اچھرہ بازار میں بوسیدہ سیورج تجاوزات کی بھرمار تاجر پریشان

اچھرہ بازار میں بوسیدہ سیورج تجاوزات کی بھرمار تاجر پریشان

                                                                      لاہور(جنرل رپورٹر)بجلی کی لٹکٹی تاریں،پینے کے صاف پانی کا فقدان،پرانا اور بوسیدہ نکاسی آب کا نظام،ٹوٹی سڑکیں،تجاوزات کی بھرمار اور بدنظمی کے شکار ٹریفک کے نظام نے اچھرہ اور اس سے ملحقہ بازاروں کے تاجروںکی زندگی اجیرن کر کے رکھ دی ان خیالات کا اظہار اچھرہ بازار تاجر یونین کے ممبران اور اچھرہ کے تاجروں نے "پاکستان"سے گفتگو کرتے ہوئے کیا اچھرہ بازار تاجر یونین کے جنرل سیکرٹری حاجی مقصوداحمد شیخ نے کہا کہ بازار میں پارکنگ کا مسئلہ سنگین صورتحال اختیار کر گیا ہے بازار کی اطراف میں تین پارکنگ سٹینڈ ہیں لیکن وہ بازار سے کافی فاصلے پر ہیںبازار اور اس کی اطراف میں ٹریفک پولیس وارڈنز موجود نہیں ہوتے جس کی وجہ سے گاہک اور دکاندار بازار میں اپنی گاڑیاں پارک کر دیتے ہیںتاجر نوید حسن نے کہا کہ بازار میں سٹریٹ لائٹس کا کام تاجروں نے اپنی مدد آپ کے تحت کروایا ہے انتظامیہ نے اس حوالے سے مکمل بے حسی کا مظاہرہ کیا ہے ٹاﺅن انتظامیہ نے تمام دکانوں کے شیڈز اتار دیئے ہیںجس کی وجہ سے بجلی کی تاریں بازار میں گچھوں کی صورت میں لٹک رہی ہیںجو کہ کسی بھی وقت کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہیںعلی بازار کے نائب صدر عامر بشیر نے کہا کہ بازار میں تجاوزات کی بھرمار ہے کارپوریشن کے اہلکار دکانداروں سے منتھلی لیتے ہیںجو منتھلی نہیں دیتا اس کا سامان اٹھا کر لے جاتے ہیںتاجر یونین نے کارپوریشن سے مل کے چالان سسٹم کے حوالے سے بات چیت کی ہے امید ہے کہ جلد تجاوزات کرنے والوں کا چالان کیا جانا شروع ہو جائے گااس کے علاوہ بازار میں پینے کے پانی کا مسئلہ سنگین صورتحال اختیار کر گیا ہے کسی حادثے کی صورت میں ایمبولینس بھی بازار میں داخل نہیں ہو سکتی تاجر محمد عامر نے کہا کہ علی بازار میں سڑک کی مرمت کیلئے ٹائلیں منظور کروائی گئی ہیں مگر کئی ماہ گزر جانے کے باوجود ابھی تک سڑک کی مرمت نہیں کی گئی اچھرہ بازار نشیب میں ہونے کی وجہ سے بارشوں میں بازار بارش کے پانی میں ڈوب جاتا ہے سیوریج کا نظام نہایت پرانا اور بوسیدہ ہو چکا ہے اس کو ہنگامی بنیادوں پر ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے تاجر ساہل احمد کہا کہ اچھرہ بازار میں ٹیلی فون کی تاروں کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے پی ٹی سی ایل کی جانب سے ایکسچینج تبدیل کرنے اور بازار کے ملحقہ علاقوں میں بورنگ ہونے کی وجہ سے تقریبا پورے بازار کے ٹیلی فون بند ہو چکے ہیںجس سے تاجروں کو کاروبار کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے تاجر سید اسلم شاہ نے کہا کہ اچھرہ بازار کے سامنے موجود فیروز پور روڈ پر سڑک کراس کرنےکے لئے بنائے گئے کٹوں کو ٹریفک پولیس نے بند کر دیا ہے جس کی وجہ سے گاہک دوسری مارکیٹوں کا رخ کر رہے ہیں بازار میں خواتین کو بیت الخلاءنہ ہونے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے حکومت اس حوالے سے جلد از جلد اقدامات کرے اچھرہ بازار کی تاجر یونین کے سینیئر نائب صدر گلزار احمد گل نے "کہا کہ چھ سال قبل واپڈا اہلکاروں نے بازار میں موجود تاروں پر پلاسٹک کور چڑھائے تھے لیکن نئے کنکشن اور کئی سال گزر جانے کی وجہ سے تمام کورز ٹوٹ گئے ہیںاس کے علاوہ ننگی تاروں کی وجہ سے بھنڈا سنٹر،فاروقیہ بازار،نیلم سنٹر اور چمن سنٹر میں شارٹ سرکٹ کی وجہ سے کئی بار آگ لگ چکی ہے بازار میں تاجروں اور گاہکوں کے لیئے سکیورٹی کا کوئی انتظام نہیں ہے تاجران نے اس حوالے سے کئی بار پولیس سے بات کی مگر انہوں نے پرائیویٹ گارڈز رکھنے کا مشورہ دیااچھرہ بازار میں دس ،عثمان بازار میں ایک جبکہ علی بازار میں چھ پرائیویٹ سکیورٹی گارڈز تاجروں نے اپنی مدد آپ کے تحت رکھے ہوئے ہیں سکیورٹی اہلکار نہ ہونے کی وجہ سے بازار نہ صرف جیب کتروں کی آماجگاہ بن چکا ہے بلکہ دہشتگردوں کیلئے بھی نہایت آسان نشانہ ہے ہر اتوار کو بازار میں چوری اور جیب تراشی کی سینکڑوں وارداتیں ہوتی ہیںپولیس کی جانب سے بازار میں سکیورٹی صرف عید اور رمضان میں فراہم کی جاتی ہے جو کہ برائے نام ہی ہوتی ہے اس کے علاوہ بازار میں پولیس کی کوئی چیک پوسٹ بھی نہیں ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1