سید مودودیؒ سے سید منور حسن تک ( 2)

سید مودودیؒ سے سید منور حسن تک ( 2)
سید مودودیؒ سے سید منور حسن تک ( 2)

  

سید منور حسن کا دور ایک لحاظ سے سید مودودیؒ کے دور کا تسلسل تھا ،اب وہ اختتام پذیر ہوگیا ہے۔ جماعت کے اندر جو تبدیلی آئی ہے اس کو بڑی گہری نظر سے دیکھنا ہوگا اور اس کے تمام پہلوﺅں کو نگاہ میں رکھنا ہوگا۔ اس لئے کہ اس کے بڑے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ عالم اسلام کے کسی بھی ملک میں اس طرح دینی مدارس نہیں ہیں، جس طرح پاکستان میں ہیں پاکستان کے علاوہ ایران اور عراق میں دینی مدارس کے اثرات بہت گہرے ہیں۔ ایران میں اسلامی انقلاب کی قیادت ہی دینی مدارس کے علماءنے کی اور امام خمینی کی قیادت میں علماءاور طالب علموں نے تاریخی کردار ادا کیا اور ایک طاقتور شہنشاہیت کے خلاف عوامی ابھار نے بادشاہت کے نظام ہی کا خاتمہ کردیا ،لیکن پاکستان میں دینی مدارس کے علماءوہ کردار ادا نہیں کرسکے جو ایران میں علماءنے کیا پاکستان کی بعض دینی پارٹیاں ہر اس حکومت میں شامل رہی ہیں جو کسی بھی لحاظ سے دینی تشخص نہیں رکھتی تھیں۔ جماعت اسلامی کے بانی نے جس طرح اس کی بنیاد رکھی تھی وہ مکمل ایک دینی پارٹی کی عکاسی کرتی تھی مولانا مودودی نے بر صغیر میں آنکھ کھولی اور اس کے ماحول کا بڑی گہرائی سے تجزیہ کیا اور ایک ایسی جماعت کی بنیاد رکھی جو تنگ نظر رحجانات سے آزاد تھی اور اس کی بنیاد اس طرح اٹھائی کہ اس پر فرقہ پرستی یا مدرسہ پرستی کا شائبہ تک نہ ہو اور نہ تنگ نظر مذہبی فرقہ پرستی کے زیر اثر متحرک ہو۔ مولانا مودودیؒ نے جماعت اسلامی کی بنیاد ان اصولوں پر رکھی جو قرآن اور سنت رسول اللہ نے رہنمائی کی تھی اور انہوں نے اس پہلو کو بھی پیش نظر رکھا کہ اس میں شخصیت پرستی کسی طرح بھی داخل نہ ہوسکے اورنہ اس کو وراثت کے زیر اثر رکھا جاسکتا۔

مولانا بر صغیر میں تنگ نظر فرقہ پرستی کے اثرات کو دیکھ چکے تھے اس لئے ان کے ذہن میں ایک ایسی دینی جماعت کا تصور موجود تھا، جو ان خامیوں اور تنگ نظری سے محفوظ رہے اور انہوں نے کمال بصیرت سے اس کی بنیاد رکھ دی اور وہ سٹرکچر فراہم کردیا جو اس کو متحرک کرسکے اور اس کے کارکنوں کے ذہنوں میں جو خیال راسخ کیا وہ یہ تھا کہ اسلامی شخصیات جو معیار حق بن سکتی ہیں۔ وہ اللہ کے انبیاءکرام اور رسول تھے ،جن پر اللہ نے وحی نازل کی تمام انبیاءاور مرسلین معیار حق تھے، اس طرح انہوں نے جماعت کے کارکنوں کو عام انسانوں کی شخصیت پرستی سے محفوظ رکھا اور ایک اسلامی حکومت کے تصور کو راسخ کیا جو قرآن اور سنت رسول اللہ کے اصولوں پر قائم ہو، خلافت راشدہ امت مسلمہ کے لئے روئے زمین پر سب سے بہترین حکومت تھی ۔خلافت راشدہ در اصل رسول اللہ کی مقدس حکومت کے نقش قدم پر چلنے والی حکومت تھی اس عظیم اسلامی حکومتوں کے مقتدر کو قرآن اور رسول اللہ کی سنت کی روشنی میں دینی کتب میں اجاگرکیا اور انہوں نے سب سے عظیم کام یہ کیا کہ خلافت راشدہ اور ملوکیت کے درمیان حد فاصل کھینچ دی اور اس خیال کو واضح کرنے کے لئے انہوں نے خلافت وملوکیت لکھی، تاکہ جماعت کے کارکن بادشاہتوں اور فوجی ڈکٹیٹروں کی محبت میں گرفتار نہ ہوجائیں ،شخصیت پرستی سے جماعت کو محفوظ رکھا خلافت راشدہ کے بعد جتنی حکومتیں قائم ہوئیں ان میں وراثت کا اصول اختیار کرلیا گیا۔ یوں خلافت راشدہ کا عظیم نظام ملوکیت میں تبدیل ہوگیا اور بادشاہت نے اقتدار پر قبضہ جمالیا اور اس کے بعد فوجی جنرلوں نے اقتدار پر ہاتھ مارا اور قبضہ کرلیا۔

