منشیات اور اس کی روک تھام

منشیات اور اس کی روک تھام
منشیات اور اس کی روک تھام

  

 جناب من!تاریخ انسانی میں ہمیں قرآن پاک کا یہ حکم اپنی پوری افادیت اور آب و تاب کے ساتھ ملتا ہے کہ جس میں خمراور میسر کو رجس قرار دیکر ان کی ممانعت فرمائی گئی اور شیطانی عمل قرار دیا گیااورمذاہب عالم کی تاریخ میں یہ شراب کی حرمت کا پہلا حکم تھا۔جی ہاں حرمت شراب کا آنحضرت ﷺنے اپنے متبعین کو حکم دیا اور نہ صرف شراب کو حرام قرار دیا بلکہ اس کی حرمت کے عقلی دلائل بھی نہایت وضاحت سے بیان فرمائے اور آپنے واضح طور پر فرمایا کہ جس چیز کی کثرت سے نشہ پیدا ہو اس کی قلیل مقدار کا استعمال بھی جائز نہیں ۔(سنن ابی داﺅد)بہرحال جب نشہ کی بات کی جائے تو ذہن میں ہیروئن اور کوکین کا تصور ابھرتا ہے مگریہ حقیقت نفس ا لامری ہے کہ اس میں شراب نوشی بھی شامل ہے اور یہ ایک اتنی گندی اور مکروہ چیز ہے کہ انسان کی روحانی زندگی پر بھی اثرانداز ہوتی ہے بقول غالب:          

 یہ مسائل تصوف، یہ ترا بیان غالب             تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا !

یعنی اس کو استعمال کرنے والے بھی اس کی روحانی تباہی کے قائل ہیں اور اس کا اثر انسانی اخلاق پر بھی پڑتا ہے اور متشددانہ رجحان ،جنسی بے راہ روی اور جرائم میں اضافہ اس کے بے محابا استعمال کے منطقی نتائج ہیں اور یہ اٹل حقیقت ہے کہ غیر مرد کے ساتھ غیر عورت کے ناجائز اختلاط نے جہاں جنسی بے راہ روی اور بے حیائی کو پروان چڑھاکر ایڈز جیسی خوفناک اور موذی مرض کو جنم دیا ہے وہاں آج کے دور خرابی میں شراب اور دیگر منشیات کی تند اور تیز لہروں نے انسانی شرم و حیا ،عزت اورعصمت کو خس و خاشاک کی طرح بہا دیا ہے اور آج دنیا میں چالیس کروڑ کے قریب افراد نشے کے عادی ہو کر بے راہ روی کا شکار ہو چکے ہیں اور یہ تعداد شراب کے علاوہ دیگر منشیات کے استعمال کرنے والوں کی ہے کہ یہ لوگ سفلی جذبات کی رو میں بہ کر قعر مذلت میں جا پڑے ہیں اور دنیا و ما فیہا سے بے خبر مردوں کی سی زندگی گزار رہے ہیں ۔ اسی طرح ایک اور نشہ افیون کا ہے کہ یہ افیون مختلف ادویات میں استعمال ہوتی ہے اور کئی اطباءنے اسے نصف طب قرار دیا ہے اور اسکندر اعظم اس کے پودے کو اس علاقہ میںلے کر آیا۔

یہ افیون در حقیقت خشخاش کے پودے کے کچے پھل کا منجمد رس ہے اور ہمارے دوست پروفیسر وقارحسین صاحب نے بتایا کہ افیون میں ایک کیمیکل ایسٹک این ہائیڈرائیڈ (Acetic Anhydride)ڈال کر ہیروئن تیار کی جاتی ہے جو کہ انتہائی خطرناک نشہ ہے ۔اسی طرح اس افیون سے1813ءمیں مارفین تیار کی گئی جو کہ دافع درد ہوتی ہے اور خواب آور ہوتی ہے بہرحال انگریزوں نے جب ہندوستان پر قبضہ کیا تو سب سے پہلے افیون کی تجارت کو قابو کیا اور کاشت کاروں پر پابندی لگا دی کہ وہ صرف حکومت انگلشیہ کو تمام فصل فروخت کریں گے اویہ ٹنوں کے حساب سے چین بھیجی جاتی تھی اور اس طرح انگریزوں کو ہندوستان سے ہونیوالی آمدن کا بیس فیصد افیون کی تجارت سے حاصل ٍہوتا تھا ۔انگریزوں اور چینیوں کے درمیان جنگ افیون کے نام سے دو جنگی معرکے بھی ہوئے جن میں چینیوں کو شکست ہوئی اور چین کو ہانگ کانگ سے ہاتھ دھونا پڑے ۔

