محترم نذیر حق بھی ہمیں چھوڑ گئے (انا للہ و اناالیہ راجعون)

محترم نذیر حق بھی ہمیں چھوڑ گئے (انا للہ و اناالیہ راجعون)
محترم نذیر حق بھی ہمیں چھوڑ گئے (انا للہ و اناالیہ راجعون)

  

نذیر حق کی رحلت کے ساتھ ہی صحافت کا اہم باب بند ہوگیا۔نذیر حق ایک شخصیت نہیں ایسی تحریک تھے،جس کو میرے سمیت سینکڑوں احباب کبھی نہ بھلا سکیں گے۔نذیر حق اب ہم میں نہیں رہے۔15مئی جمعرات کی صبح عرصہ سے جاری معمول کے مطابق 9بجے اپنے دفتر میں موجود تھا کہ روزنامہ پاکستان کی پہچان اور میرے خصوصی سرپرست حاجی اجمل انتہائی سنجیدہ انداز میں میرے کمرے میں داخل ہوئے اور فرمانے لگے میاں صاحب حاجی نذیر حق صاحب فوت ہو گئے۔انا للہ و انا الیہ راجعون....

دل ہلا دینے والی خبر کی تصدیق چاہی اور حاجی اجمل صاحب سے پوچھا خبر کس نے دی ہے گزشتہ ہفتے تو ہمارے پاس بیٹھے رہے، اچھے بھلے تھے۔ہم نے ایک گھنٹہ تک گپ شپ کی تھی۔حاجی اجمل فرمانے لگے میاں صاحب وقار صاحب کا فون آیا تھا خبر واقعی ٹھیک ہے۔حاجی نذیر حق کا وقت آ گیا جب وقت آ جائے تو ہر فرد نے جانا ہے۔نذیر حق جو ہماری صحافت میں حق اور سچ کی حقیقی پہچان تھے۔واقعی ہمیں چھوڑ گئے ہیں۔ نذیر حق جیسی شفیق، مہربان، رہنما شخصیت کے ساتھ گزارے ہوئے 13سال کا ایک ایک لمحہ میری آنکھوں کے سامنے آتا گیا۔اتنا صابر انسان اتنا سچا ،کھرا ،انسان شاید صدیوں میں پیدا ہوتا ہے۔میرا ان سے تعلق کئی طرح کا تھا۔ایک تو میرے نذیر حق اور حاجی اجمل مےں مشترک چیز یہ تھی میرے دائیں طرف حاجی اجمل صاحب کا ڈیرہ اور روزنامہ پاکستان کا سٹور ہے بائیں طرف میرے محسن اور استاد جناب نذیر حق کا کمرہ ہے۔بات کررہا تھا مشترکہ عادت اور معمول کی 13سال ہمارا اللہ کے فضل سے معمول رہا۔ نذیرحق صاحب صبح 8بجے 9بجے کے درمیان ہر صورت دفتر پہنچ جاتے تھے اور یہی معمول میرا اور حاجی اجمل صاحب کا ہے۔نذیر حق کی یادیں شیئر کرنے سے پہلے گزشتہ جمعرات ایک ہفتہ پہلے میں فورم ہال میں مہمانوں کے ساتھ بیٹھا تھا کہ نذیر حق صاحب ہمارے بھائی ارشد محمود صاحب جی ایم فنانس کے کمرے سے باتیں کرتے ہوئے نکل رہے تھے۔عتیق بٹ صاحب کو سلام کرنا ہے اور میاں اشفاق صاحب سے چائے پینی ہے۔فورم ہال میں ان کی باتیں سن رہا تھا ساتھ ہمارے دفتر کے محافظ اول ہمارے بھائی راجہ امتیاز ان کو پکڑ کر بٹ صاحب کے کمرے کی طرف لے جا رہے تھے۔میں نے دیکھا اور سنا اور فیصلہ کیا مہمانوں سے فارغ ہونے تک نذیر حق صاحب محترم بٹ صاحب سے فارغ ہو جائیں گے پھر بیٹھتے ہیں واقعی ایسا ہی ہوا فورم ہال سے نکلا تو حق صاحب سامنے بٹ صاحب کے کمرے کی طرف سے آ رہے تھے میں گلے ملا پیار لیا اور پوچھا چائے پئیں گے مسکرا کر فرمانے لگے کیوں نہیں۔بسکٹ بھی کھائیں گے۔میرے قریب بیٹھ گئے اور اپنے مخصوص انداز سے فرمانے لگے۔میاں صاحب نظر ختم ہو گئی ہے واحد سہارا درود شریف رہ گیا ہے۔ٹی وی بھی نہیں دیکھ پاتا،اخبار بھی نہیں پڑھا جاتا۔دعا کرو اللہ محتاجی سے بچا لے اور چلتے پھرتے اپنے پاس بلا لے۔میں نے کہا نذیر صاحب آپ کی بڑی ضرورت ہے آپ میرے لئے دعا کیا کریں ۔پھر شامی صاحب، قدرت اللہ چودھری، جمیل قیصر صاحب ،ارشد صاحب، فاروق صاحب اور حاجی اجمل کے ساتھ محبت بھری یادیں سمیٹتے رہے۔میں نے گزشہ 8سال سے جاری اپنے مطالبے کی بات چھیڑتے ہوئے کہا حاجی صاحب زندگی کی آب بیتی لکھ ڈالیں مجھے حکم کریں میں ریکارڈ کرلوں گا فرمانے لگے اب وقت نہیں رہا۔روزنامہ ”دنیا“ نے میرا انٹرویو شائع کیا ہے اس کو روزنامہ پاکستان نے بھی شائع کیا ہے۔اس کو لمبا کیا جا سکتا تھا لیکن کام کرنے کی عادت ہی نہیں رہی لوگوں میں پھر میں نے تاریخ پوچھی تو فرمانے لگے۔ مجھے یاد نہیں تھوڑے دنوں کی بات ہے۔دو بسکٹ کھائے اور کہنے لگے بس آپ کو پتہ ہے مجھے شوگر ہے میں نے کہا باقی بسکٹ کون کھائے گا ہنس کر کہنے لگے حاجی اجمل ۔پھر میں نے حاجی اجمل صاحب کو آواز دے کر بلایا ان کو ان کی موجودگی میں بسکٹ کھلائے۔راجہ امتیاز پھر محبت بھرے انداز میں ان کی رہنمائی کے لئے آگئے۔نذیر صاحب فرمانے لگے میں جمیل صاحب سے ملوں گا پھر گلے مل کر ایسے گئے ہمیشہ کے لئے ہمیں چھوڑ گئے۔مجھے اب بھی یقین نہیں آ رہا واقعی صحافت کا روشن باب بند ہوگیا ہے۔ایک شعر جو انہوں نے اپنی کرسی جہاں بیٹھتے تھے اس کے پیچھے دیوار پر لکھایا ہوا تھا۔ایک کاپی میرے کمرے میں بھی لگائی ہوئی تھی ۔آج سفیدی کروانے کی وجہ سے موجود نہیں تھی۔اس شعر نے 13سالہ یادوں کو پھر تازہ کردیا ہے۔چلتے پھرتے درود شریف باجماعت نماز ،باوضو رہتے ہوئے اور یہ شعر سنانا معمول تھا۔