جماعت اسلامی اس پوری کشمکش میںدینی حیثیت کو برقرار رکھتے وقت کے ساتھ آگے بڑھتی چلی جارہی ہے۔ مولانا مودودیؒ نے انتخابات میں جماعت کے تشخص کو بحال رکھا ،لیکن بعد میں بد قسمتی سے یہ صورت حال برقرار نہیں رہ سکی جنرل ضیاءالحق کے دور میں جماعت اسلامی اپنی سابقہ سیاسی روش کو برقرار نہ رکھ سکی اور جنرل کے ساتھ وزارتوں میں چلی گئی اور اس کی مجلس شوریٰ میں شریک ہوگئی یہ اس کا سیاسی انحراف تھا اس سے اس کے تشخص کو نقصان پہنچا اور عوام کو جو توقعات تھی وہ دم توڑ گئیں اس کے بعد اس کی سیاست اتحادی سیاست میں الجھ گئی اوریوں اس کی سیاسی حیثیت کو مجروح کر گئی اور جماعت اس الجھی ہوئی سیاست میں اپنا حلقہ انتخاب کھو بیٹھی اور اس کا حلقہ انتخاب اتحادی سیاست کی وجہ سے ختم ہوگیا اور اسے اس کا شدید نقصان پہنچا آخری مرحلہ MMA کے سیاسی اتحاد نے پورا کردیا اور اس کے کارکنوں کو تنہا انتخابات لڑنا خوف زدہ کرگیا اور اس نے اعتماد کھودیا اور اس سیاست نے اسے متزلزل کردیا ۔

”ان حالات میں سید منور حسن کی طاقتور شخصیت نے پوری کوشش کی کہ جماعت اتحادی سیاست سے نکل کر تنہا انتخاب لڑے جماعت کے کارکن اور بعض ذمہ دار اس سوچ سے متفق نہ تھے جو MMA کی بدولت پارلیمنٹ میں پہنچے تھے وہ سب جمعیت علماءاسلام سے دوبارہ اتحاد چاہتے تھے سید منور حسن کا یہ تمام دور اس کشمکش میں گزر گیا اور وہ اپنے موقف کو بار بار دہراتے رہے کہ کس نے ایم ایم اے کے اتحاد کو توڑا اس کی نشاندہی کی جائے جماعت اسلامی کے بعض قائدین اور کارکن اس سوچ سے اتفاق نہ کرسکے اور وہ سید منور حسن کی پالیسی کو سمجھ نہ سکے اور وہ کشمکش میں مبتلا رہے اور یکسو نہ ہوسکے۔ سید منور حسن نے پوری کوشش کی کہ الیکشن میں جماعت اسلامی اپنے جھنڈے اور اپنے انتخابی نشان کے تحت الیکشن لڑے یہ منور حسن کا مقصد تھا انہوں نے اپنے موقف کو منوالیا مگر جماعت کے کارکن 1988ءسے 2002ءتک اتحادی انتخابی سیاست کے دلدادہ ہوچکے تھے اس لئے وہ بڑی بددلی اور تشنگی کے ملے جلے جذبات کے ساتھ انتخابات میں لڑے اور جو نتیجہ نکلا وہ ایک زلزلہ سے کم نہ تھا اور اس کی سیاست نے میدان انتخاب میں دم توڑا، لیکن اس شکست کے اسباب پر جماعت اسلامی کی شوریٰ حوصلہ نہ کرسکی کہ کھل کر بحث کی جاتی اور اس کے حقیقی نتائج تک پہنچتی ،لیکن اس شوریٰ میں ان ارکان کی اکثریت تھی جو قومی اور صوبائی انتخابات میں حصہ لے چکی تھی اور بد ترین شکست سے دو چار ہوچکی تھی۔ اس لئے شکست خوردہ ذہن اس بڑے المیہ کو کھول کر بیان کرنے سے قاصر نظر آیا اور کوئی حوصلہ نہیں کرسکا نہ اس اعصاب شکن شکست کا کھل کر جائزہ لیا گیا۔

قارئین محترم: سید منور حسن جماعت اسلامی کو اپنی سوچ کے مطابق نہ ڈھال سکے ،ان کے سامنے ایک ایسی جماعت کھڑی تھی جومضمحل ہوچکی تھی اور پژ مردگی کی گرفت میں تھی وہ اس کے اندر وہ روح نہ پھونک سکے ،جس کی اس کو ضرورت تھی اور جماعت اسلامی کی پشت پر قوتیں دم توڑ چکی ہیں میری مراد طلبہ میں اسلامی جمعیت طلبہ مزدورں میں این ایل ایف اور اس کی ملحقہ مزدور تنظیمیں ہیں ان کا صرف نام رہ گیا تھا اور ان کی روح ان کے وجود سے نکل چکی تھی۔ سید منور حسن اس طرف توجہ نہ دے سکے ۔ (جاری ہے)

مزید : کالم