’’بیتے ہوتے دن یاد آتے ہیں‘‘

’’بیتے ہوتے دن یاد آتے ہیں‘‘
’’بیتے ہوتے دن یاد آتے ہیں‘‘

  

نومبر2013ء میں الحمراء آرٹس کونسل میں منعقد ہونے والی چوتھی کانفرنس کے حوالے سے مَیں نے ایک کالم لکھا تو اس کے مدار المہام اور نامور کالم نگار عطاء الحق قاسمی صاحب کا فون آیا۔ کچھ کانفرنس کی بات ہوئی، کچھ کالم زیر بحث آیا۔ ظاہر ہے کہ دونوں کی تعریف ہی ہوئی ہو گی۔ اِدھر اُدھر کی باتیں ہو ہُو چکیں تو قاسمی صاحب بولے:’’ناصر بشیر: کچھ عرصے کے بعد مَیں ایک نیا خیال لے کر کانفرنس منعقد کرنے والا ہوں۔ مَیں مختلف شعبوں میں نام ور ہونے والی شخصیات کو بلاؤں گا اور ان سے درخواست کروں گا کہ وہ اپنی ابتدائی زندگی کے ان اتار چڑھاؤ کو بیان کریں، جن سے گزر کر وہ عروج و کمال تک پہنچے‘‘۔ جب مَیں نے کہا کہ یہ تو واقعی نیا آئیڈیا ہے، لیکن اس پر عمل کرنا خاصا مشکل ہو گا تو وہ بولے: ’’تم دیکھنا مَیں یہ کام کر گزروں گا۔ بس ابھی تم اس کا کسی سے ذکر مت کرنا۔ مَیں نے یہ طے کیا ہے کہ یہ بڑی شخصیات جو کچھ بیان کریں گی، وہ سب ریکارڈ کیا جائے گا اور بعد میں کتابی شکل میں چھاپا جائے گا۔ تمہاری مہربانی ہو گی، میرا یہ آئیڈیا ابھی کسی کے سامنے مت رکھنا‘‘۔

مَیں سمجھا تھا یہ صرف کا میابی کا جوش ہے جو قاسمی صاحب کو بے کل کئے جا رہا ہے۔ عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ جب کوئی شخص اپنا مطلوبہ ٹارگٹ حاصل کر لیتا ہے، تو اس کے فوراً بعد اس کے دل میں آئندہ کے منصوبے بننے لگتے ہیں۔ مَیں نے سوچا کہ قاسمی صاحب بھی شاید کوئی ایسا ہی منصوبہ بنا رہے ہیں، لیکن چند روز پہلے الحمرا آرٹس کونسل کے متحرک اور سرگرم پی آر او نے جب مجھے ڈاکٹر یونس جاوید کی موجودگی میں ایک خام شکل کا دعوت نامہ دکھایا تو مَیں حیران رہ گیا اور یہ سوچنے لگا کہ یہ نوجوان بوڑھا اپنے ارادوں میں بہت پختہ ہے، جو کہتا ہے کر گزرتا ہے۔ جب قاسمی صاحب، بڑے قاسمی صاحب کو اپنے سکوٹر پر بٹھا کر پھرا کرتے تھے تو یہ ہر خوبصورت چہرہ دیکھ کر انشا اللہ کہتے تھے اور بڑے قاسمی صاحب صرف ماشا اللہ کہنے پر اکتفا کرتے تھے۔ اب عطاء الحق قاسمی بھی ماشا اللہ تک محدود ہو گئے ہیں، لیکن کانفرنسوں کے انعقاد کے معاملے میں ہر بار انشا اللہ کہتے ہیں اور اپنے ارادے میں کامیاب ٹھہرتے ہیں۔

23،24 اور 25مئی2014ء کو الحمرا کے ہال نمبر ایک، دو اور تین میں منعقد ہونے والی اس کانفرنس کو قاسمی صاحب نے ’’بیتے ہوئے دن یاد آتے ہیں‘‘ کا عنوان دیا ہے۔ اس کے افتتاحی اجلاس میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف بھی شریک ہوں گے۔ ظاہر ہے کہ قاسمی صاحب نے کانفرنس کا تھیم انہیں بھی بتلا دیا ہو گا، چنانچہ امید ہے کہ نواز شریف صاحب بھی اپنی ابتدائی زندگی کے اتار چڑھاؤ بیان کریں گے اور بتائیں گے کہ ان کی کامیابیوں کے پیچھے کون کون سے سانحات و حادثات ہیں؟

اس کانفرنس کا ڈول ڈال کر قاسمی قاسمی نے دراصل عام اور خاص دونوں طرح کے لوگوں کی نبض پر ہاتھ رکھنے کی کوشش کی ہے۔ نثری ادب کی جتنی اصناف ہیں، خود نوشت سوانح عمری ان میں سب سے زیادہ مقبول ہے۔ بہت سے لوگ فکشن، یعنی افسانوی ادب کے شوقین بھی ہوتے ہیں، لیکن جس ادب میں لفظ افسانویت آ جائے تو اس میں حقیقت کا وجود بہت کم رہ جاتا ہے۔ جہاں تک سوانح عمری کا تعلق ہے، تو اس میں ممدوح شخصیت، مصنف کے رحم و کرم پر ہوتی ہے۔ اس نے جس طرح اس شخصیت کو دیکھا ہوتا ہے، وہ اس طرح بیان کرتا ہے۔ اس کے بیان اور شخصیت میں بہت سے مقامات پر فرق ہو سکتا ہے، لیکن خود نوشت سوانح عمری پوری سچائی اپنے اندر لئے ہوئے ہوتی ہے۔ مصنف واقعات کو جس طرح بیان کرتا ہے، انہیں اسی طرح من و عن قبول کرنا ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اپنے بارے میں وہ دوسروں کی نسبت زیادہ جانتا ہے۔ کسی اور کی لکھی ہوئی سوانح عمری، کئی مقامات پر خواجہ حیدر علی آتش کی غزل کا وہ مطلع یاد دِلا دیتی ہے، جس میں ’’زبانِ غیر‘‘ اور ’’شرحِ آرزو‘‘ جیسی ترکیبات استعمال ہوئی ہیں۔

