یورپی منڈیوں کو آم کی برآمدات پر ممکنہ پابندیوں کے حوالے سے سیمینار

یورپی منڈیوں کو آم کی برآمدات پر ممکنہ پابندیوں کے حوالے سے سیمینار

لاہور(کامرس رپورٹر)پاکستان ہارٹیکلچر ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ کمپنی‘اے ایس ایل پی‘ڈائریکٹوریٹ پلانٹ پروٹیکشن‘ایف وی اے‘یو اے ایف اور دیگر سٹیک ہولڈرز کے اشتراک سے یورپی منڈیوں میں پاکستانی آم کی برآمدات پر ممکنہ پابندیوں کی روک تھام کےلئے تدارکی و حفاظتی اقدامات کی غرض سے گزشتہ روز یہاں مقامی ہوٹل میںا یک سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں ڈی پی پی‘پی ایف وی اے اور یو اے ایف کے سٹیک ہولڈرز کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔سیمینار کے شرکاءنے یورپی منڈیوں میں پاکستانی آم کی برآمدپر پابندیوں“اس کی افزائش کےلئے بہتر نگہداشتی اقدامات اور ویلیو ایڈڈ سروسز سمیت دیگر امور کے حوالے سے اپنی قیمتی تجاویز و آراءپیش کیں۔ڈائریکٹر جنرل محکمہ پلانٹ پروٹیکشن ڈاکٹر مبارک نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس گھمبیر معاملے پر تمام سٹیک ہولڈرز یکجا ہیں جو کہ خوش آئند

بات ہے اور اس روایت کو مزید آگے بڑھانا ناگزیر ہے۔انہوں نے کہاکہ اس نازک گھڑی میں مل جل کر انتہائی اہم تدارکی اور حفاظتی اقدامات اٹھانا ہوں گے۔

 جس کے لئے صحیح سمت میں فیصلے کرنا لازم ہیں جبکہ سیمینار میں پری شپمنٹ کے حوالے سے بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ڈاکٹر مبارک نے کہا کہ سٹیک ہولڈرز کے اس طرح کے سیمینارز اور اجلاسوں کے انعقاد سے حکومت کو معاملے کے حل کے لئے جامع حکمت عملی کے تعین میں بھرپور مددملے گی۔انہوں نے سٹیک ہولڈرز پر زور دیا کہ وہ آم کی فصل کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لئے ٹھوس اقدامات کریں۔انہوں نے کہاکہ ڈی پی پی اور مینگو انڈسٹری کی جانب سے یورپی منڈیوں میں پاکستانی آم پر ممکنہ پابندیوں سے بچنے کے لئے جو اقدامات کئے گئے وہ لائق تحسین ہیں۔اس موقع پر تمام سٹیک ہولڈرز نے اس حوالے سے فورم کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا اور اپنی تجاویز بھی پیش کیں۔

مزید : کامرس