مظبوط ٹیم کی تشکیل اولین ترجیح ہے ذمہ داری چیلنج سمجھتا ہوں یونس وقار

مظبوط ٹیم کی تشکیل اولین ترجیح ہے ذمہ داری چیلنج سمجھتا ہوں یونس وقار

               ممبئی ( نیٹ نیوز)پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈکوچ وقاریونس نے کہا ہے کہ قومی ٹیم کے تمام سپورٹ سٹاف کی بھرتی میں میری مشاورت شامل ہے،90ءکی دہائی کے کرکٹرز کی پاکستان کرکٹ کی خدمت کیلئے سامنے آنا خوش آئندہے،ورلڈکپ سر پر ہے،میگا ایونٹ کیلئے جنگی بنیادوں پر تیاریاں شروع کرنا ہوں گی۔بھارتی خبررساں ادارے کو انٹرویومیں سابق کپتان نے کہاکہ بورڈ کے ساتھ طے شدہ معاہدے کے مطابق بورڈ قومی ٹیم کے تمام سپورٹ سٹاف کی بھرتی میں میری مشاورت کررہا ہے ،دنیا کا بہترین سپورٹ سٹاف تعینات کررہے ہیں جس سے ٹیم کی پیشہ وارانہ صلاحیتیوں میں اضافہ ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ معاہدے کے مطابق ٹیم کے انتخاب میں میری رائے حتمی تصور ہوگی ، معین خان کے ساتھ ہم آہنگی ہے ،کوشش ہوگی کہ پاکستان کرکٹ کو فتوحات کے راستے پر گامزن کریں ۔انہوں نے کہاکہ90ءکی دہائی کے کرکٹرز کی پاکستان کرکٹ کی خدمت کیلئے سامنے آنا خوش آئندہے،اس وقت میرے دور کے بیشتر کھلاڑی پاکستان کرکٹ کی خدمت کررہے ہیں ، مشتاق احمد ، اعجازاحمد،باسط علی ، معین خان ،محمد اکرم ، شعیب محمد ، وجاہت اللہ واسطی ، سلیم یوسف نوے کی دہائی کے کھلاڑی ہیں جن کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔وقاریونس نے کہاکہ و رلڈکپ سر پر ہے،میگا ایونٹ کیلئے جنگی بنیادوں پر تیاریاں شروع کرنا ہوں گی،بڑے دعوے ٰ نہیں کروں گالیکن یہ ضرور کہتا ہوں کہ قومی ٹیم میدان میں جان لڑاتی نظر آئے گی ۔ان کا کہنا تھا کہ اس کے لیے انہیں تمام لوگوں کا تعاون درکار ہوگا۔ وقار یونس کا کہنا تھا کہ ایک مضبوط ٹیم کی تشکیل ان کی اولین ترجیح ہے۔’تمام لڑکے میرے لیے نئے نہیں ہیں میں انہیں اچھی طرح جانتا ہوں۔ان کے ساتھ پہلے بھی کام کرچکا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ کھلاڑیوں، بورڈ اور میڈیا کے تعاون سے ٹیم کی خامیوں کو دور کر کے اسے ایک مضبوط ٹیم بنایا جائے گا۔وقار یونس نے کہاکہ کوچنگ کا مجھے آئیڈیا ہے یہ کیسے کی جاتی ہے۔ پاکستانی ٹیم کے ساتھ کوچ اور بولنگ کوچ کے علاوہ میں آئی پی ایل اور سری لنکن لیگ میں بھی کوچنگ کرچکا ہے مجھے یقین ہے کہ میرا تجربہ پوری طرح میدان میں نظر آئے گا۔‘وقاریونس نے کہاکہ یہ بات درست ہے کہ قوم کرکٹ کے سلسلے میں جذباتی ہے اور ہر کوئی پاکستانی ٹیم سے یہی توقع رکھتا ہے کہ وہ ہر میچ جیتے۔ کوشش تو یہی ہوگی کہ ہر میچ جیتا جائے لیکن ایسا ممکن نہیں ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’یہ بات بھی درست ہے کہ ورلڈ کپ میں سال سے بھی کم وقت رہ گیا ہے لہذا کوشش یہ ہوگی کہ عالمی کپ سے قبل پاکستانی ٹیم جتنی بھی سیریز کھیلے ان میں کھلاڑیوں کو مواقع دیے جائیں تاکہ وہ خود کو عالمی ایونٹ کے لیے تیار کر سکیں۔ میں یہ تو نہیں کہتا کہ پاکستان ورلڈ کپ جیت جائے گا لیکن اتنا ضرور ہے کہ اپنی تمام تر صلاحیتوں کے مطابق اچھے سے اچھا کھیل پیش کیا جائے گا۔

 

مزید : کھیل اور کھلاڑی