چینی قوم افیون کی اس قدر عادی ہو چکی تھی کہ ایک سروے کے مطابق1913ءمیں چینی آبادی کا ہر چوتھا آدمی افیون استعمال کرتا تھا ۔پھر چشم فلک نے ایک اور نظارہ دیکھا ماﺅ زے تنگ نے مردہ قوم میں جان پیدا کردی اور آج چاردانگ عالم میں چینی قوم کا ڈنکا بج رہا ہے آج پاکستان کو بھی ایسے ہی عظیم لیڈر کی ضرورت ہے ۔اس ضمن میں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ افغانستان ہر سال سات ہزار ٹن کے قریب افیون پیدا کرتا ہے جو کہ پوری دنیا میں پیدا ہونے والی افیون کا ستر فیصد سے زائد بنتا ہے اسی طرح چرس ،گانجا اور گردا وغیرہ کی بھی بڑی مقدار افغانستان میں پیدا ہوتی ہے اور ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ منشیات کی ایک بڑی مقدار افغانستان سے بارڈر کھلا ہونے کی وجہ سے پاکستان میں داخل ہو جاتی ہے اور2013ءکی ایک رپورٹ کے مطابق چھ ملین سے زائد بالغ افراد پاکستان میں منشیات کا شکار ہوئے جن میں بیس فیصد عورتیں بھی شامل ہیں اور یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ افغانستان کے ساتھ ہماری سرحد کھلی ہوئی ہے اور منشیات کے سوداگروں کی وہاں سے پاکستان میںبے محابا آمدورفت جاری ہے اور جب تک بارڈر کے معاملہ میں ٹھوس اقدامات نہیں کئے جاتے اور منشیات فروشوں کی آمد ورفت جاری رہتی ہے۔

 اس وقت تک پاکستان کو منشیا ت سے پاک ملک قرار دینے کا خواب ”ایں خیال است ومحال است و جنوں “کے مصداق محض خواب ہی رہے گا ۔اس لئے اب وقت آگیا ہے کہ حکومت پاکستان فولادی عزم کے ساتھ موت کے سوداگروں کا جو نشہ کا زہر نوجوان نسل کی رگوں میں اتار رہے ہیں قلع قمع کرے کہ ابتک اس ضمن میں تغافل شعاری کو اختیارکیا گیا جس کے بھیانک نتائج نکل رہے ہیں اور جگہ جگہ منشیات کا شکارافرادجن کو ”جہاز“کہا جاتا ہے گرتے پڑتے نظر آتے ہیں اور منشیات کا اژدھا مزید نوجوانوں کو نگلتا چلا جارہا ہے۔جبکہ نشہ کی ہیجانی کیفیت اور انتہا ءدرجہ کی جسمانی لذت اورمستی کے عوض حقیقی امن و سکون ،طمانیت قلب ،احساس تحفظ ،شرافت اور غیرت سبھی ہاتھ سے جاتا رہتا ہے اور اس بات کا ادراک نشہ کرنے والے شخص کو قطعًا نہیں ہوتا ۔غرضیکہ نشہ کے عادی نوجوان معاشرہ میں ایک عضو مفلوج کی سی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں اس لئے حکومت کو ان لوگوں کی بحالی کیلئے خصوصی اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ وہ معاشرہ کے فعال وجود کے طور ملک و قوم کی ترقی اور سربلندی کیلئے اپنا کردار کما حقہ ‘ ادا کر سکیں ۔اللہ تعالی©©©©©© سے دعا ہے کہ وہ تمام پاکستانیوںکو ہر قسم کی آفتوں اور نشوں سے سلامت اور محفوظ رکھے ۔آمین:

 خدا کرے کہ مری ارض پاک پہ اترے

وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو

مزید : کالم