دائیں دلفریب منظر،بائیں دلنشین رنگوں کی بہار، اپنے گم گشتہ سپنوں کی ٹوہ میں بہت دور نکل جائے، اُس پیکر تسلیم و رضا کے قدموں کے نشان پر چلتا جائے 

 دائیں دلفریب منظر،بائیں دلنشین رنگوں کی بہار، اپنے گم گشتہ سپنوں کی ٹوہ میں ...
 دائیں دلفریب منظر،بائیں دلنشین رنگوں کی بہار، اپنے گم گشتہ سپنوں کی ٹوہ میں بہت دور نکل جائے، اُس پیکر تسلیم و رضا کے قدموں کے نشان پر چلتا جائے 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:ع۔ غ۔ جانباز 
 قسط:76
ایک رنگارنگ فیسٹیول
وکٹوریہ سکوائر کے بلند و بالا کلاک جو یہاں کی جی پی اوبلڈنگ میں نسب ہے۔ اس پر 12 بجے کا سماں تھا جب ہم Vegan Festival  دیکھنے وہاں پہنچے۔ وہاں 50 کے قریب سٹالز لگے ہوئے تھے۔ دُھوپ بھی اپنے جوبن پر تھی۔ اور آسٹریلین گوریاں بھی اپنی جسمانی Tanning کی انتہائی بلند ترین بلندیوں پر۔ اس سکوائر کی افتتاحی تختی۔۔۔۔
Victoria R.I.
Hon Sir Edwin Thomos Smith
K.C.MC - MLC - 1894
سٹالز کا ایک چکر لگایا۔ اور چونکہ ہمیں کچھ لینا دینا نہیں تھا لہذا ہم نے باہر نکلنے میں ہی عافیت جانی۔اب ہم King William St.   سے ہوکر Adelaide oval  پہنچے،جس سٹیڈیم میں پاکستان اور انڈیا کا کرکٹ میچ ہوا تھا۔ سٹیڈیم میں تو کوئی سرگرمی نہیں تھی لہذا ہم سامنے جھیل پر متوجہ ہوئے جہاں ایک فوارہ پورے جوبن پر اپنی فوارّیں بکھیر رہا تھا۔ دوسرا فوارہ بیچارہ بس دھیما دھیما۔ شرمایا شرمایا سا لگا۔
وہاں سے چل کر مائیگریشن میوزیم کے سامنے سے گزر کر آگے سٹی کاؤنسل کی پارکنگ میں گاڑی تھرڈ فلورپر پارک کی۔ وہاں سے ہم Rendal Mall پر گئے بس لنڈن کی آکسفورڈ سٹریٹ یاد آ گئی۔ بس ہو بہو اس کی کاپی۔ ہر قسم کے سٹو رز اس مال میں آپکو ملیں گے۔ شاپنگ کا ایک مکمل بازار ہے۔ اس میں دو جگہ والینٹئیرز سنگرز اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے۔ لیکن گزرنے والوں کی جیب پر بھی نظر رکھے ہوئے۔اس مال سے باہر نکلتے ہوئے بائیں طرف تھا جناب "Dovid Jones"   سب سے مہنگا سٹور لیکن ہمیں کیا؟
اب ہمارا دوسرا ہدف تھا Art Gallary of South Australia   
پہلے اور دوسرے فلور پر ڈسپلے تھا   Aboriginal Regional Culture  کا
چوتھے فلور پر تھا Mineral Fossils / Igneous 
وہاں رقم تھا High Pressure and high temperature can change rocks. 
اس فلورپر Mineral Fossils / Rocks  کے ڈسپلے میں آدمی گم سا ہو جاتا ہے۔ Rocks  کے بکھرے رنگ، دھنک کے رنگوں سے بھی آگے جھانکنے کا سندیسہ دے رہے تھے۔دل چاہتا تھا اُن رنگوں میں نہائی Rocks کو اردگرد پھیلا کر آدمی آنکھیں بند کر کے لیٹے اور پھر دائیں مُٹرے تو ایک دلفریب منظر،بائیں مٹرے تو ایک دلنشین رنگوں کی بہار۔ اُن رنگوں میں اپنے گم گشتہ سپنوں کی ٹوہ میں دُور بہت دور نکل جائے۔ اور اُس پیکر تسلیم و رضا کے قدموں کے نشان پر چلتا جائے اور ایک دائمی سکون و شادمانی کی منزل میں بسیرا جا ڈالے۔(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں)

مزید :

ادب وثقافت -