اعلیٰ قیادت کے فیصلے اورکراچی ٹارگٹڈ آپریشن کا فائنل راﺅنڈ

اعلیٰ قیادت کے فیصلے اورکراچی ٹارگٹڈ آپریشن کا فائنل راﺅنڈ

کراچی میں ہونے والے اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت کے اجلاس میں قیام امن کے لئے کراچی ٹارگٹڈ آپریشن کو پوری قوت سے آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سے قبل رینجرز اور پولیس کی طرف سے شروع کئے گئے ٹارگٹڈ آپریشن کے وقت بھی وزیراعظم کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا گیا تھا، لیکن وزیراعلیٰ سندھ کی قیادت میں شروع کئے گئے اس آپریشن میں مصروف بعض اہم پولیس افسروں کے تبادلے اچانک کر دینے اور سیاسی مداخلت سے رکاوٹیں پیدا ہونا شروع ہو گئیں۔ کراچی میں امن قائم کرنے کے لئے موجودہ اجلاس پہلے اجلاس سے بھی بڑا تھا، جس میں آرمی چیف کے علاوہ آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل اور تمام متعلقہ سیاسی جماعتوں کے نمائندے، وزیراعلیٰ سندھ اور پیپلزپارٹی کے لیڈر آصف علی زرداری نے بھی شرکت کی۔ اجلاس نے کراچی آپریشن کے حتمی مرحلے کی منطوری دی، جس کے متعلق ابتداءمیں کہا گیا تھا کہ آخری مرحلہ زیادہ بھرپور اور اہم ہو گا اور یہ خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کراچی چلے گا تو ملک چلے گا۔ کراچی میں امن کے لئے کسی بھی اقدام سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ آپریشن میں سیاسی دباﺅ قبول نہیں ۔ ردعمل آ سکتا ہے سب کی مدد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے حکم دیا کہ انٹیلی جنس کا نظام بہتر بنایا اور بیرون ملک فرار ملزموں کے ریڈ وارنٹ جاری کئے جائیں۔ اس موقع پر آرمی چیف نے کہا کہ وہ اس سلسلے میں 100فیصد خلوص کے ساتھ حکومت کے ساتھ ہیں۔ امن کے لئے مکمل تعاون کریں گے۔ پولیس کو سیاسی بھرتیوں اور تقرر و تبادلوں سے پاک کرنے میں سیاسی قیادت کردار ادا کر سکتی ہے۔ پیپلزپارٹی کے قائد آصف علی زرداری نے کہا کہ وہ قیام امن کے لئے ہر حکومتی اقدام کی حمایت کریں گے۔ ڈی جی رینجرز نے کہا کہ ٹارگٹڈ آپریشن کے لئے فوج کی ضرورت نہیں حالات پر قابو پالیں گے۔

کراچی کا امن بحال کرنے کے سلسلے میں یہ ایک بڑا اور اہم اجلاس تھا، جس میں آرمی چیف نے کھل کر حکومتی کوششوں کا ساتھ دینے کی بات کی ہے، جس سے کراچی آپریشن کے سلسلے میں حکومت کی طرف سے بہت کچھ کئے جانے کے علاوہ یہ بھی واضح ہو رہا ہے کہ ملک میں پھیلائی جانے والی ہر طرح کی افواہوں اور شکوک کے باوجود ریاستی اداروں میں رخنہ ڈالنے کی تمام کوششیں ناکام بنانے کا میکانزم موجود ہے۔ کراچی کے امن و امان کے مسائل کے سلسلے میں سیاسی جماعتوں کے مسلح ونگز، جماعتوں کی سرپرستی میں بھتہ خوری، سمگلنگ، ٹارگٹ کلنگ اور قبضہ گروپوں اور نارکوٹیکس کا دھندا کرنے والوں کی سرگرمیاں اب ایک کھلا راز ہیں۔ کراچی بدامنی کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کی طرف سے یہ ریمارکس دیئے گئے تھے کہ اگر سیاسی مداخلت ختم کر دی جائے تو کراچی کی موجودہ پولیس بھی شہر میں امن وامان قائم کر سکتی ہے۔ موجودہ اجلاس کے موقع پر وزیراعظم نے بھی حقیقی آپریشن کے وقت سیاسی دباﺅ کے امکان کا ذکر کیا ہے۔ آرمی چیف کی طرف سے کہا گیا ہے کہ سیاسی قیادت پولیس کو سیاسی بھرتیوں، تقرر و تبادلوں سے پاک کرنے میں مدد کر سکتی ہے۔ اس طرح کراچی بدامنی کے سلسلے میں سیاسی مداخلت کا یہ سب سے بڑا مسئلہ نمایاں ہو کر سامنے آ گیا ہے۔