جنہاں تقویٰ رب دا اوہناں رزق ہمیش

پلّے رزق نہیں بن دے پنچھی تے درویش

2001ءمیں روزنامہ ”انصاف“ کو خیرباد کہہ کر جب جناب مجیب الرحمن شامی کی سرپرستی میں آکر عمر شامی کا ساتھی بنا تو اس وقت نذیر حق پوری توانائیوں کے ساتھ چھائے ہوئے تھے۔بطور ڈپٹی ایڈیٹر صبح 8بجے آکر تمام خبارات کا تفصیلی مطالعہ کرنے کے بعد تقابلی جائزہ مرتب کرنا اور پھر ساڑھے 9بجے ایڈیٹوریل کے لئے محترم شامی صاحب سے رہنمائی لینا اور پھر کمپیوٹرآپریٹر کے آنے سے پہلے ایڈیٹوریل ان تک پہنچانا عرصہ تک ان کا معمول رہا۔2003ءسے روزنامہ ”پاکستان“ میں سب سے پہلے آنے کا ریکارڈ بھی ان کی آنکھوں کی نظر جانے تک برقرار رہا۔اللہ کی توفیق سے میرا بھی دفتر 9بجے سے پہلے آنا معمول رہا ہے۔میں کبھی بھی نذیر حق صاحب سے نہ جیت سکا۔

