شوپیاں میں چھوٹے گیلانی کے نام سے مشہور نوجوان گرفتار

شوپیاں میں چھوٹے گیلانی کے نام سے مشہور نوجوان گرفتار

شوپیاں(کے پی آئی)مقبوضہ کشمیر کی پولیس نے بدھ کو شوپیاں میں چھوٹا گیلانی کے نام سے جانے جانے والے ایک نوجوان کو گرفتار کرلیا۔ گذشتہ 3 برسوں کے دوران یہ مذکورہ نوجوان کی تیسری بار گرفتار ی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سنگبازی کے تحت اس کے خلاف 12 کیس رجسٹر ہیں۔ تاہم فیصل امین میر (چھوٹا گیلانی) ولد محمد امین میر ساکن کھانڈے محلہ بونہ بازار شوپیاں کے افراد خانہ کا کہنا ہے کہ وہ عمر کے لحاظ سے چھوٹا ہے۔ فیصل امین کو گاگرن شوپیاں میں اس کے ایک رشتہ دار کے گھر سے گرفتار کرلیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے فیصل قصبے میں پتھر بازی کا کلیدی کردار مانا جاتا ہے اور وہ کئی کیسوں میںملوث ہیں اور پولیس کو کئی مہینوں سے اس کی تلاش تھی۔ فیصل کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ 9 ویں جماعت میں پڑھتا ہے اور پولیس نے اس کے خلاف کئی کیس درج کئے ہیں۔ فیصل امین کے ایک رشتہ دار نے بتایا کہ اس کی تاریخ پیدائش 12 ستمبر 2000 ہے اور سکول ریکارڈ میں بھی اس کی تاریخی پیدائش یہی درج ہیں۔ ایس پی شوپیاں شوکت شاہ نے بتایا فیصل نہ صرف منشیات کا عادی ہے۔

 بلکہ ایک سرکردہ سنگباز ہے، وہ 12 کیسوں میں پولیس کو مطلوب تھا جن میں کشمیر یونیورسٹی کے پروفیسر کو پتھراو سے زخمی کرنے کا معاملہ بھی ہے، وہ اس سے قبل بھی 2 بار گرفتار ہوا۔ ایس پی نے مزید کہا کہ موجودہ سال کے دوران اس کے خلاف 8 کیس درج کئے گئے جبکہ 2013 میں 3 اور 2012 میں اس کے خلاف ایک کیس درج ہے۔ پولیس کے ضلع سربراہ نے کہا کہ قصبے میں غنڈہ گردی کرکے ہڑتال کروانے میں وہ پیش پیش رہا ہے۔ ایس پی نے مزید کہا کہ اس کی تاریخ پیدائش کا تعین کیا جارہا ہے اور اس کے بعد ہی اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ جنوبی کشمیر میں پولنگ کے روز چھوٹا گیلانی کے نام سے جانے جارہے فیصل امین قصبے میں اچانک نمودار ہوا تھا اور اس نے کہا تھا کہ وہ اپنی تعلیم کو اچھی طرح سے جاری رکھے ہوئے تھا جب ساتویں کلاس میں اس کو پولیس نے اپنے عتاب کا نشانہ بنایا۔ اس نے بتایاکہ اس پر سنگ بازی کے الزام میں پی ایس اے لگایاگیا اور سخت سزا دی گئی۔ اس نے الزام لگایاکہ پولیس نے اس کی کتابیں تک جلا ڈالیں اور سکول چھوڑنے پر مجبور کردیا۔ اس نے کہا تھاکہ اس کے بعد وہ اپنی تعلیم کوجاری نہیں رکھ سکا اور اب پولیس کی زیادتیوں کے خلاف مزاحمت کررہاہے ۔

مزید : عالمی منظر