قطر نے اعتراف جرم کرلیا

قطر نے اعتراف جرم کرلیا
قطر نے اعتراف جرم کرلیا

  

دوحا (نیوزڈیسک) مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں تیل کی دریافت کے بعد مال و دولت کی ریل پیل ہوگئی اور بڑے پیمانے پر تعمیراتی کام شروع کئے گئے۔ اس کام کیلئے بڑی تعداد میں مزدور بر صغیر کے غریب ممالک سے ان ممالک میں جاتے ہیں لیکن یہ مزدور جن مشکلات اور صعوبتوں کا شکار ہوتے ہیں وہ ناقابل بیان ہیں قطر کی حکومت نے اپنے ایک حالیہ بیان میں تسلیم کیا ہے کہ صرف پچھلے دو سالوں میں بیرون ممالک سے آنے والے تقریباً 1000مزدوروں کی نامعلوم بیماریوں اور کام کے دوران پیش آنے والے حادثات کے دوران اموات ہوچکی ہیں۔ قطری حکومت کے اس انکشاف کی بین الاقوامی قانونی ادارے ڈی ایل اے پائپر کی رپورٹ سے بھی تصدیق ہوتی ہے۔ قانونی خدمات فراہم کرنے والے اس ادارے نے اپنی رپورٹ میں ہمیشہ سے تنقید کا نشانہ بننے والے کفالہ کے نظام میں تبدیلیوں پر زور دیا ہے۔ ادرے کا کہنا ہے کہ اس نظام کے تحت بیرون ممالک سے قطر آنے والے ملازمین اپنے مالکان کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں اور ان کو حقوق سے محروم رکھے جانے اور زیادتیوں کے مسائل سے دو چار ہونا پڑتا ہے۔ قطری حکومت کے بیان کے مطابق پچھلے دو سالوں میں ہلاک ہونے والے 946مزدوروں میں نیپالی، بنگلادیشی اور بھارتی افراد شامل تھے۔ ان میں سے 246 خودکشی کے نتیجے میں ہلاک ہوئے۔

مزید : بین الاقوامی