آج پھر وہ ہم سے جیت گئے مجھے یقین کامل ہے وہ ہم سے جدا ہو کر ہمیشہ رہنے والی ابدی دنیا ”جنت الفردوس“ میں آرام کریں گے، لیکن پہلے دن سے بہت کم لوگوں کو اندازہ ہو گا صحافت کے طالب علم کی حیثیت سے اگر کچھ سیکھا ہے تو وہ جناب مجیب شامی صاحب یا جناب نذیر حق صاحب سے جب بھی کوئی کالم ،خبر یا ترجمہ ان دونوں احباب کے پاس لے کر گیا ہوں انتہائی محبت سے کاٹ چھانٹ کی اور درستگی کرتے ہوئے فرمایا۔لکھنے کے بعد دوبارہ پڑھنا معمول بنائیں، ہماری زندگیوں میں عدم موجودگی میں اچھے انداز میں تذکرہ کرنے کی روایت تقریباً ختم ہو رہی ہے، مگر نذیر حق اور جناب شامی صاحب سے اب بھی کسی مرحلے پر بھی یہ توقع نہیں رہی کہ وہ لگی لپٹی بات کریں گے، ان احباب کے علم میں بات آ گئی تو رائے کا اظہار پوری ایمانداری اور جرت سے کرتے آ رہے ہیں۔نذیر حق بھی بات دل میں نہیں رکھتے تھے۔

نذیر حق کی کس کس بات کو یاد کریں۔ روزنامہ ”پاکستان“ کے سارے دوست ساتھ موجود بینک میں نماز ادا کرتے تھے۔نذیر حق ہمارے ظہر، عصر کے مستقل امام تھے۔ تہجد گزار تھے،ڈیڑھ بجے جماعت ہونا ہوتی تھی ایک بجے مسجدپہنچ جاتے تھے۔نماز کا معمول ان کی نظر کمزور ہونے کی وجہ سے رخصت پر جانے تک جاری رہا۔ان کے بعد محترم حاجی اجمل صاحب ہمارے امام ٹھہرے۔بہت کم افراد کے علم میں ہوگا ہم روزنامہ پاکستان میں ہر جمعتہ المبارک کو صبح 9بجے دفتر میں مشترکہ ناشتہ کرتے تھے۔نذیر حق صاحب ہمارے مستقل ممبر تھے ان کی خواہش کے مطابق چنے، انڈہ ، دہی اور چائے ناشتہ میں شامل ہوتی تھی۔پھر کسی دن فرماتے تھے حلوہ پوری کھانی ہے۔ہمارے مرحوم دوست اعجاز شاہ بھی زندگی کے آخری دنوں تک ہمارے ناشتے کے ممبر رہے۔ان کی وفات نذیر حق صاحب کی چھٹی پر جانے کے بعد ہم نے ناشتہ کا پروگرام ہی کینسل کر دیا۔میرے ساتھ پانچ چھ سال کام کرنے والے تنویر ابراہیم اور جناب ملک نصراللہ صاحب نے بھی نذیر حق کی ایک آواز پر ہمیشہ لبیک کہا۔مجھے ایک دن فرمانے لگے۔میاں صاحب آپ جب ملک سے باہر عمرے کے لئے چلے جاتے ہیں تو ناشتہ چائے بند ہو جاتی ہے۔پھر ایسا معمول بنایا۔نصراللہ انہیں روزانہ چائے فراہم کرکے دعائیں سمیٹتا رہا۔

محترم نذیر حق صاحب کی کون سی بات کو یاد کیا جائے اتنا صبر اتنی سفید پوشی آخر تک اپنے ساتھ لے گئے۔ روزنامہ ”مشرق“ کی کہانیاں دن رات محنت ایک ایک بات میرے ساتھ شیئر کی پھر بیٹوں کی فرمانبرداری خوشحال بیٹی کا تذکرہ ہر بات کرتے ہوئے جب یاد کرتے تو آنکھوں سے پانی بہہ نکلتا۔فرماتے میاں صاحب بڑی بڑی آزمائشےں زندگی میں دیکھی ہیں۔اللہ کا شکر ہے کوئی ہمیں خرید نہیں سکا۔ایمانداری کے اتنے قصے ان کے موجود ہیں اگر بیان کرنے لگوں تو کتاب شائع کی جا سکتی ہے۔سینکڑوں کہانیاں آب بیتیاں جگ بیتیاں اپنے ساتھ لے کر ابدی نیند سو گئے اللہ انہیں کروٹ کروٹ جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام دے۔

نذیر حق کی زندگی کا ایک ایک گوشہ صحافت کے طالب علموں کے لئے مشعل راہ ہے۔آج ہم نے انہیں سینکڑوں احباب کی موجودگی میں اللہ کے سپرد کردیا ہے، مگر ان کی یادیں ان کی باتیں ہماری زندگی کے ہر موڑ پر رہنمائی کے لئے موجود رہیں گی۔اللہ ان کے لواحقین کو صبرجمیل عطا فرمائے۔آمین

 

مزید : کالم