11ماہ کی عمر میں شادی طے ہوئی ،لڑکی کے انکار پر دردناک سزا سنا دی گئی

11ماہ کی عمر میں شادی طے ہوئی ،لڑکی کے انکار پر دردناک سزا سنا دی گئی
11ماہ کی عمر میں شادی طے ہوئی ،لڑکی کے انکار پر دردناک سزا سنا دی گئی

  


نئی دلی (نیوز ڈیسک) بھارتی ریاست راجستھان میں بچپن میں طے کی گئی شادی سے انکار کرنے والی لڑکی اور اس کے والدین کو مقامی پنچایت نے نہ صرف 16 لاکھ بھارتی روپے (تقریباً 25 لاکھ پاکستانی روپے) جرمانہ کردیا بلکہ علاقہ بدری کا حکم بھی دے دیا۔

مزیدپڑھیں:سیلفی لیتی نوجوان لڑکی کے ساتھ انتہائی المناک واقعہ،جل کر بھسم ہو گئی

سنتا دیوی میگھوال نامی لڑکی کا کہنا ہے کہ جب اس کی شادی طے کی گئی تو وہ صرف گیارہ ماہ کی تھی جبکہ لڑکے کے عمر 9سال تھی۔ جب وہ 16 سال کی ہوئی تو لڑکے والوں نے اس کی رخصتی پر اصرار شروع کردیا لیکن لڑکی کا موقف تھا کہ یہ شادی اس کی مرضی کے بغیر طے کی گئی تھی لہٰذا وہ اس پر راضی نہ تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ اپنی تعلیم مکمل کرکے ٹیچر بننا چاہتی ہے اور پڑھائی درمیان میں چھوڑ کر شادی نہیں کرسکتی۔ لڑکے والے معاملہ روہی چن خورد گاﺅں کی پنچایت میں لے گئے جہاں لڑکی والوں کو بتایا گیا کہ انہیں بہرصورت رخصتی کرنا ہوگی یا دوسری صورت میں 16لاکھ جرمانے اور علاقہ بدری کی سزا کا سامنا کرنا ہوگا۔

مقامی این جی او سارتھی ٹرسٹ کا کہنا ہے کہ وہ متاثرہ خاندان کی مدد کررہے ہیں اور پنچایت کے ارکان کے خلاف قانونی کارروائی کی بھی تیاری کررہے ہیں۔ بھارتی قانون کے مطابق کم عمری کی شادی کی اجازت نہ ہے لیکن اس کے باوجود تقریباً 47 فیصد خواتین کی شادیاں کم عمری میں کی جاتی ہیں جبکہ ریاست راجستھان میں یہ شرح 65 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...