو جاتی۔ اسی دوران اس جھاڑی پر جال پھینک کر تیترکو پکڑ لیا جاتا۔ بغیر خون خرابہ کیے تین چار گھنٹے تک جاری رہنے والا یہ بہترین شکار ہوتا تھاجس میں درجن بھر زندہ پرندے ہاتھ لگ جاتے تھے۔ انھی دوستوں نے بعد میں مجھے بھی اس نسل کے کتے کا ایک بچہ لا کر دیا جسے سکھانے کے لیے ایک استاد آیا اور مجھے اس کی خصوصی تربیت کے اسرار و رموز سمجھائے۔ ہم ایک بٹیر کی دم پر آگ لگا کر فوراً بجھا دیتے اور سلگتی ہوئی دم والا بٹیر اس بچے کو سونگھا کر دور چھپا دیا جاتا۔ پھر وہ ننھا سا کتا شوں شوں کرتا تیزی سے باہر نکلتا اور تھوڑی سی کوشش کے بعدسہما ہوا بٹیر دریافت کر لیتا۔ کچھ عرصے بعد دل بھر گیا تو اس ننھے پوائنٹر کو واپس کر دیا۔ویسے اس نسل کا کتا اس وقت بھی ہزاروں کا ہوتا تھا۔
کھوڑ کے قریب سے ایک برساتی نالہ گزرتا ہے جس میں تقریباً سارا سال ہی تھوڑا بہت پانی چلتا رہتا ہے۔ پانی کے مسلسل بہاؤ سے اس کے کناروں میں کٹاؤ کا عمل جاری رہتا ہے خصوصاً جہاں سے نالہ یکدم مڑتا تو وہاں قدرتی طور پر بہت گہرے تالاب بن جاتے اور ان میں بڑی تعداد میں مچھلیاں پائی جاتی تھیں۔ شکاریوں میں سے کچھ تیراک لڑکے تو جال لے کر پانی میں اتر جاتے اور اسے اندر ہی اندر دیوار کے ساتھ نصب کر دیتے، باقی کنارے پر بیٹھ کر چولھے جلا لیتے، مصالحے تیار کرتے اور کڑاہیوں میں تیل کڑکڑاتے رہتے۔جیسے ہی کوئی مچھلی قابو آتی تو اسے پکڑ کر باہر پھینک دیا جاتا، جہاں منتظر گوریلے اسے دبوچ کر چندلمحوں میں اسکاتیا پانچا کر کے کڑاہی میں ڈال دیتے۔یہ سارا کام اتنی سرعت سے ہوتا تھا کہ بیچاری مچھلی کو توکچھ سمجھ میں ہی نہیں آتا تھا کہ اتنے کم وقت میں اس پر کیا افتاد آن پڑی ہے۔ ابھی دس منٹ پہلے تک تو وہ اپنی ہمجولیوں کے ساتھ پانی میں تیرتی پھر رہی تھی اور اب ابلتے تیل میں غوطے لگا رہی تھی۔(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -