آر سی سی آئی میں چیمبرز صدور کی پریس کانفرنس ،ایس آر او 351کو مسترد کر دیا

آر سی سی آئی میں چیمبرز صدور کی پریس کانفرنس ،ایس آر او 351کو مسترد کر دیا

                                                              راولپنڈی (کامرس ڈیسک)راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی طرف سے منعقد کی گئی تمام چیمبرز کے صدور کی جوائنٹ پریس کانفرنس میں تمام صدور نے متفقہ طور پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ایس آراو 351(1)/2014کو مسترد کردیا ہے اور اسے کالا قانون قرار دیتے ہوئے حکومت سے فوری واپسی کا مطالبہ کیا ہے اور اس ضمن میں 10دن کی ڈیڈ لائن دے دی ہے بصورت دیگر ملک کی تمام کاروباری برادری اپنے حقوق کی جنگ میں آخری حد تک جا سکتی ہے جس کی تمام ذمہ داری حکومت پر عائد ہو گی ، پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میزبان راولپنڈی چیمبر کے صدر ڈاکٹر شمائل داﺅد آرائیں کا کہنا تھا کہ نئے ایس آر او کے تحت تمام اختیارات ایک ہی شخص کے حوالے کرنے سے بد عنوانی، ذاتی پسند نا پسند اور ہراساں کرنے کا عنصر پیدا ہو گا ،حکومت کو چاہیے کہ وہ موجود ہ نظام میں موجود خامیوں کو دور کرے اور ایسی پالیسیاں وضع کرے جس سے کاروباری برادری کو سہولیات میسر آئیں اورانکے اعتماد میں اضافہ ہو تا کہ وہ بہتر انداز میں ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں ،انہوں نے کہا کہ ایک آمر کے دور میں بزنس فرینڈلی پالیسیاں تھیں جسکی وجہ سے اُس دور کی ترقی کو آج بھی یاد کیا جاتا ہے اور ایک جمہوری اور کاروبار دوست حکومت کی طرف سے ایسے کالے قوانین کی ہر گز توقع نہ تھی،

خیبر سے مہران تک تمام کاروباری برادری ایک پیج پر ہے اور مطالبہ کے نہ ماننے کی صورت میں حکومت کو ٹف ٹائم دیا جائے گا۔ڈاکٹر شمائل نے کہا کہ کاروباری برادری نے کبھی بھی ٹیکس چوری کی حوصلہ افزائی نہیں کی بلکہ حکومت کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر ٹیکس چوری کے کلچر کے خلاف نبردآزما ہے اور حکومت کو ٹیکس نیٹ میں اضافے کی کئی تجاویز دی چکی ہے لیکن حکومت نے بھی شاید موجودہ ٹیکس گزاروں کو لتاڑنے کی قسم کھا رکھی ہے ، ٹیکس ہدف کو حاصل کرنے کے لئے حکومت دوسرے شعبوں پر ٹیکس کی بجائے پہلے سے موجود ٹیکس پیئرز پر مزید بوجھ ڈال رہی ہے جو کسی طور بھی قابل قبول نہیں، کاروباری برادری پہلے ہی بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ،بھتہ خوری، اغواءبرائے تاوان وغیرہ کے گھمبیر مسائل کا شکا رہے اور اُس پر اس قسم کے ایس آر اوز کاروبار کو تباہ کرنے کے مترادف ہیں ،حکومت ایک طرف تو سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کی بات کرتی ہے تو دوسری طرف ایس آر او 351جیسے کالے قوانین کا نفاذ بھی کر دیتی ہے دوسرے الفاظ میں کاروباری برادری ایسے حکومتی اقدامات کا مطلب یہ لیتی ہے کہ پاکستان کاروبار کرنے کے قابل نہیں رہا اپنے سرمائے بیرونی ممالک شفٹ کر لیں لیکن کاروباری برادری محب وطن ہے اور ملک میں رہ کر ہی اپنے آئینی اور قانونی حق کےلئے اپنی آواز بلند کرتی رہے گی اور اس ضمن میں کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر برائے تجارت خرم دستگیر کی طرف سے ایف بی آر میں ایس آر او کلچر کے خاتمہ کی یقین دہانی کے باوجود کالے ایس آر او 351کا اجراءسمجھ سے بالا تر ہے ، بورڈکاروبار مکاﺅ پالیسی پر گامزن ہے جو کسی طور بھی قابل قبول نہیں ، کاروباری برادری نے ملکی مفاد میں کئی کڑوے گھونٹ پیئے اور حکومت کا مکمل ساتھ دیا کیونکہ کاروباری طبقہ بالخصوص چیمبرز اور تاجر تنظیمیں احتجاج اور دھرنوں پر یقین نہیں رکھتیں مگر اب پانی ناک سے اوپر گز رچکا ہے حکومت کو ایس آر او واپس لینا ہے اس سے کم کاروباری برادری ماننے والی نہیں ،انہوں نے ایس آر او 351(1)2014کے تمام قانونی پہلوﺅں سے میڈیا کو آگا ہ کیا اور تفصیل سے بریفنگ دی جسکے تحت چیف کمشنر کے تمام اختیارات ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس اینڈ انوسٹی گیشن کو تفویض کر دئے گئے اور یوں طاقت کا مرکز ایک ہی ذات تک محدود کر دیا گیا انہوں نے کہا کہ ہر مہذب معاشرے میں کسی بھی پالیسی کی تشکیل کے حوالے سے اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت اور اُنکو اعتماد میں لے کر پالیسیا ں ترتیب دی جاتی ہیں جبکہ پاکستان میں تمام چیمبرز کے کئی بار کہنے پر بھی حکومت کاروباری برادری کو آن بورڈ لینا ضروری نہیں سمجھتی ،تمام چیمبرز درپیش تما م مسائل کا تشفی حل چاہتے ہیں اور اسکے لئے ہر قربانی کےلئے تیار ہیں ۔پریس کانفرنس میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز، لاہورچیمبر،خیبر پختونخواہ چیمبر، سر گودہاچیمبر،شیخوپورہ، گجرات چیمبر، جہلم،اٹک،اسلام آباد اور وومن چیمبر لاہور کی طرف سے نمائندے موجو دتھے۔

مزید : کامرس