کراچی اجلاس اور وزیراعظم کی کا میاب حکمت ِ عملی

کراچی اجلاس اور وزیراعظم کی کا میاب حکمت ِ عملی
کراچی اجلاس اور وزیراعظم کی کا میاب حکمت ِ عملی

  

میری طرح تمام پاکستانیوں کو کراچی میں اعلیٰ سطحی حکومتی اجلاس کے بعد اب یقین آیا ہوگا کہ حکومت کراچی کے حالات درست کرنے میں حد درجہ سنجیدہ ہے۔وزیراعظم محمد نوازشریف نے میرے نزدیک یہ ایک ایسا چھکا مارا ہے کہ جس کے دور رس سیاسی اثرات بھی نکلیں گے اور کراچی کے حالات پر بھی بہت مثبت اثر پڑے گا۔اس اجلاس کو جس طرح ڈیزائن کیا گیا، وہ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔جس طرح تصویر کو مکمل کرنے کے لئے اس کے ہر پہلو پر نظر رکھی جاتی ہے، اسی طرح اس اجلاس میں ان تمام قوتوں کو ایک جگہ اکٹھا کرنے کی کامیاب سعی کی گئی، جو کراچی کے حالات کو بہتر بنانے میں معاونت کر سکتی ہیں۔ایسے حالات میں کہ جب ملک کے کچھ طبقے یہ تاثر دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ حکومت اور فوج میں دوریاں ہیں، وزیراعظم نے اجلاس میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو اپنے ساتھ بٹھا کر اس تاثر کو یکسر غلط ثابت کردیا۔پھر اس اجلاس میں ڈی جی آئی ایس آئی بھی موجود تھے، جس کا مطلب ہے فوج نے اپنا تمام تر وزن حکومت کے پلڑے میں ڈال دیا۔گویا کراچی اجلاس نے ایک بہت بڑا ابہام دور کردیا۔اس کے کراچی میں جاری آپریشن پر تو اثرات مرتب ہوں گے ہی، ملکی صورت حال خصوصاً سیاسی سطح پرپائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ بھی ہوگا۔

کراچی کے حالیہ اجلاس میں سابق صدر آصف علی زرداری کی شرکت بھی وزیراعظم محمد نوازشریف کی بہت اہم حکمت عملی ہے۔وہ چاہتے تو وزیراعلیٰ سندھ کی موجودگی سے کام چلا لیتے، کیونکہ وہ پیپلزپارٹی کی نمائندگی بھی کرتے ہیں، لیکن انہوں نے آصف علی زرداری کو اجلاس میں شرکت کی دعوت دے کر ایک تیر سے کئی شکار کھیلنے کی حکمت عملی پر عمل کیا ہے۔ کراچی کے بارے میں اگرچہ آپریشن کی حد تک وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کو کپتان بنایا گیا ہے اور اس بار تو وزیراعظم نے انہیں ٹوئنٹی ٹوئنٹی کھیلنے کا مشورہ بھی دیا ہے، تاہم اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ وزیراعلیٰ سندھ فیصلہ سازی میں آزاد نہیں، انہیں ہر معاملے میں بلاول ہاﺅس کی طرف دیکھنا پڑتا ہے،اس لئے اگر آصف علی زرداری اجلاس میں موجود نہ ہوتے تو کراچی کے بارے میں کئے جانے والے فیصلوں کو وہ طاقت اور پذیرائی نہ ملتی، جو آصف علی زرداری کی شرکت کے ساتھ ملی ہے۔ ان کی شرکت سے یہ واضح پیغام ملا ہے کہ حکومت کراچی کے حالات کو ٹھیک کرنے کے لئے جو اقدام بھی اٹھانے جا رہی ہے، اسے پیپلزپارٹی اور سندھ حکومت کی مکمل تائید حاصل ہے۔وزیراعظم نوازشریف نے اگر کراچی کی حد تک یہ کامیابی حاصل کی تو سیاسی سطح پر بھی وہ آصف علی زرداری کو اپنے دائیں جانب بٹھا کر بہت کچھ کہنے اور پیغام دینے میں کامیاب رہے۔اسی دن پاکستان تحریک انصاف کا وفد اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ سے ملا اور ان سے انتخابی اصلاحات نیز دھاندلی کے خلاف اپنی مہم کے سلسلے میں تعاون کی درخواست کی، اب شاہ جی بھلا حکومت کے خلاف انہیں کیا تعاون فراہم کرتے، جب ان کے پارٹی سربراہ محمد نواز شریف کے ساتھ بیٹھ کر عملاً پیغام دے رہے ہوں کہ وہ حکومت کے ساتھ ہیں۔ اگرچہ آصف علی زرداری نے پہلے ہی یہ اعلان کر رکھا ہے کہ وہ موجودہ حکومت کو پانچ سال تک حکومت کرنے کی اپنی طرف سے ضمانت دیتے ہیں تاہم اب چونکہ سیاسی سطح پر ایک ہلچل سی ہے، اس لئے پیپلزپارٹی کے چیئرمین کی طرف سے تجدید عہد کی ضرورت بہر طور موجود تھی، تاکہ سیاسی حلقوں کو ایک واضح پیغام دیا جا سکے کہ اتحادی سیاست میں دراڑ ڈالنے کی قعطاً کوئی گنجائش موجود نہیں۔

چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کی اجلاس میں شرکت بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ پہلے اس نوعیت کے اجلاسوں میں کورکمانڈر کراچی یا ڈی جی رینجرز شریک ہوا کرتے تھے، مگر اس بار وزیراعظم محمد نواز شریف نے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے جنرل راحیل شریف کو اجلاس میں شرکت کی دعوت دی۔ یوں اس اجلاس کی اہمیت دوچند ہو گئی، کیونکہ آرمی چیف نے واشگاف الفاظ میں اس بات کی یقین دہانی کرا دی کہ فوج وفاقی اور صوبائی حکومت کے ہر اُس اقدام کی خلوص نیت سے حمایت کرے گی، جو ملک و قوم کی بہتری کے لئے اُٹھایا جائے گا۔ اُن کا یہ کہنا بہت خوش آئند ہے کہ ہم آگے بڑھنا چاہتے ہیں، اس جملے کی معنویت پر غور کیا جائے، تو بہت سے اہم پہلو سامنے آتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ فوج اب پیچھے مڑ کر نہیں دیکھنا چاہتی۔ وہ اپنے ماضی کے اس کردار کو دہرانے کے لئے قطعاً تیار نہیں، جو آئین اور جمہوریت کی بساط لپیٹنے سے وابستہ ہے۔ وہ آگے بڑھنا چاہتی ہے اور اس کی خاطر ہر قربانی دینے کو تیار ہے۔ جنرل راحیل شریف کی اجلاس میں شرکت سے کراچی کے عوام کو بھی یقینا ایک نیا حوصلہ ملا ہے اور اُن کے دِلوں میں یہ اُمید پیدا ہو چکی ہے کہ اب یہ شہر قتل و غارت گری کے آسیب سے نکل آئے گا۔ اس سے کراچی کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو بھی یہ پیغام ملا ہے کہ اب کراچی آپریشن میں فیورٹ ازم کی پالیسی نہیں چلے گی، سب کو جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن کی حمایت کرنی ہو گی، دوسرے لفظوں میں انہیں اُس چھتری کو ختم کرنا ہو گا، جو وہ ٹارگٹ کلرز، بھتہ خوروں اور دہشت گردوں کو فراہم کرتے ہیں، خود وزیراعظم محمد نواز شریف نے بھی سیاسی چھتری کو ختم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ سیاسی چھتری کے ساتھ ساتھ قومی اداروں کو سیاسی اثرات سے نکالنے کے لئے بھی اس اجلاس میں سنجیدہ غورو فکر ہوا۔ جنرل راحیل شریف نے بہت اہم مسئلے کی نشاندہی کی۔ انہوں نے پولیس کو سیاسی اثرات سے نکالنے کی بات کی۔ کراچی پولیس میں سیاسی بھرتیاں بڑی تعداد میں ہوئیں، وہ تمام افراد جنہوں نے سیاسی بنیاد پر پولیس میں ملازمت حاصل کی، وہ اب بھی اپنی اپنی سیاسی جماعتوں کو مکمل طور پر سپورٹ کرتے ہیں۔ صرف یہی نہیں وہ خود جرائم میں ملوث ہیں، کیونکہ جانتے بوجھتے ہوئے بھی ایسے ملزموں کو گرفتار نہیں کرتے، جو سیاسی سرپرستی کی آڑ میں شہر کو جرائم کا گڑھ بنائے ہوئے ہیں۔

