نیا اتحاد کم ازکم نکات اور تھوڑی جماعتیں ، غلط نہیں !

نیا اتحاد کم ازکم نکات اور تھوڑی جماعتیں ، غلط نہیں !
نیا اتحاد کم ازکم نکات اور تھوڑی جماعتیں ، غلط نہیں !

  

 تجزیہ : چودھری خادم حسین

پاکستان کے سیاسی حالات میں استحکام نہیں، اس مرتبہ پھر سے ایک تقسیم بنتی نظر آرہی ہے ، اس میں فی الحال تو تھوڑی جماعتیں ہیں اور ایجنڈا ایسا ہے جس پر پوری ملکی قیادت متفق ہوسکتی ہے، گزشتہ روز گزارش کی کہ ان امور پر پارلیمنٹ ہی میں فیصلہ ہونا ہے اس لئے بہتر ہوگا کہ نہ صرف الیکشن کمیشن بلکہ احتسابی ادارے اور عدلیہ کی آزادی اور تقرری والے تحفظات بھی دور کرلئے جائیں اور ان امور پر متفقہ قانون سازی اور آئینی ترامیم کرلی جائیں تاکہ ملک میں جمہوریت کا مستقبل حقیقی معنوں میں محفوظ ہوجائے کیونکہ جمہوریت کو کبھی بھی باہر سے خطرہ نہیں ہوا، ہمیشہ اندر سے تقویت ملنے کے باعث اسے خطرہ ہی لاحق نہیں ہوا بلکہ کئی بار ”ڈی ریلی “ معاف کیجئے یہ لفظ سیاست دانوں سے مستعار ہے ورنہ کہا تو یہ جانا چاہئے کہ پٹڑی سے اتری اور آمریت کی گود میں جاکر پھر سے پیدائشی عمل کی منتظر ٹھہری ، آج بھی ایسے عناصر ہیں جن کے اقدامات کی وجہ سے یہ خدشہ ظاہر کیا جانے لگا ہے، ہم کسی کی نیت پر شک نہیں کرتے لیکن عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کی مہم جوئی کو بھی لوگ معنی پہنا رہے ہیں عمران خان تو بہرحال پارلیمنٹ میں موثر حدتک موجود ہیں ڈاکٹر طاہر القادری کی جماعت یا وہ خود نہیں ہیں بلکہ وہ تو پورے آئین اور نظام ہی کو مسترد کرکے انقلاب کی بات کرتے ہیں ایسے میں ان کے ساتھ اتحاد کئی مسائل کا سبب بن سکتا ہے، اس لئے جو راستہ تحریک انصاف نے اب اختیار کیا وہ درست ہے، اگرچہ آئی جے آئی جیسا اتحاد تو اب نہیں بن سکتا لیکن چند جماعتیں کم ازکم نکات پر جمع تو ہوسکتی ہیں اور یہ اس مرتبہ زیادہ نہیں ہوں گی، اس حوالے سے پہلے بھی گزارش کی جاچکی ہوئی ہے ، دعا ہے کہ مسائل جمہوری اور پرامن انداز میں ہی حل ہوں گے۔

ایک امر جس کی طرف سے توجہ ہٹتی جارہی تھی وہ جنرل (ر) پرویز مشرف کا مسئلہ ہے، جواب خود یہ کہہ رہے ہیں ”میں پاکستان چھوڑ کر نہیں جانے والا “ اگرچہ ان کی درخواست پر سماعت جاری ہے کہ ان کا نام ای سی ایل سے نکالا جائے، اب جو کچھ بھی ہونا ہے وہ قانون کے مطابق اور عدلیہ ہی میں ہونا ہے اس لئے اس پر بات بھی لا حاصل ہوگی تاہم جنرل (ر) پرویز مشرف بھی ایک اہم کڑی کے طورپر موجود ہیں اور رہیں گے۔

اب تو ایک نئی صورت حال پیدا ہوگئی جو جنرل (ر) ضیاءالحق کی دین ہے کہ مذہبی انتہا پسندی میں شدت آتی جارہی ہے اور مذہبی عناصر پر روز کوئی نیا مسئلہ اٹھا لیتے ہیں بلکہ اب تو یہ جو نام نہاد سول سوسائٹی ہے یہ بھی دبتی نظر آرہی ہے حالانکہ اس ملک میں باشعور اور صاحب علم دین داروں اور علماءکرام اور دینی دانشوروں کی اکثریت ہے جو اپنے اپنے طورپر دین کا حقیقی پیغام (امن ) پھیلاتے رہتے ہیں شاید ایسے ہی لوگوں کی مہربانی ہے کہ دشمن کی خطرناک سازشوں کے باوجود یہاں فرقہ وارانہ فسادات نہیں پھوٹے ۔ ہرمسلک دہشت گردی کا نشانہ بنالیکن مسلک کی بناءپر الزام تراشی نہیں کی گئی حالانکہ کئی کارروائیاں خالصتاً فرقہ وارانہ تھیں۔ تحمل اور برداشت والوں کو داد دینا چاہئے۔

ضرورت تو یہ ہے اور تھی کہ اس بنیاد پرستی کو اسلام کے حقیقی پیغام کی روشنی میں تبدیل کیا جائے لیکن ایسامحسوس ہونے لگا ہے کہ بعض عناصر شاید مفادات میں الجھ کر ایسا نہیں ہونے دینا چاہتے، ابھی تک کالعدم تحریک طالبان کا مسئلہ حل طلب چلاآرہا ہے مذاکرات ڈیڈلاک کا شکار ہیں کوئی بریک تھرو نہیں ہو پارہا، اس میں بھی اختلافات سامنے ہیں، اس کے باوجود آس دلائی جارہی ہے، اگر یہ فیصلہ ہوجائے کہ اسلام کی بات، دین کی تبلیغ ہتھیار اٹھا کر جبرسے نہیں امن سے ہوگی تو معاملات سلجھ سکتے ہیں اور بات یہاں تک پہنچ سکتی ہے کہ غیر ملکی مداخلت کے خلاف ہر محاذ پرہرنوع کی مدافعت کی جاسکے صرف ہتھیار اور انسانوں کو مارنے سے کام نہیں چلے گا۔

کراچی میں ہونے والے اجلاس میں قومی سیاسی اور فوجی قیادت نے ایک مرتبہ پھر اس پیغام کو دہرایا ہے کہ ملکی اور قومی مفاد میں سب ایک ہیں اور اس کے لئے ہرنوع کے اقدامات کئے جاسکتے ہیں، اس پیغام کو اندرونی معنی پہنانے سے گریز قومی مفاد میں ہے جوسامنے ہے اسی طرح دیکھا جائے تو بہتوں کا بھلا ہوگا۔

مزید : تجزیہ