کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں، حل طلب مسئلہ ہے

کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں، حل طلب مسئلہ ہے
کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں، حل طلب مسئلہ ہے

  

 بھارتی وزیر خارجہ سلمان خورشید نے کہا ہے کہ بھارت اپنی حدود کا تحفظ کریگا اور اس سلسلے میں دفاعی معاملات میں بھی پیچھے نہیں رہیں گے۔ بھارت اپنے معاملات میں کسی بھی ملک کو مداخلت کی اجازت نہیں دیتا اور نہ ہی کسی کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتا ہے۔ کشمیر کے بارے میں سلمان خورشید نے کہا کہ پاکستان یہ نہیں کہہ سکتا ہے کہ کشمیر اس کی شہ رگ ہے۔ کشمیر بھارت کا ناقابل تنسیخ حصہ ہے اور اٹوٹ انگ ،لیکن اس کے باوجود بھی مذاکراتی عمل کو جاری رکھا گیا ہے۔ کشمیر پر بھارتی مو¿قف تبدیل نہیں ہوسکتا اور نہ ہی اس سلسلے میں کسی بھی طرح کی یکطرفہ رعایت کی گنجائش ہے۔

افواجِ پاکستان کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے یومِ شہدا کی تقریب میں اپنے خطاب کے دوران کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کا سوال ا±ٹھا کر بھارتی سیاست کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا۔ بھارت میںعام انتخابات کی مہم کے دوران ملک گیر مقبولیت کی حامل ہر دو سیاسی جماعتوں ، بھارتیہ جنتا پارٹی اور انڈین نیشنل کانگرس نے اپنی اپنی انتخابی مہم کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کی خاطر پاکستان دشمنی کو ایشو بنا کر رکھ دیا ہے- بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما نریندر مودی پہلے ہی سے دھمکی پہ دھمکی دیے چلے آ رہے تھے کہ وہ بھارت کو مطلوب فقط ایک دہشت گرد کی تلاش میں پاکستان پر مسلح فوجی یلغار کر دیں گے- اب جنرل راحیل شریف کی تقریر میں کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کے ذکر پر وہ آگ بگولہ ہو کر رہ گئے ہیں اور پاکستان کی سا لمیت اور کشمیر کی تحریکِ آزادی کے موضوع پر آگ برسانے لگے ہیں۔ جنرل راحیل شریف کے متذکرہ بالا بیان کو زیرِ بحث لاتے ہوئے کانگریس کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ اگر پاکستان کشمیر کو اپنی شہ رگ سمجھتا ہے تو سمجھتا رہے انڈین نیشنل کانگریس اقتدار میں آ کر پاکستان کی اِس شہ رگ کو کاٹ کر رکھ دے گی۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ بھارت کی موجودہ اور آئندہ قیادت کی جانب سے پاکستان کی شہ رگ کو کاٹ کر رکھ دینے کے سے بیانات پر ہماری سیاسی قیادت خاموش ہے۔ صرف برسرِاقتدار سیاسی جماعت ہی نہیں، بلکہ تمام سیاسی جماعتیں چ±پ ہیں۔ ایسے سیاستدانوں کی کمی نہیں جو بھارتی قیادت سے کچھ زیادہ ہی ح±سنِ ظن رکھتے ہیں۔ہمارے کشمیری لوگ صدیوں سے غیر ملکی تسلط اور قابض حکمرانوں کے مظالم کے شکار رہے ہیں ،لیکن انہوں نے کبھی بھی ہمت نہ ہاری، ان کو ایمان فروشوں کا بھی سامنا کرنا پڑا، لیکن تحریکِ آزادی کسی نہ کسی شکل میں جاری رہی۔1990ءکے بعد تقریباً ساٹھ ہزار مہاجرین آزاد کشمیر کے مختلف کیمپوں میں رہائش پذیر ہیں۔ مظفر آباد میں کامسر اور راڑہ دومشی سمیت متعدد کیمپ 2005ء کے زلزلہ میں مکمل طور پر تباہ ہوگئے، ان کی زمین لینڈ سلائیڈنگ کی نذر ہوگئی، جبکہ دیگر کیمپوں میں بھی مکانات گر گئے۔ایسے میں ہم تو مختصراً صرف اتنا ہی کہیں گے کہ مہاجرین کشمیر کا تشخص برقرار رہنا ضروری ہے اور کشمیری بھائیوں کے لئے ساتھ ہی یہ بھی کہوں گا کہ ” اک ذرا صبر کہ جَبر کے دن تھوڑے ہیں“۔

حقِ خود ارادیت کشمیریوں کا وہ حق ہے جسے اقوامِ عالم 1948/49میں اقوامِ متحدہ اور سلامتی کونسل کے فورم پر تسلیم کر چکی ہیں۔ اور جس کے لئےآزادی و حریت کے جذبہ سے اہلِ کشمیر نے لازوال قربانیاں دی ہیں۔ اہلِ پاکستان ایک بار پھر کشمیری بھائیوں کے حق خود ارادیت کی بھرپور حمایت کا اعلان کرتے ہوئے یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور کشمیری عوام کی قربانیوں پر انہیں دل کی اتھاہ گہرائیوں سے خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ بھارت کے وزیرِ مالیات پی چدمبرم فرما رہے ہیں کہ کشمیر ہمارا اٹوٹ حصہ تھا اور رہے گا، مگر بھارتی وزیرِ مالیات کو کون بتائے کہ یہ بات تو آپ اگست سن ا±نیس سو سنتالیس تک چلّا چلّا کر کہتے رہے تھے کہ آج کا پاکستان اور آج کا بنگلہ دیش بھی بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور ہمیشہ اٹوٹ انگ رہے گا۔

بھارت کی ہٹ دھرمی ہے کہ ”کشمیر “ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے۔ جبکہ وہ خوب جانتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں اس کے چاہنے والے آٹے میں نمک سے بھی کم ہیں۔ صرف فوجی بوٹوں کے بل بوتے پر وہ اپنا یہ خونی کھیل ، کھیل رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے قوانین کے مطابق بھارت کو اب اپنا ”اٹوٹ انگ “ کا نعرہ ختم کر دینا چاہیئے۔بقول ہندی زبان کے ” رام رام جپنا۔ پرایا مال اپنا“ کی زبانی جنگ جاری نہیں رکھی جا سکتی۔ بھارت کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ کشمیر میں کوئی پھول کھلتا ہے تو اس کی خوشبو پاکستان میں ہوتی ہے، کشمیر کے آبشاروں کی لمبی ا±ڑان پاکستان میں بہتی ہے۔ یعنی کہ کشمیریوں کے دلوں کی دھڑکنیں پاکستان والوں کے ساتھ دھڑکتی ہیں۔ وہاں بھارت کی یومِ آزادی پر یوم سیاہ منایا جاتا ہے، جبکہ پاکستان کے یومِ آزادی پر وہاں بے شمار پروگرامز ترتیب دیئے جاتے ہیں۔کشمیر دنیا میں زرخیزی کے لئےمشہور ہے ،جہاں قدرتی وسائل کی بہتات ہے ، جہاں کی زمین حقیقت میں سونا اگلتی تھی، مگر آج خونِ ناحق سے لالہ زار بن چکی ہے۔ ہندوستان یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لے کہ قائد اعظم محمد علی جناح ؒ نے کہا تھا ”کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے“ تو پھر کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ کیسے ہو سکتا ہے؟

مزید : کالم