مَیں سمجھتا ہوں صرف کراچی ہی نہیں، بلکہ ملک کے تمام بڑے اور دیرینہ مسائل حل کرنے کے لئے اس قسم کے اتفاق رائے کی ضرورت ہے، جیسا کراچی میں دیکھنے کو ملا ہے۔ اگر اجلاس میں آرمی چیف موجود نہ ہوتے تو سیاسی جماعتیں وہاں ایک دوسرے کے خلاف انتقامی سیاست کے الزامات لگاتیں۔ یہ بھی کہا جاتا کہ ان کے حامیوں کو چُن چُن کر مارا جا رہا ہے۔ کراچی میں جاری آپریشن کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش بھی کی جاتی، مگر صد شکر کہ یہ سب کچھ نہیں ہوا، سب نے اس بات پر اتفاق رائے کیا کہ کراچی کو امن کا گہوارہ بنانے کے لئے ہر قدم اٹھایا جائے۔ یہ ایک خوش آئند پیشرفت ہے، جس کے آنے والے دنوں میں خوشگوار نتائج برآمد ہوں گے۔ مَیں سمجھتا ہوں جس قسم کا اچھا قدم کراچی میں اٹھایا گیا ہے، اس نوعیت کے اقدامات کی ملک کے دیگر حصوں کو بھی ضرورت ہے۔ امن و امان کی صورت حال کہیں بھی قابل رشک نہیں۔ اگر کراچی کو شہر امن بنانے کی سنجیدہ کوششوں کا آغاز کیا گیا ہے تو پاکستان کو پُرامن سرزمین بنانے کے لئے بھی لائحہ عمل تیار کیا جانا چاہئے۔ ہر صوبے اور ہر علاقے کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر جرائم پیشہ مافیاز کے خلاف گرینڈ آپریشن کا آغاز کیا جانا چاہئے۔ پاکستان ناجائز اسلحہ کا گڑھ بن چکا ہے، بات بات پر لوگ اسلحہ نکالتے ہیں اور مخالف کو مار دیتے ہیں۔ شادی بیاہ اور الیکشن میں جیتنے پر اسلحہ کی جو نمائش کی جاتی ہے، وہ جنگل کا احساس دلاتی ہے۔ حکومت اگر ملک کو اسلحہ سے پاک کرنے کا مصمم ارادہ کرے تو فوج کی حمایت اور تعاون سے وہ یہ کام بآسانی کر سکتی ہے۔

کراچی کا اجلاس وزیراعظم محمد نواز شریف کی سیاسی بصیرت اور تدبر کا بھی عکاس ہے۔ انہں نے اسے صرف انتظامی اجلاس بنانے کی بجائے سول و عسکری قیادت کا ایک ایسا نمائندہ اور طاقتور فورم بنا دیا کہ جس میں کئے جانے والے فیصلے کوئی بھی رد نہیں کر سکے گا۔ اب لگتا ہے کہ اس یکجہتی کی بنیاد پر حکومت ایک سخت آپریشن کا آغاز کرنے جا رہی ہے، کیونکہ خود وزیراعظم محمد نواز شریف یہ کہہ چکے ہیں کہ اس آپریشن کا سخت ردعمل بھی آئے گا، جس پر نظر رکھنی ہو گی۔ وزیراعظم محمد نواز شریف نے اگر اس قسم کے سیاسی تدبر اور بصیرت کا مظاہرہ اپنے سیاسی مخالفین کو احتجاجی سیاست سے روکنے کے لئے کیا تو مجھے یقین ہے کہ وہ نہ صرف اپنے پانچ سال پورے کریں گے، بلکہ ملک کے کئی دیرینہ مسائل بھی حل کرنے میں کامیاب رہیں گے۔

مزید : کالم