قاسمی صاحب کی اس کانفرنس میں نامور جج، صحافی، بیورو کریٹ، ڈاکٹر، انجینئر، فوجی افسر، کاروباری لوگ، اساتذہ، گلو کار، قانون دان، فنکار، سماجی کارکن، سیاست دان، علمائے کرام، کھلاڑی، ادیب اور شاعر اپنے تجربات بیان کریں گے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے علاوہ انہوں نے جن شخصیات کو اپنی زندگی کے ابتدائی تجربات بیان کرنے کی دعوت دی ہے، ان میں جسٹس (ر) جاوید اقبال، کلدیب نیئر، انتظار حسین، بہرام ڈی آواری، عبداللہ حسین، مسعود مفتی، مشتاق صوفی، محسن حسن خان، ڈاکٹر سعد ملک، حنیف محمد، عارف نظامی، صدیق الرحمن قادری، ڈاکٹر سلیم اختر، قوی خان، ناہید صدیقی، ڈاکٹر عامر عزیز، میجرجنرل عاصم سلیم باجوہ، اوریا مقبول جان، جبار مرزا، جمیل یوسف، طارق پرویز، ڈاکٹر عامر لیاقت حسین، شاہ نواز زیدی، ڈاکٹر انعام الحق جاوید، عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی، فتح محمد ملک، یونس جاوید، سہیل احمد، کامران لاشاری، سہیل وڑائچ، نجم سیٹھی، حسین شیرازی، ثریا ملتانیکر، عطاء الرحمن، مسعود اشعر، شمیم حنفی، جنرل(ر) عبدالقادر بلوچ، امتیاز عالم، لطیف چودھری، منیر احمد بدینی، مسعود اختر، اعتزاز احسن، طارق باجوہ، فردوس جمال،عامر سہیل، منصور آفاق، پرویز بشیر، رمیزہ نظامی، اصغر ندیم سید، نجیب جمال، اکرم شیخ، میاں اعجاز الحسن، وسعت اللہ خان، نصرت جاوید، خوشنود علی خان، انوار احمد، زاہدہ حنا، عارف لوہار، زری پناّ، ظفر محمود، کیول دھیر، سعادت سعید، شہباز ملک، اعجاز انور، تانیا ثانی، طلعت مسعود، عابد حسن منٹو، نذیر ناجی، سلیمہ ہاشمی، طارق محمود، ثمینہ پیرزا، عبدالقادر، معین الدین حیدر، انصار برنی، ہما باقی، ڈاکٹر شفیق احمد، جمیل پال، امان اللہ، طارق عزیز، شوکت جاوید، مجاہد کامران، طلعت حسین، آمنہ مفتی، شعیب بن عزیز، کامران شاہد، سجاد میر، تحسین فراقی، ذوالفقار چیمہ، فاروق قیصر، محسن نقوی، محمد اکرم سہیل، سحر انصاری، نگہت چودھری، خواجہ جنید، ڈاکٹر امجد ثاقب، نوید چودھری، سعد اللہ جان برق، شان، قاسم بگھیو، ڈاکٹر جیمز، جاوید چودھری، ظفر اقبال، رضوان نصیر، سرور سکھیرا، یاسمین راشد، تہمینہ درانی، احمد خان، وسیم باری، حمید گل، عاصمہ جہانگیر، ادیب رضوی، بانو قدسیہ، سلیم صافی، خورشید رضوی، صہیب مرغوب، ڈاکٹر ذاکر حسین، اسلم انصاری، حسن ناصر ، منو بھائی، عکسی مفتی، کشور ناہید، تبسم کاشمیری، نیر علی دادا، آئی اے رحمن، ڈاکٹر محمد مختار، مجیب الرحمن شامی، الطاف حسن قریشی، ناصرہ جاوید، سلمان صدیق، شکیل، اقبال حسین، جسٹس عامر رضا، مبین مرزا، سلمان غنی، قدرت اللہ چودھری، ڈاکٹر خواجہ ذکریا، ندیم طاہر، سرمد صہبائی، افتخار احمد، انصار عباسی، لطف اللہ ورک، ذوالفقار علی چودھری، ڈاکٹر علقمہ، صغرا صدف، ناظم الدین، اکرم چودھری، راشد لطیف خان، کیپٹن(ر) عطا محمد، ابو الکلیم قاسمی اور ذوالفقار زلفی کے نام شامل ہیں۔

اگر یہ تمام لوگ اس کانفرنس میں اپنی زندگی کے ابتدائی تجربات سچ سچ اور پورے پورے بیان کرنے میں کامیاب ہو گئے، تو جن کتابوں میں یہ چھپیں گے وہ ہاٹ کیک کی طرح بکیں گی۔ اس کانفرنس کے دوسرے روز قاسمی صاحب نے ایک پاک بھارت مشاعرے کا اہتمام بھی کر رکھا ہے۔ شکر ہے کہ اس بار انہوں نے مشاعرے کو ’’حاضر شعرائے کرام‘‘ سے بچا لیا ہے۔ ’’مارکیٹ‘‘ میں جتنے اچھے شاعر ہیں، سنا ہے کہ ان سب کو مدعو کیا گیا ہے۔

مزید : کالم