کیا موجودہ ”جمہوری نظام“ انقلاب کا ذریعہ بن سکتا ہے

کیا موجودہ ”جمہوری نظام“ انقلاب کا ذریعہ بن سکتا ہے
کیا موجودہ ”جمہوری نظام“ انقلاب کا ذریعہ بن سکتا ہے

  

پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی اس ملک میں الیکشن ہوئے، ہارنے والے فریق نے دھاندلی کا الزام لگایا اور جیتنے والے25سے30فیصد ووٹ لے کر اقتدار کے مزے لوٹتے رہے، ہارنے والے کچھ دیر واویلا کر کے بعد ازاں ملک کے وسیع تر مفاد میں فرینڈلی اپوزیشن کا کردار ادا کر کے حزب اختلاف میں بھی رہے اور بعض اوقات وزارتوں میں بھی حصہ لیا۔ یہ انوکھا اندازِ جمہوریت ہمارا قومی وطیرہ ہے۔

گزشتہ سال کے الیکشن جس کے نتیجے میں مسلم لیگ(ن) برسر اقتدار ہے، یہ الیکشن بھی ایک انتہائی دیانتدار اور باعمل چیف الیکشن کمشنر کی نگرانی میں ہوا، اس الیکشن کے بعد نواز شریف وزیراعظم اور اُن کے بھائی شہباز شریف بڑے صوبے کے وزیراعلیٰ بنے اور ان کے اختیارات عملاً موروثی بادشاہت کی طرز پر حمزہ شہباز شریف کے پاس ہیں، جو خود کبھی بلاول بھٹو زرداری اور پرویز الٰہی کے بیٹے مونس الٰہی پر اعتراض کرتے تھے۔

الیکشن کے بارے میں پہلے مسلم لیگ(ق) نے کہا کہ دھاندلی سے ہمیں ہرایا گیا ہے۔ بعد ازاں عمران خاں نے فرمایا کہ اگر دھاندلی نہ ہوتی تو نواز شریف وزیراعظم نہ ہوتے، کراچی میں جماعت اسلامی نے دھاندلی کے خلاف بائیکاٹ کیا، پنجاب میں نگران وزیراعلیٰ نجم سیٹھی پر35 حلقوں کو پنکچر کرنے کے صلے میں کرکٹ کے ”بے تاج بادشاہ“ کے انعام کا تذکرہ جاری ہے۔مذکورہ بالا فرمودات کی روشنی میں ایک عام شہری سنجیدگی سے سوچتا ہے کہ یہ ”جمہوری ناٹک“ ملک کو کہاں لے جائے گا، موجودہ حکومت کے خلاف نئی مہم جوئی، جس میں حضرت طاہر القادری بھی اپنی تمام کرامات کے ساتھ شامل ہو رہے ہیں، آنے والے حالات کی نشاندہی کرتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ پاکستان جیسا غریب ملک جہاں بڑی جماعتیں18 کے قریب ہیں اور کاغذی اور فرد واحد کی جماعتوں کو ملا کر جن کی تعداد100کے قریب ہے، کیا وہاں موجودہ ”جمہوری سسٹم“ اگر وہ ”جمہوری“ ہے تو کس حد تک پاکستان کو ایک جمہوری ریاست بنا سکتا ہے۔ ایک ایک حلقہ میں جب20سے زائد امیدوار ہوں گے اور عملاً 25فیصد ووٹ لینے والا آدمی جب ایم پی اے یا ایم این اے بنے گا اور وہ لاکھوں خرچ کر کے کروڑوں کمانے کی امید سے سیاست میں حصہ لے گا نتیجہ کیا ہو گا۔ عملاً25سے30فیصد ووٹ لینے والی جماعتیں اقتدار کے مزے لوٹتی ہیں۔اکثریتی ووٹ تقسیم ہونے کی وجہ سے اقلیت کی حکومت قائم ہوتی ہے جسے ہم جمہوریت کیسے کہہ سکتے ہیں۔ فرانس اور حال ہی میں افغانستان میں50فیصد سے زائد ووٹ نہ لینے والے کو دوبارہ انتخابی حصہ سے گزرنا پڑتا ہے۔ پاکستان کے سیاست دانوں، دانشوروں اور اہل علم کو غور کرنا چاہئے کہ کیا ہمیں موجودہ نظام سے نجات پانے کی ضرورت ہے یا نہیں؟ موجودہ نظام میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ برادری، سرمایہ کی ریل پیل ، کلاشنکوف کلچر اور ووٹوں کی خرید و فروخت بنیادی کردار ادا کرتی ہے جو جمہوریت کی روح کے منافی ہے۔

