بحری قوتیں خارجہ پالیسی کا اہم ترین ہتھیار تصور کی جاتی ہے ۔ایڈمرل آصف سندھیلہ

بحری قوتیں خارجہ پالیسی کا اہم ترین ہتھیار تصور کی جاتی ہے ۔ایڈمرل آصف ...

                             لاہور ( این این آئی) چیف آف دی نیول سٹاف ایڈمرل محمد آصف سندیلہ نے کہا کہ عہد حاضر میں رواں صدی کو بحری صدی کا درجہ دیا جا رہا ہے جس میں بین الاقوامی درجہ بندی اور دفاعی لحاظ سے کسی بھی قوم کے لئے سمندر خصوصی اہمیت کے حامل ہیں،جغرافیائی سیاست، معاشی ترقی، عسکری اور ٹیکنالوجی میں مقابلہ کرنے کے لئے سمندر مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان نیوی وار کالج لاہور کے زیر انتظام منعقد ہونے والا دو روزہ انٹرنیشنل میری ٹائم سمپوزیم کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ نیشنل سنٹر فار میری ٹائم پالیسی اینڈ ریسرچ بھی اس سمپوزیم کا اشتراکی سپانسر تھا۔ سمپوزیم کے آخری دن مختلف سیشنز کے لئے موضوع ”سیکورٹی آف دی میری ٹائم ڈومین “ تھا۔ ایڈمرل محمد آصف سندھیلہ نے کہا کہ ایک مضبوط نیوی آج کل ایک عالمی سلوگن بن چکا ہے۔ بحری قوتیں خارجہ پالیسی کا اہم ترین ہتھیار تصور کی جاتی ہیں۔ بحری فورسز کسی بھی قوم کے میری ٹائم اثاثوں کی محافظ ہوتی ہیں۔ ورثے میں ملی ہوئی خصوصیت کی بدولت نیوی کسی بھی بحران، قدرتی آفات میں ردِ عمل کے لئے بہترین فورس ہے اور سرچ اینڈ ریسکیو ضروریات کا آسان ترین ذریعہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نیوی نے ملک بھر میں میری ٹائم کی افادیت پھیلانے کے سلسلے میں اہم اقدامات کئے ہیں۔ ایڈمرل نے امید ظاہر کی کہ اس سمپوزیم کے شرکاءخصوصاً نوجوانوں کے آئیڈیاز اور سوچ پاکستان کے میری ٹائم مستقبل کو واضح سانچے میں ڈالیں گے۔ انہوں نے پنجاب کے علمی اداروں پر بھی زور دیا کہ وہ اپنے زیر انتظام تعلیمی اداروں میں میری ٹائم کی تعلیم کو فروغ دیں۔قبل ازیں سمپوزیم کے دوسرے دن کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ر)آصف یاسین ملک نے کہا کہ کئی وجوہات جن میں زمینی جغرافیہ، براعظمی شعور اور معاشی محدودیت شامل ہیں کی وجہ سے پاکستان میری ٹائم ترقی میں کھل کر حصہ نہ ڈال سکا اور میری ٹائم سیکٹر اپنے وجود کے قیام کیلئے کوشاں رہا۔ لیکن اس سیکٹر کی اہمیت کو مزید نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت، ملک کے میری ٹائم سیکٹر میں وسیع پیمانے پر حاصل ہونے والے معاشی فوائد اور ملکی ترقی میں میری ٹائم توانائی کی اہمیت سے مکمل طور پر آگاہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس شہر اور بڑی تعداد میں اس کے تعلیمی اداروں پر اس سے قبل کبھی بھی میری ٹائم ایشوز اس سطح پر آشکارا نہیں ہوئے اور اس طرح کے سمپوزیم اس ضمن میں حکومت کے فیصلوں کو تحریک بخشتے ہیں۔چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی جنرل راشد محمود نے بھی سمپوزیم کے دوسرے سیشن سے خطاب کیا اور عصر حاضر میں سمندروں کی اہمیت پر روشنی ڈالی جس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ میری ٹائم سیکٹر ہی بین الاقوامی معیشت کو ترقی دیتا ہے اور مربوط عالمی معیشت کو بڑھاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ قومیں اپنے اپنے ملک کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کے لئے اب سمندر کی طرف توجہ مبذول کر رہی ہیں۔ اس طرح عالمی اشتراکیت سے تجارت کو تحفظ دینے کی مشترکہ کوششیں جاری ہیں۔ یہ صورتحال تقاضا کرتی ہے کہ قومی میری ٹائم وسائل کی جانب بھرپور توجہ دی جائے جو ایک مضبوط نیوی کی ضرورت ہے۔ سمپوزیم میں قومی اور بین الاقوامی مہمانوں، سکالرز اور معروف مقررین نے شرکت کی۔

 ایڈمرل آصف سندھیلہ

مزید : صفحہ اول