سیاسی سرپرستی کی بناءپر ڈاکوﺅں اور بھتہ خوروں پر پولیس ہاتھ نہیں ڈالتی۔ قبضہ گروپوں سے عام آدمی اپنی پراپرٹی واگزار نہیں کرا سکتا۔ پولیس کے پاس کسی کی شکایت لے کر جانے والے کو بھی ”عبرتناک“ انجام سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ ایسی صورت حال میں بظاہر مجرموں کی سرپرستی سے ہاتھ اٹھانے اور ان کے خلاف کارروائی کرنے کی تائید کرتے ہوئے بھی بہت سے لوگ اندر سے ایسے آپریشن کے حق میں نہیں ہیں۔ بھتہ خوری اور اَن گنت دوسرے جرائم سے کنارہ کشی میں وہ اپنی سیاسی موت سمجھتے ہیں۔ ان کا خیال یہی ہے کہ میڈیا سے تعاون حاصل کر کے اور عوام میں مسلسل اپنی شکایات اور گلے شکوے سامنے لا کر وہ اپنے جرائم کی مسلسل پردہ پوشی کرسکتے ہیں۔ تاہم کراچی کے عام شہری جو سیاستدانوں کے نام سے مختلف جرائم پیشہ لوگوں کو بھگت رہے ہیں وہ ایک عرصہ سے ہر کسی کا اصل چہرہ پہچان رہے ہیں۔ خصوصی طور پر کراچی کی سیاست اور مجرمانہ کارروائیوں نے پورے ملک میں سیاست کو بدنام کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ بالآخر وزیراعظم نواز شریف نے جہاں طالبان سے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا، وہاں کراچی میں امن و امان قائم کرنے کے لئے رینجرز اور پولیس کے ٹارگٹڈ آپریشن کا فیصلہ کیا ۔ سیاسی قیادت کی طرف سے امن قائم کرنے کے لئے کئے گئے وعدوں اور یقین دہانیوں کے پیش نظر ٹارگٹڈ آپریشن ابتداءمیں بہت کامیابی سے آگے بڑھا، لیکن جلد ہی سیاسی مداخلت ایک بار پھر اس راہ کی رکاوٹ بن گئی۔ مختلف سیاسی جماعتوں یا دوسرے فریقین کی اس آپریشن کے سلسلے میں شکایات اور تجاویز سننے اور ضروری معاملات کا فوری نوٹس لینے کے لئے ایک اعلیٰ اختیارات کی حامل کمیٹی قائم کرنے کا جو فیصلہ پہلے اجلاس میں کیا گیا تھا اس پر عمل نہیں ہو سکا ، اب اس دوسرے اجلاس میں یہ کمیٹی قائم کی گئی ہے۔

پوری قوم کی یہ تمنا ہے کہ نئے عزم اور حوصلوں اور نئے انتظامات کے ساتھ شروع کئے جانے والے ٹارگٹڈ آپریشن کے اس آخری مرحلے کو کامیابی حاصل ہو، انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے تمام آپریشن غیر جانبدارانہ ہو۔ تمام بڑے اور چھوٹے مجرم کیفر کردار کو پہنچیں، لیکن سیاسی دباﺅ اور سیاسی خواہشات اس راہ میں رکاوٹ بنیں گی۔ وہ لوگ مختلف بہانوں سے نکل کر آپریشن کرنے والوں کے سامنے آکھڑے ہوسکتے ہیں ، جن کے مسلح لوگ بھتے بازی کے دھندے سے کنارہ کشی برداشت کرسکتے ہیں نہ قوم کو ہزاروں بوری بند اور مسخ نعشوں کے تحفے دینے کے بعد اپنے کرتوتوں کے صلے کا سامنا کر سکتے ہیں۔