کیا ہمیں ایک نئے سیاسی نظام کی ضرورت نہیں، جو ہمارے ملکی حالات کے مطابق اور اس کی ضرورت ہو! موجودہ نظام میں تو وہی جاگیردار سرمایہ دار جو نسل در نسل موروثی حاکمیت سے لطف اندوز ہو رہے ہیں اور وہ خاندان جن کو انگریز کاشت کر گیا ہے، باری باری قوم کی گردن پر مسلط ہوتے ہیں، کوئی متوسط، غریب، عالم دین شریف اور تقویٰ کا حامل انسان موجودہ نظام میں حصہ لینے یا کامیاب ہونے کا سوچ بھی نہیں سکتا!ہمارے ملکی حالات میں ابتدا ہی سے متناسب نمائندگی کو بہتر تصور کیا گیا، جس میں کسی ووٹ کے ضائع جانے یا کسی جماعت کواپنی افرادی قوت کے مطابق حصہ ملنے کی توقع ہوتی ہے۔ اگرچہ یہ مہنگا اور ہمارے حالات کے مطابق غیر معروف طریقہ ہے۔ اگرچہ حالات کچھ بھی ہوں، ہمیںاس جمہوری نظام، جو حقیقی طور پر غیر جمہوری ہے سے نجات پانے کی ضرورت ہے۔

ہمارے ملکی حالات تقاضا کرتے ہیں کہ وزیراعظم کے مروج طریقہ چناﺅ کو ہم اپنے ملکی حالات کے مطابق بدلیں۔ اگرچہ اس تجویز کو جمہوریت میں ایک نئی طرح کا نام دیا جائے گا، مگر جس ملک میں اسمبلی کو بقول ولی خاں 32کروڑ میں خریدا جا سکے، ہر رکن کو ووٹ کے لئے ایک کروڑ یا دو کروڑ میں خریدا جا سکے، وہاں ارب پتی انسان وزیراعظم بن سکتا ہے، کیا ممکن نہیں کہ ہم صدارتی انتخاب کی طرح وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کی پوسٹ کے لئے براہ راست ووٹ کی نئی طرز کو آئین کا حصہ بنائیں، جب تک صدر، وزیراعظم، وزیراعلیٰ50فیصد(عوام کے ووٹ) سے زائد ووٹ نہ لیں، کامیاب قرار نہ دیا جائے، وہ بالواسطہ اسمبلیوں کے ذریعے نہ آئیں (اگرچہ یہ تجویز مروجہ جمہوری نظام کے خلاف ہے) لیکن کیا ضروری ہے کہ ہم انگریز کے وضع کردہ نظام کی تائید میں الیکشن میں اربوں روپے لگا کر اپنے موروثی خاندانوں کو مسلط رکھیں۔

ہمارے سیاست دانوں کو سوچنا چاہئے کہ کیا ہم موجودہ ”جمہوری“ طریقے سے ملک میں کوئی انقلاب لا سکتے ہیں؟ باالخصوص یہ سوال جماعت اسلامی کے دانشوروں کے لئے قابل غور ہے، جو سمجھتے ہیں کہ جمہوریت کے ذریعے بار بار الیکشن کے بعد وہ صالح قیادت کو برسر اقتدار لا سکیں گے؟65سالہ تجربات نے قوم کو مایوس کیا ہے۔ دانشور کہتے ہیں کہ اگر سو سال بھی اسی طرح الیکشن ہوتے ہیں تو صالح دیانت دار اور مخلص قیادت کبھی اقتدار کے ایوانوں میں نہیں آئے گی، یہی چند خاندان باری باری قوم کے مقدر کا ستارہ بنیں گے اور وہی ہو گا، جو پہلے ہو رہا ہے۔دھاندلی ثابت بھی ہو جائے، تو یہ لوگ اقتدار سے محروم رہیں گے؟ جعلی سندوں والے نااہل قرار پا کر بھی بھاری اکثریت سے اسمبلیوں میں موجود ہیں۔ شق نمبر62،63 کے معیار پر پورا اترنے والا کون سا آدمی آج اسمبلی میں ہے۔

خدارا! ملک کو بچانے کے لئے اور انقلاب کے لئے انقلابی اقدامات کو آئین کا حصہ بنایئے!کیا مولانا طاہر القادری انقلاب کا یہ رُخ اختیار کریں گے!

مزید : کالم