زرمبادلہ کے ذخائر رواں سال جولائی تک 15ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے ۔اسحاق ڈار

زرمبادلہ کے ذخائر رواں سال جولائی تک 15ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے ۔اسحاق ڈار

                                اسلام آباد (این این آئی) وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہاہے کہ غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائررواں سا ل جولائی تک 15ارب ڈالرتک پہنچ جائیں گے ¾جون 2013 میں کراچی اسٹاک ایکسچینج کا ہنڈرڈ انڈیکس 19 ہزار کی سطح پر موجود تھا ¾ 10 ماہ بعد 28 ہزار 500 کی سطح پر موجود ہے ¾ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر مستحکم ہے،اگلے مالی سال کے تمام اہداف کی بیس لائن 99روپے فی ڈالر کے تحت ہوگی جو پورا سال برقراررہے گی ¾ پاکستان کی معاشی ترقی کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے ¾ترقی میں ملک کے ہر شہری کا حصہ ہے ¾ ملک کی اقتصادی ترقی کے بارے میں منفی رائے سے گریز کیا جانا چاہیے ¾ڈالر 98روپے پر آیا تو سیاست چھوڑنے کی باتیں کر نے والے خاموش بیٹھیں گے ¾ماضی میں اداروں کو تباہ کر نے والے لوگ عمران خان کو غلط مشورے دے رہے ہیں عمران خان براہ راست معاشی صورتحال پر ہم نے بات کرسکتے ہیں ¾ اراکین ملکی معاشی حالت بہتر بنانے کےلئے اپنی تجاویز دیں قابل عمل تجاویز پر فوراً عمل کیا جائیگا۔جمعرات کو قومی اسمبلی کو تازہ اقتصادی اشاریوں کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے کہاکہ رواں سا ل جولائی تک غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 15ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔وزیر خزانہ نے کہاکہ رواں مالی سال کے دوران ٹیکس وصولیوں میں 15.6فیصد اضافہ ریکارڈ کیاگیا۔وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ملک کو ایک مرتبہ پھر معاشی شاہراہ پر گامزن کرنے کے اقدامات کئے جارہے ہیں جس کے نتیجے میں ملک میں مہنگائی کی شرح میں اضافے کی شرح پر قابو پالیا گیا ہے۔ گزشتہ 10 ماہ کے دوران ٹیکس وصولیوں میں 15.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیاگیاہے۔ برآمدات 19 ارب ڈالر رہیں جو کہ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 6 فیصد زائد ہے جبکہ درآمدات 33 ارب ڈالر رہیں، اسحاق ڈار نے کہاکہ دس ماہ میں ایف بی آر 1745ارب روپے اکھٹے کئے ہیں جو گزشتہ دس ماہ کی گروتھ سے 15,6فیصد زائد ہے بجٹ خسارہ ہمارے اہداف کے مطابق ہے پہلے دس ماہ کا بجٹ خسارہ 1033ار ب روپے جبکہ گزشتہ سال اسی عرصہ کے بجٹ خسارہ 1262ارب روپے تھا اسی طرح تجارتی خسارے میں نمایاں بہتری آئی ہے نو ماہ میں تجارتی خسارہ 13.93ارب ڈالر ہے جبکہ گزشتہ سال 14.74ارب ڈالر تھا اسی طرح 10 ماہ میں ترسیلات زر 11.4 فیصد بڑھ کر 12 ارب 90 کروڑ ڈالر رہیں۔ انہوںنے کہاکہ زرمبادلہ کے ذخائر ساڑھے سات ارب ڈالر تک جا چکے تھے جس میں سٹیٹ بینک کے پاس صرف دو ارب ڈالر تھے جبکہ باقی کمرشل بینکوں کے پاس تھے اس وقت ذرمبادلہ کے ذخائر 13ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں اور سٹیٹ بینک کے پاس 8ارب ڈالر کے قریب ہیں جبکہ کمرشل بینکوں کے پاس 4.9ارب ڈالر ہیںزرمبادلہ کے ذخائر 13ارب ڈالر سے بڑھ گئے ہیں انشاءاللہ جولائی تک یہ 15 ارب ڈالر سے بڑھ جائیں گے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ جون 2013 میں کراچی اسٹاک ایکسچینج کا ہنڈریڈ انڈیکس 19 ہزار کی سطح پر موجود تھا جبکہ 10 ماہ بعد یہ 28 ہزار 500 کی سطح پر موجود ہے جو23فیصد کو اضافہ ظاہر کرتا ہے ملک میں اس وقت ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر بھی مستحکم ہے، انٹر بینک میں ڈالر کی قدر 98 جبکہ اوپن مارکیٹ میں 99 روپے کی سطح پر موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج پاکستان کی معاشی ترقی کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے اس ترقی میں ملک کے ہر شہری کا حصہ ہے اس لئے ملک کی اقتصادی ترقی کے بارے میں منفی رائے سے گریز کیا جانا چاہیے۔انہوںنے کہاکہ کنزومر پرائس انڈیکیٹر میں 8.6فیصدکا اضافہ ہوا ہے بین الاقوامی کمیونٹی اور ڈونرز اس پر متفق ہیں کہ پاکستان معاشی طورپر انتہائی مضبوطی کی طرف جارہا ہے انہوںنے کہاکہ آئی ایم ایف سے قرضہ اس لئے لیا گیا کہ پرانے قرضے دینے کےلئے قرضہ حاصل کرنا ضروری تھا دنیا کے تھنک ٹینک کہتے تھے کہ 2015ءمیں پاکستان ڈیفالٹ کر جائیگا لیکن الحمد اللہ موجودہ حکومت کی پالیسیوں کے باعث پاکستان معاشی طورپر مضبوط ہو چکا ہے اور پاکستان ترقی کی منازل طے کررہا ہے ہم جی ڈی پی گروتھ میں اضافے کےلئے کوشش اور محنت کررہے ہیں انشاءاللہ یہ اسی سال چار فیصد سے زائد ہوگی اگلے سال پانچ فیصد اور تیسرے سال میں ہم اسے چھ فیصد تک لے جائینگے انہوںنے کہاکہ مہنگائی پر قابو پانے کےلئے بھی ہمارے کوششیں سود مند ثابت ہورہی ہیں اور 8.5فیصد پر ہمارا سال بند ہوگا انہوںنے کہاکہ معاشی سرگرمیاں بڑھی ہیں اور اپریل میں سب سے زیادہ نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئی ہیں جو کہ 14فیصد ہیں انہوںنے کہاکہ 10ماہ میں 330ارب کا کریڈٹ دیا ہے اب بینکوں کو مجبوراً انڈسٹری ¾ زراعت ¾ ٹریڈ اور بزنس کو سہولت دینا ہوگی انہوں نے کہاکہ پاکستانی روپے کے مستحکم ہونے سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں آٹھ فیصد تک کمی ہوئی ہے جس کا فائدہ عوام تک پہنچا ہے۔

اسحاق ڈار

مزید : صفحہ اول