وزیراعظم کی طرف سے سیاسی دباﺅ کے امکانات کی بات بہت اہم ہے۔ ضروری نہیں کہ دہشت گردوں اور بھتہ خوروں کے سرپرست ٹارگٹڈ آپریشن ہی کو اپنے احتجاج کے لئے بہانہ بنائیں ان کے پاس ہنگاموں اور احتجاج کے لئے ہر وقت درجنوں بہانے موجود رہتے ہیں، لیکن اگر اس بار کراچی کا امن و امان بحال کرنے کے لئے شروع کئے گئے ٹارگٹڈ آپریشن کا یہ آخری مرحلہ واقعی بہت بھرپور، منصفانہ، غیر جانبدارانہ اور ہر طرح کی سیاستی مداخلت سے پاک ہوا تو نہ صرف کراچی، بلکہ پورے ملک کے عوام اس آپریشن کے پیچھے کھڑے ہوں گے۔ قوم اپنی معیشت کے لئے اپنے قائداعظم ؒ کے اس عظیم شہر کو امن کا گہوارہ دیکھنا چاہتی ہے۔ کراچی کو روشنیوں کا شہر کہا جاتا تھا، جو ایک طویل عرصہ سے تاریکیوں میں ڈوب چکا ہے۔ اس کی روشنیاں اور رونقیں لوٹ آئیں تو پوری قوم کے چہرے پر رونق آ جائے گی۔ ملک کے انتہائی شمال سے لے کر اس انتہائی جنوب تک تمام حالات میں سدھار آ جائے گا۔ ملکی معیشت کا پہہیہ تیزی سے رواں دواں ہو گا۔ دنیا پاکستان کے کھوئے ہوئے وقار کو بحال ہوتا ہوا دیکھے گی۔ اس عروس البلاد میں امن و امان بحال ہونے کے مثبت اثرات ملک کے دوسرے تمام شہروں پر ہوں گے۔اہل کراچی کا اعتماد پورے ملک کا اعتماد اور اہل کراچی کی خوشیاں پورے ملک کی خوشیاں ثابت ہوں گی۔

امید کرنی چاہئے اور اس کے ساتھ ہی ساتھ پوری قوم کو اس اہم قومی موڑ پر کراچی کے مختلف گروہوں اور جماعتوں کے رویہ پر کڑی نگاہ رکھنی چاہئے اور امن قائم کرنے کے عمل کو ناکام بنانے کی کسی کو اجازت نہیں دینی چاہئے۔ پوری قوم امن قائم کرنے کی کوششوں میں حکومت، رینجرز اور غیر جانبدار اور سیاسی مداخلت سے پاک پولیس کے ساتھ ہے، اس وقت ملک بھر کے لوگ ہاتھ اُٹھا اُٹھا کر رب العزت سے کراچی اور پور ے ملک کے امن کی دُعائیں مانگ رہے ہیں، اس بنیادی، بہت اہم اور بڑے کام کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے اور معاملات کے سدھار کے لئے تمام پہلوﺅں پر بھرپور توجہ دینے والی عسکری اور سیاسی قیادت بھی قوم کی تحسین کی سزا وار ہے۔ لوگ نیک نیتوں اور اٹل ارادوں کے مثبت نتائج کے بے صبری سے منتظر ہیں۔ یہ موقع نہ صرف کراچی ،بلکہ پورے ملک کی تقدیر سنوارنے کا اہم ترین موقع ہے، اگر اس فائنل راﺅنڈ میں سیکیورٹی فورسز کو کامیابی نہ ہوئی تو پھر معلوم نہیں بدامنی کا موجودہ دور کتنے مزید سال کے لئے طول کھینچے۔ حکومت کی طرف سے کرنے والے تمام اقدامات کے بعد ہم کراچی ٹارگٹڈ آپریشن کے اس آخری مرحلے سے صرف اچھی امیدیں ہی وابستہ کر سکتے ہیں۔ انشاءاللہ !

مزید : اداریہ